آپ کے امتحان ہو رہے ہیں نا!!!!

دنیا کے امتحان میں پاس ہونے کے لیے آخرت میں فیل ہونے کا سامان نہ کریں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آپ کے امتحان ہو رہے ہیں نا!!!!!

ایک مسلمان طالبِ علم کو دنیا کے ہر امتحان میں اپنے خالق ومالک جل مجدہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے ، کیونکہ جو اس کریم جل مجدہ پر بھروسہ رکھتا ہے ، وہ کریم جل مجدہ اسے خائب وخاسر نہیں فرماتا۔

مسلمان طالبِ علم کو امتحان میں کامیابی کے لیے ہر ذریعہ اور ہر سبب کو بروئے کار لانا چاہیے ، مگر صرف وہ ’’جس کا شریعتِ اسلامیہ اجازت دیتی ہے‘‘،نہ کہ نقل جو دھوکا اور حرام ہے۔مسند احمد بن حنبل میں حبیبِ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا فرمانِ گرامی ہے،فرمایا:’’جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں۔‘‘ لہذا ہرگزہرگزہرگز نقل نہ کی جائے۔

  • امتحان میں کامیابی کے لیے اللہ کریم جل مجدہ کے دربار میں دعا کرتے رہیں،دعا ہرگز نہ چھوڑیں۔
  • رات کو بروقت سوئیں کہ صبح بروقت اٹھ سکیں۔
  • صبح اٹھ کر نمازِ فجرباجماعت اداء کریں۔اور تلاوتِ قرآن کریم کریں۔
  • کمرۂ امتحان میں ضرورت پڑنے والی تمام اشیاء کو جمع کریں ، جیسے:قلم،پینسل،ربڑ،روشنائی،سیاہی چوس،گتہ،کوریکشن پین،گھڑی۔
  • کتاب،نوٹس ، منی کمپیوٹر،کیلکولیٹر،موبائل فون ہرگز کمرۂ امتحان میں نہ لے کر آئیں۔
  • رول نمبر سلپ ساتھ لینا ہرگزنہ بھولیں۔
  • والدین کو راضی کیے بغیر گھر سے نہ نکلیں،ان کی دعا لیں،اگر آپ ہوسٹل میں ہیں تو انہیں کال کریں،ان سے دعاء کی درخواست کریں اور اگر آپ اپنے گھر سے آ رہے ہیں تو ان کو راضی کر کے نکلیں ، ان کی دعا لیں ، ہوسکے تو والد اور والدہ دونوں کے پاؤں چومیں اور پھر گھر سے نکلیں۔
  • گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھیں:

         بسم الله ، توكلت على الله ، ولا حول ولا قوة إلا بالله ، اللهم إني أعوذ بك أن أَضِلَّ أو أُضَلَّ ، أو أَزِلَّ أو أُزَلَّ ، أو أًظْلِمَ أو أُظْلَمَ ، أو أجْهَلَ أو يُجْهَلَ عَلَيَّ

  • اس اندازے سے گھر سے نکلیں کہ پرچہ ہونے سے کم از کم آدھ گھنٹہ پہلے امتحان گاہ پہنچ سکیں۔
  • امتحان گاہ پہنچ کر اپنی مقرر کردہ نشست پر اپنے رول نمبر کے حساب سے بیٹھیں۔
  • امتحان گاہ پہنچ کر ایسا کوئی جملہ نہ بولیں کہ جس سے آپ کے ساتھی پریشان ہوں یا امتحان کے بارے میں گھبراہٹ کا شکار ہوں۔
  • عام طور پہ پرچہ شروع ہونے سے پندرہ منٹ پہلے طالبِ علم کو جوابی کاپی دے دی جاتی ہے۔اس پر کچھ بھی لکھنے سے پہلے بسم اللہ شریف پڑھیں،ان شاء اللہ اس کی برکتیں شاملِ حال رہیں گی۔
  • جوابی کاپی کے سرورق پہ تمام کالموں میں مطلوبہ معلومات انتہائی احتیاط سے درست اور صاف ستھرے انداز میں تحریر کریں۔
  • جب سوالیہ پرچہ دیا جائے تو یہ دعا پڑھیں:

         ربّ اشرح لي صدري ويسّر لي أمري

  • پرچہ پر درج ہدایات کا بغور مطالعہ کریں۔
  • ہرہرسوال کو پوری توجہ سے پڑھیں۔ماہرینِ تعلیم  کا کہنا ہے کہ پرچہ کے لیے دئیے گئے وقت کا دس فیصد وقت سوالات کو مکمل توجہ سے پڑھنے میں صرف کرنا چاہیے۔
  • آسان سوالات پر پہلے حل کرنے کے لیے نشان لگا دیں۔
  • کسی سوال کو پڑھتے ہوئے کوئی بات ذہن میں آئے تو اسے بطورِ اشارہ سوالیہ پرچہ پر ہی لکھ لیں، کیونکہ تفصیلی جواب لکھتے وقت یہ چیز آپ کو فائدہ دے گی۔
  • وقت کو سوالات کے حساب سے تقسیم کر لیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ بعض سوالات میں زیادہ وقت صرف ہو جائے اور یوں تمام سوالات کے جوابات تحریر کرنے سے قبل دیا گیا وقت ختم ہو جائے۔
  • پہلے آسان سوالات حل کریں،اس کے  بعد وہ سوالات جن کے لیے قدرے زیادہ وقت درکار ہے مگر ان کے جوابات آپ کے ذہن میں موجود ہیں،اور آخر میں ان سوالات کو حل کریں جن کے لیے آپ کو سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔
  • سوالات حل کرنے میں ان کے نمبروں کو بھی سامنے رکھیں،جن سوالات کے نمبر زیادہ ہیں انہیں پہلے حل کرنے کی کوشش کریں اور جن کے نمبر کم ہیں انہیں مؤخر کردیں۔
  • لازمی سوال ہرگز نہ چھوڑیں اور نہ ہی اس کے حل میں اتنی تاخیر کریں کہ مقررہ وقت ختم ہوجانے کا اندیشہ ہو،کوشش کریں کہ لازمی سوال کو پہلے حل کریں۔
  • جواب خوب سوچ سمجھ اورغوروفکرکے بعد لکھیں، عجلت ہرگز نہ کریں۔کیونکہ اللہ جل وعلا کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اچھی طرح غور وفکر کرنا اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور جلدی شیطان کی طرف سے ہے۔(شعب الایمان ۴۳۶۷)
  • جواب لکھنے سے پہلے شہ سرخی کے طور پر بڑے حروف میں صرف چند ایسے کلمات لکھیں جو آپ کی افکار کا خلاصہ وعنوان بنتے ہوں اور اس کے بعد اپنے ذہن میں موجود معلومات کو نظرِ قرطاس کریں۔
  • جواب کا مرکزی نقطہ یعنی مین پوائنٹ پہلی سطر میں لکھیں۔کیونکہ چیکر کو اسی نقطہ کی تلاش ہوتی ہے اور بہت ممکن کہ سطروں کے بیچ نظر نہ آئے اور یوں آپ کا درست جواب بھی غلط کر دیا جائے۔
  • اگر سوالیہ پرچہ میں لکھے سوال کی صحیح سمجھ نہ آ رہی ہو تو اپنی جگہ کھڑے ہو جائیں۔ناظمِ مرکزِ امتحان یا معاون مرکزِ امتحان خود آپ کے پاس تشریف لائیں گے۔
  • ناظمِ امتحان یا معاون مرکزِ امتحان سے صرف وہ بات پوچھیں جس کا تعلق سوال کو درست سمجھنے کی حد تک ہے،جواب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔
  • ناظمِ امتحان یا معاون مرکزِ امتحان سے سوال کرتے ہوئے یا کوئی بھی بات کرتے ہوئے مکمل طور پر باادب رہیں اور نہایت درجہ اعزازواکرام سے گفتگو کریں،اگرچہ وہ آپ کے استاذنہیں مگر علماء ضرور ہیں اور حبیبِ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:جو ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری امت سے نہیں۔(مسندِ احمد۲۲۷۵۵)
  • اگر پرچہ کے کسی سوال کی وجہ سے پریشانی ہو رہی ہو تو اللہ کریم جل مجدہ کو یاد کریں،اس کے حبیبِ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پہ درود بھیجیں۔
  • اگر کسی بات کو سمجھنے میں دشواری ہو رہی ہو تو دیگر طلبہ سے پوچھنے یانقل جیسا حرام کام کرنے کے بجائے اللہ کریم جل مجدہ سے دعا کریں،اور یہ دعا بھی کی جا سکتی ہے:

         يا معلّم ابراهيم علمني ويا مفهّم سليمان فهمني

  • جب پرچہ حل کر لیں تو اسے از اول تا آخر بغور پڑھیں۔ہرہرلفظ اور ہرہرسطر پر پوری توجہ دیں،اور بالخصوص جواب میں درج ہندسوں پر،کیونکہ صرف ایک ہندسہ کی غلطی سے جواب غلط ہو جائے گا۔
  • کل وقت کا کم از کم دس فیصد وقت جوابی کاپی کو بغور پڑھنے پر صرف کریں،اگر وقت باقی ہو تو بار بار پڑھیں اور جلدی اٹھ کر جانے والوں کی وجہ سے عجلت میں ہرگز نہ پڑیں۔

   نصیحت: یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ نقل کرنا حرام ہے۔اللہ جل مجدہ کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :جو دھوکا دے(فریب کرے ، خیانت کرے) وہ مجھ سے نہیں۔(صحیح مسلم ۲۹۵)

  • نہ نقل کریں اور نہ ہی نقل کروائیں،کیونکہ یہ گناہ پر تعاون ہے جسے قرآن نے حرام فرمایا۔
  • حرام سے بچیں اور اللہ کریم پر بھروسہ رکھیں،اللہ کریم جل مجدہ آپ کا حامی وناصر ہو گا۔ رب کریم نے فرمایا:

         وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ

         یعنی :اور جو اللہ پہ بھروسہ کرے ، اللہ کریم جل مجدہ اسے کفایت فرمانے والا ہے۔

         جب آپ نقل جیسے حرام کام کو اپنے خالق جل مجدہ کے لیے چھوڑیں گے تو آپ یقین کر لیں کہ نقل کے ذریعے جو کچھ آپ کو ملنے والا تھا ، اللہ کے دربار سے آپ کو اس سے بہتر ملنے والا ہے۔کیونکہ آقائے دوجہاں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

         إنك لن تدع شيئا اتقاء الله جل وعز إلا أعطاك الله خيرا منه

         جو چیز تو اللہ تعالی کے ڈر سے چھوڑتا ہے تو اللہ کریم جل مجدہ تجھے اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔(مسند احمد ۲۰۷۵۸)

  • نہ صرف یہ کہ خود نقل چھوڑیں ، بلکہ اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو بھی نصیحت کریں۔انہیں سمجھائیں کہ دنیا کے امتحان میں پاس ہونے کے لیے آخرت کے امتحان کو خطرے میں نہ ڈالو،قبر میں ہونے والے سوالات کو پیشِ نظر رکھو۔
  • اگر آپ کسی کو نقل کرتا دیکھیں تو ناظم مرکز امتحان یا معاون مرکز امتحان کو اطلاع کریں،کیونکہ اللہ جل مجدہ کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

         تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے تو اسے ہاتھ سے بدلے،یہ نہ کر سکے تو اپنی زبان سے بدلے ،یہ بھی نہ کر سکے تو اپنے دل سے بدلے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔(صحیح مسلم ۱۸۶)

         میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ کریم جل مجدہ آپ کو آپ کے اس امتحان میں اور دنیا اورآخرت کے ہرامتحان میں کامیاب فرمائے۔

تمہارا خیرخواہ

محمد چمن زمان نجم القادری

استاذ جامعہ غوثیہ رضویہ وجامعہ انیس المدارس

خطیب مکرانی مسجد سکھر

پی ڈی ایف میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری