گستاخان رسول کا انجام

شفیق الرحمن

 گستاخان رسول کا انجام واقعات کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایسی رفعتیں اور ایسی بلندیاں عطافرمادی ہیں کہ آپ ﷺ کی عظمت کا سورج ہمیشہ کے لیے نصف النہار ہو گیا… ان بلندیوں تک پہنچنا تو دور کی بات ان کی حقیقت اور کنہہ کی معرفت بھی انسانی دسترس سے باہر ہے۔ ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘کا مژدہ سنا کر جہاں آپ ﷺ کی شان اقدس کو اوج ثریا پر پہنچایاگیاوہیں اس شان و عظمت کی حفاظت کا ایسا بندوبست فرمایاگیا کہ جس بدبخت نے جب بھی اس کی طرف اپنا ناپاک ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی قدرت نے اس کو قیامت تک کے لئے رسوائے زمانہ بنا کر نشان عبرت بنا دیا۔

آئیے ! آج ایسے ہی چند بد بخت گستاخوں کے انجام کا تذکرہ کرتے ہیں۔ (۱) یہ توآپ کو معلوم ہوگا کہ جس طرح ابو لہب رسو لﷺ کی شان میں گستاخی کیا کرتاتھا، ویسے ہی اس کا بیٹا بھی گستاخ رسول تھا ۔ اس بدبخت نے رسول ﷺکو ایسی تکلیف پہنچائی کہ آپ ﷺ نے اس کے لیے ان الفاظ سے بددعافرمائی: ’’اے اللہ! اس پر تو اپنے کتوں میں سے ایک کتامسلط فرما‘‘ اسے جب اس بد دعاکا پتہ چلاتو باوجود کافر ہونے کے نیند حرام ہوگی ۔ ہروقت وہ اس خطرے سے دوچار رہتاتھا کہ کب محمد[۔ﷺ ]کی بددعارنگ لائے گی اور قدرت اس سے انتقام لے گی ۔ ایک دفعہ وہ تجارتی قافلے کے ہمراہ سفر پررواں دواںتھا کہ رات کا اندھیراچھاگیا۔اس نے لوگوںسے کہا: سارے قافلے والے سامان میرے ارد گرد رکھ دو اور خود بھی میرے آس پاس حلقہ بناکر پڑائو ڈالو تاکہ کوئی جانور حملہ آور نہ ہو سکے ۔لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ مگر رات کے کسی وقت نجانے کہاں سے کوئی درندہ آیا اور اس ملعون کو چیر پھاڑ کر چلاگیا۔ گستاخ رسولﷺ کا یہ انجام لوگوں نے دنیامیں اپنی آنکھوں سے دیکھا ،نجانے گستاخ رسولﷺ کاآخرت میں کیا بنے گا۔

  ایک عیسا ئی پادری نے اپنی تقریر شروع کرتے ہی پیغمبر اسلام ﷺکی شان اقدس میںگستاخی شروع کردی ۔ اتفاق سے وہاں قریب ہی ایک تاتارخانی سپاہی کا شکاری کتابندھا ہوا تھا۔ اس کتے کے کان میں جب پادری کے الفاظ پڑے تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ سخت طیش میں آگیاہے اور پھر اس نے اپنی رسی چھڑاکر پادری پر حملہ کردیا۔ لیکن عین اسی لمحے لوگ آگے بڑھے ،پادری کو اس عذاب سے خلاصی دلائی اور کتے کو دوبارہ باندہ دیاگیا۔یہ صورت حال دیکھ کر بعض لوگوں نے پادری سے کہاکہ تم نے ایک قابل احترام ہستی کے بارے میں نازیباباتیں کہیں، اس لئے کتے نے تم پر حملہ کردیا۔ لیکن اس بدبخت کا اصرارتھاکہ میں چونکہ تقریرکے دوران اشارے کر رہاتھا، اس لئے کتایہ سمجھاکہ میں اس پر حملہ آور ہونے لگاہوں۔ بس اس لیے اس نے مجھ پر حملہ کر دیا۔ یہ کہ کر پادری نے دوبارہ اپنی تقریر شروع کردی اور کچھ دیر بعد پھر رسول ﷺ کی شان میں نازیباالفاظ کہناشروع کردیے ۔ کتے نے دوبارہ وہ الفاظ سنے تو وہ پھر طیش میں آگیا۔اور اس نے اپنی رسی چھڑائی اور اس بد بخت پر حملہ آور ہوگیا۔ اب کی بار کتے نے اس کی گردن کو دبوچ لیا اور اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک کہ وہ بدبخت انسان تڑپ تڑپ کر مر نہیں گیا۔تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی گستاخی کرنے والے سے قدرت کا یہ انتقام دیکھ کر وہاں موجود چالیس ہزار افراد نے فورًااسلام قبول کر لیا۔

  غزوہ احد میں دشمنان اسلام رسول ﷺتک پہننے میں کامیاب ہوگے ۔عتبہ بن ابی وقاص نے آپﷺ پر بھاری پتھر پھینکا ، جس کی وجہ سے آپ ﷺ گر پڑے ۔آپﷺ کا سامنے کادانت مبارک شہید ہوگیا ۔ چہرہ مبارک بھی زخمی ہو گیااور نچلے ہونٹ سے خون بہنے لگا ۔ رسولﷺ ان گڑہوں میں سے ایک گڑ ھے میںگرگئے ، جس کو ابو عامر فاسق نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے میدان جنگ میں کھودا تھا ۔ حضرت علی ؓ نے آپ ﷺ کا ہاتھ مبارک پکڑکر اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ نے اپنی گود میں لے کر آپ ﷺ کو باہر نکالا۔عبداللہ بن قمیہ نے بھی آپﷺ کو بڑی اذیت پہنچائی تھی اور آپﷺ کے چہرے مبارک کو بھی زخمی کیاتھا۔ طبرانی کی روایت میں ہے کہ اس نے رسول ﷺکا چہرہ انور زخمی کیااور دانت مبارک بھی شہید کیے تھے ۔ یہ کہتاتھا:میرا یہ وار سبنھال اور میں قمیہ کا بیٹا ہوں ۔آپ ﷺنے اپنے چہرے سے خون صاف کرتے ہوئے اس کا یہ فخریہ قول سن کر فر مایا :قماک اللہ ۔ اللہ تجھے ذلیل و خوار کر ے ۔ اس بددعاکا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے اس پر ایک پہاڑ ی بکر ا مسلط کیا ،جس نے سینگ مار مار کر اس کاجوڑ جوڑ الگ کر دیا۔

آییے مسلمانو ! ۔ ہم اپنے آقا ﷺ کی حرمت و ناموس کا انتقام لینے کے لیے اگراور کچھ نہیں کر سکتے تو آیئے ! سب مل کر یہ دعا ہی کر لیں ۔۔۔۔۔۔’’اے اللہ ! ان گستاخوں میں سے ہر ایک پر اپنے کتوں میں سے ایک ایک کتامسلط فرما‘‘۔(آمین ثم آمین)

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری