ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے؟؟؟

تاریخ گواہ ہے کہ کبھی بھی کوئی قوم خانہ جنگی کا شکار رہتے ہوئے اپنے دشمن پر غالب نہ آ سکی۔۔۔۔۔۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ملکِ پاکستان میں95-98% آبادی مسلمانوں کی ہے۔لیکن گزشتہ دنوں جب غازی ممتاز حسین قادری نور اللہ تعالی مرقدہ کو پھانسی دی گئی تو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس ملک میں مسلمانوں کی حیثیت ایک اقلیت کی سی ہے۔۔۔۔۔اسی وطنِ عزیز کی سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنائی اور اسے مجرم قرار دیا،لیکن یہی سیاسی پارٹیاں اسے شہید کہتی ہیں اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔نواز حکومت نے ایمل کانسی کو خودامریکہ کے حوالے کیااور امریکی عدالت میں اسے سزائے موت سنا دی گئی۔لیکن آمریت کے دور کے باوجوداس کا جنازہ لائیو ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔۔۔۔۔مگر جب اسلام کے نام پر اپنی جان دینے والے ممتاز حسین قادری رحمہ اللہ تعالی کی باری آتی ہے توملکِ پاکستان کے سیاستدان ہوں یا نیوز چینلز۔۔۔۔۔سبھی کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔تاریخِ پاکستان کا سب سے بڑا جنازہ لیکن میڈیا کا بلیک آؤٹ۔۔۔۔یوں لگتا تھا جیسے سبھی نے دین کے نام کو گالی سمجھ لیا ہو اور مکالفتِ اسلام کی قسم کھا لی ہو۔۔۔

ان حالات میں میرے ذہن میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ وسلم کا فرمان بار بار گردش کرتا رہا، فرمایا:

يُوشِكُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ الْأُمَمُ مِنْ كُلِّ أُفُقٍ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ عَلَى قَصْعَتِهَا

قریب ہے کہ قومیں ہر جانب سے مل کر تم پر ٹوٹ پڑیں ، جیسے کھانے والے کھانے کے برتن پہ ٹوٹ پڑتے ہیں۔

صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے دریافت کیا:

يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا يَوْمَئِذٍ

یا رسول اللہ کیا ایسا ان دنوں ہماری کمی کے سبب ہو گا؟

سید الرسل صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنْ تَكُونُونَ غُثَاءً كَغُثَاءِ السَّيْلِ يَنْتَزِعُ الْمَهَابَةَ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّكُمْ وَيَجْعَلُ فِي قُلُوبِكُمْ الْوَهْنَ

تم اس وقت کثرت میں ہو گے۔لیکن تم لوگ سیلاب کے جھاگ(یا کوڑا کرکٹ) کی مانند ہو جاؤ گے جو تمہارے دشمنوں کے دلوں سے ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں کمزوری ڈال دے گا۔

(مسند احمد بن حنبل حدیث نمبر۲۲۳۹۷)

گو اس حدیث میں ‘‘دشمنوں کے دلوں سے ہیبت چلے جانے اور مسلمانوں کے دلوں میں کمزوری’’ آجانے کا سبب بھی ذکر فرمایا،لیکن حدیث کا مذکورہ بالا جملہ یاد آتے ہی میرے ذہن میں یہ مبارک آیت گردش کرنے لگ جاتی:

وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ

اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑ و نہیں کہ پھر بزدلی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی۔

بلاشبہ ہمارے موجودہ حالت کے اسباب میں سب سے زیادہ اثر انداز سبب ‘‘ہمارے آپس کے اختلافات ، آپس کا افتراق وانتشار’’ ہے۔اس افتراق وانتشار نے جہاں دینداروں کے ایک بہت بڑے طبقے کو الجھن میں  مبتلا کیا ہوا ہے ، وہاں اسلام کے نام پہ حاصل کیے جانے والے ملک میں ‘‘دینِ اسلام کا نام لینے والوں’’ کو یتیم جیسا بنادیا ہے۔مذکورہ بالا فرمانِ رسالت کے مطابق ‘‘اسلامی ملک’’ میں ‘‘اسلام کے نام لیواؤں’’کی حیثیت سیلاب کے جھاگ جیسی ہو چکی ہے اور دشمنانِ دین کی نظروں سے دینداروں کی ہیبت وحیثیت مٹ چکی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ کبھی کوئی قوم ‘‘اتفاق واتحاد کے تقاضوں’’کو پسِ پشت ڈال کر کامیابی کے رستے پر نہ چل سکی،چیونٹیوں کی فوج بھی اگر متحد ہو گئی تو بڑے سے بڑے اژدھا کو مٹانے میں کامیاب ہو گئی،لیکن جیسے ہی کسی قوم نے افتراق وانتشار کو اپنایا،اس قوم کا شیرازہ بکھرگیا۔اور چونکہ اسلام باقی رہنے والا دین ہے،اور باہمی اتفاق واتحاد کے بغیر کسی قوم کی بقاء کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔لہذا خالقِ کریم جل مجدہ اور حبیبِ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جابجا اتفاق واتحاد کا درس دیا اور افتراق وانتشار سے سختی سے منع فرمایا۔

اللہ کریم جل مجدہ کا فرمانِ گرامی ہے:

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا  ۠وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِھٖٓ اِخْوَانًا  ۚ وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا  ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِھٖ لَعَلَّكُمْ تَھْتَدُوْنَ     ١٠٣؁

اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں نہ بٹ جانا) اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے  تو اس نے تمہیں اس سے بچادیا  اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم ہدایت پاؤ۔

ایک آیت بعد فرمایا:

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَھُمُ الْبَيِّنٰتُ  ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ        ١٠٥؁ۙ

اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑگئی بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آچکی تھیں اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے،

فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ  ۭ اِنَّمَآ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ    ١٥٩؁

وہ جنہوں نے اپنے دین میں جدا جُدا راہیں نکالیں اور کئی گروہ ہوگئے  اے محبوب ! تمہیں ان سے کچھ علاقہ نہیں ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں بتادے گا جو کچھ وہ کرتے تھے۔

اور فرمایا:

وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ  31؀ۙ مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا  ۭكُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ  32؀

اور مشرکوں سے نہ ہو، ان میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا  اور ہوگئے گروہ گروہ، ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اسی پر خوش ہے۔

‘‘وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ’’(یعنی سچوں کے ساتھ ہو جاؤ)بھی درسِ اتحاد ہے اور‘‘اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ’’(مسلمان بھائی بھائی ہیں) بھی درسِ اتفاق۔‘‘ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ  ’’(اور آپس میں صلح رکھو۔)کے بھی یہی معنی اور ‘‘فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ’’(تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو)کا بھی یہی حاصل۔

اور نگاہ جب فرامینِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پہ ڈالی جائے تو یوں لگتا ہے جیسے مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم امتِ مسلمہ کی بقاء کا راز ہی ‘‘اتفاق واتحاد’’ کو قرار دے رہے ہوں۔کبھی فرماتے ہیں:

            ‘‘یداللہ علی الجماعۃ’’

                (یعنی رب کریم کا دست (جیسا اس کی شان کے لائق ہے)جماعت پر ہے۔مستدرک حدیث ۱۹۳)

                اور کبھی:

            ‘‘اتبعوا السواد الاعظم’’

                (یعنی بڑی جماعت کی پیروی کرو۔مستدرک حدیث ۱۹۳)

                کی تلقین کرتے ہیں۔ کبھی:

            ‘‘الجماعۃ رحمۃ والفرقۃ عذاب’’

                جماعت رحمت ہے اور جماعت سے جدائی عذاب ہے۔

                (مسندِ احمد ۲۷۴۸۱)

                کا درس دیتے ہیں تو کبھی:

            ‘‘علیکم بالجماعۃ وایاکم والفرقۃ’’

                یعنی جماعت کو لازم پکڑو اور جماعت سے جدائی سے بچو۔

                (جامع ترمذی حدیث۵۶۱۲)

                کا سبق سکھاتے ہیں۔کبھی فرماتے ہیں:

            ‘‘من اراد بحبوحۃ الجنۃ فلیلزم الجماعۃ’’

                یعنی جو جنت کے درمیان(یعنی سب سے بہترحصے میں)رہنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ جماعت کو تھامے رکھے۔

                (جامع ترمذی حدیث۵۶۱۲)

                اور کبھی جماعت کے فائدہ اور فرقہ بندی کے نقصان کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

            ‘‘من عمل للہ فی الجماعۃفاصاب تقبل اللہ منہ وان اخطأ غفر لہ ومن عمل للہ فی الفرقۃ فان اصاب لم یتقبل اللہ منہ وان اخطأ تبوأ مقعدہ من النار’’

                یعنی جو شخص جماعت میں رہ کر اللہ کریم جل مجدہ کے لیے عمل کرے اور درست کرے تو اللہ کریم جل مجدہ اس کا عمل قبول فرماتا ہے اور اگر اس سے خطا ہو تو اس کی بخشش فرما دی جاتی ہے۔اور جو شخص جماعت سے جدا ہو کر اللہ تعالی کے لیے عمل کرے،اگر درست کرے تو اللہ تعالی اس سے قبول نہیں فرماتا،اور خطا کرے تو اس نے اپنا ٹھکانا آگ بنا لیا۔

                (معجم اوسط حدیث ۰۷۱۵)

                کبھی اہلِ ایمان کو ایک عمارت کے ساتھ تشبیہ دے کر درسِ اتحاددیتے ہیں،فرمایا:

            ‘‘المؤمن للمؤمن کالبنیان یشد بعضہ بعضا’’

                ایمان دار ایمان دار کے لیے عمارت کی مانند ہے،اس کا بعض دوسرے بعض کو قوت دیتا ہے۔

                (صحیح بخاری حدیث۱۸۴،۶۴۴۲،۶۲۰۶، صحیح مسلم۰۵۷۶)

                اور کبھی اہلِ ایمان کو ایک بدن کے ساتھ تشبیہ دے کر اتحاد واتفاق کی اہمیت سمجھاتے ہوئے فرمایا:

            ‘‘تری المؤمنین فی تراحمھم وتوادھم وتعاطفھم کمثل الجسد اذا اشتکی عضو تداعی لہ سائر جسدہ بالسہر والحمی’’

                یعنی تو مومنوں کو آپس میں مہربانی،باہمی محبت اور باہمی نرمی میں ایک بدن کی مانند پائے گا کہ جب ایک عضو کو تکلیف ہو تو سارا بدن رت جگے اور بخار کے ذریعے اس کا ساتھ دیتا ہے۔

                (صحیح بخاری حدیث۱۱۰۶)

جماعت کے ساتھ رہنے میں آنے والی تکالیف کو برداشت کرنے اور ہر حال میں جماعت کے ساتھ رہنے کا درس دیتے ہوئےفرمایا:

مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً

(صحیح بخاری حدیث 7054 ، صحیح مسلم حدیث 4896)

جو شخص اپنے امیر سے ایسی چیز دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو اسے چاہییے کہ صبر کرے۔کیونکہ جو شخص بالشت بھر بھی جماعت سے جدا ہوا تو جاہلیت کی موت مرا۔

ایک روایت میں یوں ہے:

‘‘من فارق الجماعة شبرا فارق الإسلام’’

(مسند البزار حدیث۲۹۳۳ ، الابانۃ الکبری لابن بطہ حدیث ۱۲۸)

جس نے جماعت کو بالشت بھر بھی چھوڑا اس نے اسلام کو چھوڑ دیا۔

‘‘اللہ کی رسی’’ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

‘‘حبل الله الجماعة’’

(مجمع الزوائد ج۶ص۳۵۸)

اللہ کی رسی جماعت ہے۔

اور اگر ان احکامِ اسلامیہ کی فہرست تیار کی جائے ،جن کی مشروعیت میں اصل حکمت باہمی اتحاد واتفاق کی فضا کو برقرار رکھنا ہے تو یقینا یہ ایک لمبی فہرست بنے گی۔بطورِ مثال: باجماعت نماز،اجتماعِ جمعہ،اجتماعِ عیدین،اجتماعِ حج،چغلی کی حرمت،حرمتِ غیبت،حسنِ ظن کا حکم،سوءِ ظن سے اجتناب،سلام کا افشاء،کھانا کھلانا، برائی کا جواب اچھائی سے دینا، دوسروں کی حاجت روائی،خوش اخلاقی،ہدیہ دینا،باہمی محبت۔۔۔۔۔اور باہمی محبت تو ایسا وصف ہے کہ ایمان کے کمال کو اس پہ موقوف فرمایا اور فرمایا:

لاَ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَوَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى شَىْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلاَمَ بَيْنَكُمْ

تم جنت میں نہ جاؤ گے جب تک ایمان دار نہ بن جاؤ اور تم ایمان دار نہ بنو گے جب تک آپس میں محبت نہ رکھو۔کیا میں تمہیں ایسی چیز پہ رہنمائی نہ کروں کہ جب تم وہ کرو تو آپس میں محبت کرنے لگ جاؤ؟؟؟ اپنے بیچ ‘‘سلام’’ کو عام کرو۔

(صحیح مسلم حدیث۲۰۳)

یونہی مسلمانوں کے بیچ صلح بھی اتحادِ امت کا بہت بڑا سبب ہے اور شاید اسی لیے مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّدَقَةِ

میں تمہیں روزہ ، نماز اور صدقہ کے درجہ سے زیادہ بہتر کے بارے میں نہ بتاؤں؟

صحابہ نے عرض کی:کیوں نہیں یا رسول اللہ!

تو جنابِ سیدِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

إِصْلاَحُ ذَاتِ الْبَيْنِ۔

بیچ کی صلح۔

(سنن ابی داود حدیث۴۹۲۱)

الغرض ان احکام کی فہرست بہت طویل ہے جن میں مرکزی حکمت ‘‘اتحادِ امت’’ ہے۔لیکن افسوس!!!آج انہی احکام کا درس دینے کے باوجود ہم ان میں پوشیدہ حکمت سے صرفِ نظر کرتے ہوئے آپس میں دست بگریباں ہیں۔۔۔چھوٹی چھوٹی باتوں پہ تنازعات اور کبھی نہ ختم ہونے والے جھگڑے،معمولی اختلافات بھی ہمارے بیچ نفرتوں کی اتنی بڑی خندق کھود دیتے ہیں کہ ہمارے دنیا سے چلے جانے کے باوجود نفرتوں کی وہ خندق بھر نہیں پاتی۔

اختلافِ رائے تو ہمیشہ سے چلا آیا اور امت کے سرداران صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے بیچ بھی رونما ہوا۔۔۔لیکن اختلافِ رائے کے باوجود نفرتوں کا بازار گرم نہ ہوا،بلکہ ایک دوسرے کی عزت کا پاس لحاظ رہا۔

کریب ،حضرت عبد اللہ بن عباس کو وتر کے بارے میں حضرت معاویہ کا عمل بتاتے ہیں جو حضرت عبد اللہ بن عباس کی رائے کے خلاف تھا،لیکن‘‘اختلافِ رائے کے باوجود’’ جواب میں حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں:

‘‘دعه فإنه صحب رسول الله صلى الله عليه و سلم’’

ان کی بات نہ کرو،کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔

اور اس کے بعد والی روایت میں ہے:

‘‘إنه فقيه’’

بے شک وہ فقیہ ہیں۔

(صحیح بخاری حدیث ۳۵۵۳،۳۵۵۴)

اختلافِ رائے کا تعلق اگر دلائل کی حد تک رہے اور نفرت کی صورت اختیار نہ کرے،جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا عمل مذکور ہوا۔۔۔تو بلاشبہ امت کا باہمی اتحاد واتفاق برقرار رہ سکتا ہے۔لیکن جہاں مسائل کی درجہ بندی کا لحاظ کیے بغیر ہر مسئلہ میں فریقِ مخالف پر لعن طعن کو واجب سمجھا جائے،وہاں اتحاد واتفاق کی فضا کیسے قائم رہ سکتی ہے؟

لیکن موجودہ حالات، liberalism، secularism اور Qadianismکی منظم سازشیں ہمیں جھنجھوڑ رہی ہیں کہ ہم منظم ہو جائیں،متحد ہو جائیں،مل بیٹھیں،اور مل کر اسلام دشمن قوتوں کا مقابلہ کریں۔۔۔۔

ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں

ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے

از قلم:

محمد چمن زمن نجم القادری

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • استقبل ربيع الأول
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری