غزوہ بدر

تحریر:محمد شہزادخان (فاضل جامعہ غوثیہ رضویہ باغ حیات علی شاہ سکھر) (مدرس جامعہ ربانیہ غوثیہ ماڈل کالونی کراچی)

 
          بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدللہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیدالمرسلین وعلیٰ آلہ واصحابہ المجاھدین وعلیٰ ازواجہ امھات المؤمنین  
              امّابعد لقد نصر کم اللہ ببدروانتم اذلّۃ۔
غزوہ بدرتاریخ اسلام کا وہ معرکہ ہے جب اسلام وکفر، حق وباطل کی پہلی ٹکر ہوئی،اس معرکہ میں فرزندانِ اسلام کی تعدادکفار کے مقابلے میں ایک تہائی تھی،بے سروسامانی کاعالم تھا جبکہ باطل،حق کامقابلہ کرنے کیلئے بڑے کرّوفر اور غرورورعونت کیساتھ میدان میں اترالیکن اسے ایسی ہزیمت کاسامناکرناپڑاکہ پھر کبھی بھی اسے حق کو اس شان سے للکارنے کی ہمت نہ ہوئی۔مؤرخین اسے غزوہ بدر کبریٰ کے نام سے یاد کرتے ہیں جبکہ قرآن عظیم میں یوم الفرقان کے لقب کیساتھ ذکر کیاگیاہے یعنی وہ دن جب حق اور باطل کے درمیان فرق اسطورپرواضح ہواکہ اندھوں اوربہروں کوبھی پتہ چل گیا کہ حق کا دعویدار کون ہے اور باطل کامحب کون ہے،
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے 
وماانزلناعلی عبدنایوم الفرقان یوم التقیٰ الجمعٰن
(سورہ الانفال:۱۴)
                       اور جیسے ہم نے اتارا اپنے بندے پر فیصلے کے دن جس روز دولشکر آمنے سامنے ہوئے تھے
 رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین سوتیرہ افراد کولے کرقریش کے تجارتی قافلے کوروکنے کیلئے نکلے جوکہ شام سے ابو سفیان کی سربراہی میں واپس آرہاتھا،ابوسفیان نے جب مسلمانوں سے خطرہ محسوس کیا تو قبیلہ غفار کے ایک شخص ضمضم کو اجرت دے مکہ بھیجا کہ وہ قریش کو اس معاملے کی خبر دے اور انہیں کہے کہ اگر تم قافلے کی سلامتی چاہتے ہو تو جلدی مدد کیلئے آؤ،چنانچہ ابو جہل نے جب یہ سناتو بڑے کروفر رعب ودعب کے ساتھ مسلمانوں کامقابلہ کرنے کیلئے لشکر جرارکیساتھ اس اندازمیں نکلا کہ اسکے بارے میں مؤرخین نے لکھا
ومعھم القیان وھن الاماء المغنیات یضربن بالدفوف یغنّین بھجاء المسلمین
السیرۃ النبویۃ لابن کثیرج۲ ص۷۸۲۔السیرۃ النبویۃ عرض وقائع ج۲ص۲)
ان کیساتھ رقص کرنے والی کنیزیں تھیں وہ دفیں بجارہی تھیں انہیں جوش دلانے کیلئے گارہی تھیں اور مسلمانوں کی ہجو میں اشعار پڑھ رہی تھیں 
ابوسفیان تو راستہ بدل کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور ابوجہل کی طرف پیغام بھیجاکہ اب مدد کی کوئی ضرورت نہیں لیکن لعین ابو جہل (علیہ ماعلیہ) نے لشکر کشی پر اصرار کیا اور مقابلہ کرنے کیلئے سردارانِ قریش کو لے کر میدان میں اترا،مسلمانوں کے اس قلیل لشکر نے ایک ہزار کفار کا مقابلہ دلیری سے کیا اور اللہ تعالی نے مسلمانوں کی مدد فرماکر انہیں عظیم کامیابی عطافرمائی اور مسلمانوں کا رعب ودبدبہ ہمیشہ کیلئے ان پر مسلط کردیا۔
صحابہ کی جان نثاری
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام سے جنگ میں جانے سے پہلے مشورہ کیا توصحابہ کرام نے مناسب مشورے پیش کئے چنانچہ حضرت مقداد اٹھے اور عرض کی یارسول اللہ!ہم وہ بنی اسرائیل نہیں جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا اے موسی!تم جاؤ اور تمہارارب جنگ کیجئے ہم یہاں بیٹھے ہیں،بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے لڑیں گے۔
فوالذی بعثک بالحق لوسرت بناالی برک الغماد لجالدنا معک من دونک حتی تبلغہ 
اگرآپ ہمیں برک غماد تک بھی لے چلیں تو ہم آپ کے ساتھ ملکر قتال کریں گے یہاں تک کہ وہاں پہنچ جائیں،
اس کے بعد انصارمیں سے حضرت سعد کھڑے ہوئے انہوں نے احسن انداز میں جانثاری کا ثبوت دیتے ہوئے کہا
فوالذی بعثک بالحق لواستعرضت بناالبحرفخصتہ لخضناہ معک ماتخلف بنا رجل واحد(زادالمعادج۲ص۳۵۱۔السیرۃ النبویہ لابن ھشام ۸۷۲۔السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج۲ص۳۹۳۔ السیرۃ النبویۃ عرض وقائع ج۳ص۷۔السیرۃ الحلبیۃ فی سیرۃ الامین ج۲ص۵۸۳)
  اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اگرآپ ہمیں سمندر کے سامنے لے جائیں اور اس میں چھلانگ لگادیں تو ہم بھی اس میں چھلانگ لگادیں گے ہم میں سے کوئی ایک بھی پیچھے نہیں رہے گا۔
 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام کے اس جواب سے بہت خوش ہوئے اورفرمایا 
                           واللہ لکانی الآن انظرالی مصارع القوم 
                                 خداکی قسم میں ابھی قوم کی جائے قتل کودیکھ رہاہوں 
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کادعاء مانگنا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے لشکر کی بے سروسامانی کودیکھ کر اللہ تعالی کی بارگاہ میں گریہ وزاری کی 
اللھم انھم حفاۃ فاحملھم وعراۃ فاکسھم وجیاع فاشبعھم وعالۃ فاغنھم من فضلک“
(سنن ابی داؤد ۹۴۷۲۔سبل الھدی والرشاد ج۴ ص۳۲۔مغازی الواقدی ج۱ص۶۲۔السیرۃ الحلبیہ فی سیرۃ الامین ج۲ص۲۸۳،۷۸۳۔السیرۃ النبویۃ عرض وقائع ج۳ص۳۵)
الٰہی ……!  یہ پیادہ ہیں انہیں سواری عطافرما،یہ ننگے ہیں انہیں کپڑے دے،یہ بھوکے ہیں انہیں کھاناکھلا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبہ میں تشریف فرماتھے اور دعامانگ رہے تھے۔
 
اللھم انی انشدک عہدک ووعدک اللھم ان شئت لم تعبدبعد الیوم
 اے اللہ!میں تجھے اس عہداوروعدہ کاواسطہ دیتاہوں  جو تونے میرے ساتھ کیاہے۔
ائے اللہ:اگرتواسے پورا نہیں کرے گا توپھر تاابد تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔حضرت صدیق اکبر نے آپکوہاتھوں سے پکڑا اور عرض کی  یارسول اللہ!یہ کافی ہے۔آپ نے اپنے رب پر اصرار کی حد کردی ہے  آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس وقت زرہ پہن رکھی تھی آپ اس حالت میں نکلے کہ یہ آیت پڑھ رہے تھے
سیھزم الجمع ویولّون  الدبر بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھیٰ وامر
عنقریب پسپاہوگئی یہ جماعت اورپیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے بلکہ ان کے وعدے کا وقت روز قیامت ہے اور قیامت بڑی خوفناک اور تلخ ہے۔
(الصحیح البخاری ۵۱۹۲،۳۵۹۳،۵۷۸۴۔الرحیق المختوم ج۱ص۹۷۱۔الرسالۃ المحمدیۃج۱ص۷۷۱۔الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ج۷۱ ص۶۶۔السیرۃ الحلبیہ فی سیرۃ الامین ج۲ص۵۰۴۔السیرۃ النبویۃ عرض وقائع ج۳ ص۷۲)
 کفارکی قتل گاہوں کی خبر 
 جنگ سے ایک دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میدان جنگ کامعائنہ کیا،حضور جب گزرتے تو فرماتے:
                        ھذامصرع فلان غدا انشاء اللہ
                             یہ کل فلاں کی جائے قتل ہوگا اگر اللہ نے چاہا،
 آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار کے نام لے لے کر بتایا،جنگ کے اختتام پر ان مرداروں کی لاشیں اسی جگہ پرہی تھیں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نشان لگایاتھا۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا
فوالذی بعثہ باحق مااخطأواالحدود التی حدھا۔
(الصحیح المسلم ۲۰۴۷۔مسند ابی یعلی ۰۴۱۔ نسائی ۴۷۰۲۔مسند احمد ۲۸۱۔صحیح ابن حبان ۲۲۷۴۔مصنف ابن ابی شیبہ۰۸۴۔السیرۃ النبویۃ عرض وقائع ج۳ ص۹۸)
 
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا وہ ان حدود سے کچھ بھی آگے پیچھے نہ تھے جن کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نشان دہی فرمائی تھی۔
 شہداء بدر کے اسماء
اس عظیم معرکے میں کتنے خوش نصیبوں کو خلعت شہادت سے سرفرازکیاگیااس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں اسحاق کا قول یہ ہے کہ ان کی تعداد گیرارہ تھی لیکن واقدی نے مغازی میں ذکرکیاہے کہ عبداللہ بن جعفر نے مجھ سے حدیث بیان کی کہ میں نے زھری سے سوال کیاکہ کتنے مسلمان بدرمیں شھید ہوئے۔آپ نے کہا چودہ۔جن میں چھ مہاجر اور آٹھ انصار تھے۔پھر انہیں شمار کیا۔
(مغازی للواقدی ۱/۴۴۱،۵۴۱)
 
جمہور علماء مغازی اور سیر اور محدثین نے اسی قول کوترجیح دی ہے۔
اور وہ چودہ صحابہ کے نام درج ذیل ہیں۔
 
 (1)عبیدہ بن الحارث (2)عمیر بن ابی وقاص(3)عمیربن حمام(4)سعد بن خیثمہ (5)ذوالشمامین بن عمربن نضلہ خزاعی (6)مبشربن عبدالمنذر(7)ماقل بن بکیر اللیشی (8)مہجع(حضرت عمر فاروق کاآزادکردہ غلام)(9)صفوان بن بیضاء الفہری (10)یزیدبن حارث خزرجی (11)رافع بن معلی(12)حارث بن سراقہ (13)عوف بن عفراء(14)معوذبن عفراء۔
الروض الانف فی شرح غریب السیرمیں بھی ان شھدائے بدر کے نام اور کس صحابی کو کس کافر نے شھید کیا مفصلا ذکر فرمائے ہیں۔
(الروض الانف فی غریب السیر ج۳ ص۴۶۱)
شھدائے بدرکی تعداد کو ایک اور جگہ پر یوں ذکر کیاگیاہے
اماالمسلمون فاستشھدمنھم یوم بدراربعۃ عشر۔
مع المصطفیٰ ج۱ص۳۴۲۔
            بہرحال مسلمان توان میں سے بدر کے دن چودہ شہید کردئے گئے تھے۔: 
شرکاءِ بدر کی فضیلت
غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کو اللہ تعالی نے عظیم نے مرتبہ عطافرمایااور بدری باقی صحابہ سے افضل ہیں،اسی لئے خلفائے راشدین بدری صحابہ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔رفاعہ بن رافع زرقی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں (انکے والد اھل بدر میں سے ہیں)کہ جبرئیل امین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی
ماتعدّون اھل بدرفیکم قال من افضل المسلمین او کلمۃ نحوھا قال وکذلک من شھد بدرا من الملائکۃ۔
(الصحیح البخاری  رقم۲۹۶۳)
 آپکے صحابہ میں اہل بدر کاکیامرتبہ ہے۔آپ نے فرمایا:مسلمانوں میں افضل یا اس کی مثل کوئی کلمہ۔جبریل نے کہا یونہی فرشتوں میں سے بدر کے میدان میں حاضر ہونے والے فرشتے باقی ملائکہ سے افضل ہیں 
حضرت حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ میدان بدر میں شھیدہوگئے توان کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں۔اگر حارثہ جنت میں ہے تومیں صبرکروں گی اور اگر جنت میں نہیں توآپ بتائیں میں کیاکروں؟آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:تیرے لئے ہلاکت ہو 
 
انہ فی جنۃ الفردوس
(الصحیح البخاری رقم۳۸۶۳)
 بیشک وہ جنت الفردوس میں ہے۔
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے طویل واقعے میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا
لعل اللہ اطلع علی اھل بدرفقال اعملوا ماشئتم  فقد وجبت لکم الجنۃ۔
(الصحیح البخاری رقم ۴۸۶۳) 
اہل بدر کی فضیلت کی وجہ یہی ہے کہ انہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں اسلام کی سربلندی وسرفرازی کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور ان صحابہ کی اس وقت کی کاوشوں سے دین کی جڑیں مضبوط سے مضبوط ترہوگئیں اور کفر کے دل میں ہمیشہ کیلئے اللہ تعالی نے مسلمانوں کارعب ڈال دیا۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری