ایصال ثواب

تنظیم الارشاد

باب: میت کی طرف سے ایصالِ ثواب کا بیان

بَاب وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَةِ عَنْ الْمَيِّتِ إِلَيْهِ صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۱۶/ حدیث مرفوع ۲۳۱۶۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسَهَا وَلَمْ تُوصِ وَأَظُنُّهَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ۔ ۲۳۱۶۔

محمد بن عبد اللہ بن نمیر، محمد بن بشر، ہشام، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہؐ! میری والدہ بغیر وصیت کے فوت ہوگئی ہے اور میرا گمان ہے اگر وہ بات کرتی تو وہ صدقہ کرتی، اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو اس کو ثواب ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں!۔ صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۱۷/ حدیث مرفوع ۲۳۱۷۔ حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسٰی حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحٰقَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهٰذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَلَمْ تُوصِ کَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ وَلَمْ يَقُلْ ذٰلِکَ الْبَاقُونَ۔ ۲۳۱۷۔ زہیر بن حرب، یحیی بن سعید، ابوکریب، ابواسامہ، علی بن حجر، علی بن مسہر، حکم بن موسی، شعیب بن اسحاق، ہشام، ابواسامہ اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔

باب: ہر قسم کی نیکی پر صدقہ کا نام واقع ہونے کا بیان

بَاب بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنْ الْمَعْرُوفِ

صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۱۸/ حدیث متواتر مرفوع ۲۳۱۸۔ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ قَالَ قَالَ نَبِيُّکُمْ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ۔ ۲۳۱۸۔ قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عباد بن عوام، ابومالک اشجعی، ربعی بن حراش، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔ صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۱۹/ حدیث متواتر مرفوع ۲۳۱۹۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلٰی أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ عُقَيْلٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللہِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ يُصَلُّونَ کَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ کَمَا نَصُومُ وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ قَالَ أَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللہُ لَکُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ إِنَّ بِکُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً وَکُلِّ تَکْبِيرَةٍ صَدَقَةً وَکُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً وَکُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنْ مُنْکَرٍ صَدَقَةٌ وَفِي بُضْعِ أَحَدِکُمْ صَدَقَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللہِ أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَکُونُ لَهٗ فِيهَا أَجْرٌ قَالَ أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَکَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ فَکَذٰلِکَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ کَانَ لَهٗ أَجْرًا۔ ۲۳۱۹۔ عبد اللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، مہدی بن میمون، واصل مولی ابی عیینہ، یحیی بن عقیل، یحیی بن یعمر، ابواسود دیلی، حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! مالدار سب ثواب لے گئے اوہ نماز پڑھتے ہیں جیسا کہ ہم نماز پڑھتے ہیں وہ ہماری طرح روزہ رکھتے ہیں اور وہ اپنے زائد اموال سے صدقہ کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کیا اللہ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جس سے تم کو بھی صدقہ کا ثواب ہو ہر تسبیح ہر تکبیر صدقہ ہے ہر تعریفی کلمہ صدقہ ہے اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہنا صدقہ ہے اور نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے تمہارے ہر ایک کی شرمگاہ میں صدقہ ہے، صحابہ نے عرض کیا اللہ کے رسول کیا ہم میں کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں بھی اس کے لئے ثواب ہے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو وہ اس کے لئے گناہ کا باعث ہوتا اسی طرح اگر وہ اسے حلال جگہ صرف کرے گا تو اس پر اس کو ثواب حاصل ہوگا۔ صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۲۰/ حدیث مرفوع ۲۳۲۰۔ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ عَنْ زَيْدٍ أَنَّهٗ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللہِ بْنُ فَرُّوخَ أَنَّهٗ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهٗ خُلِقَ کُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلٰی سِتِّينَ وَثَلَاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ فَمَنْ کَبَّرَ اللہَ وَحَمِدَ اللہَ وَهَلَّلَ اللہَ وَسَبَّحَ اللہَ وَاسْتَغْفَرَ اللہَ وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ شَوْکَةً أَوْ عَظْمًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهَی عَنْ مُنْکَرٍ عَدَدَ تِلْکَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِ مِائَةِ السُّلَامَی فَإِنَّهٗ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنْ النَّارِ قَالَ أَبُو تَوْبَةَ وَرُبَّمَا قَالَ يُمْسِي۔ ۲۳۲۰۔ حسن بن علی حلوانی، ابوتوبہ ربیع بن نافع، معاویہ بن سلام، زید، ابوسلام، عبد اللہ بن فروخ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بنی آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ جوڑوں سے پیدا کیا گیا ہے، جس نے اللہ کی بڑائی بیان کی اور اللہ کی تعریف کی اور تہلیل یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہا اور اللہ کی تسبیح یعنی سُبْحَانَ اللہِ کہا اور اَسْتَغْفَرَ اللہَ کہا اور لوگوں کے راستہ سے پتھریا کانٹے یا ہڈی کو ہٹا دیا اور نیکی کا حکم کیا اور برائی سے منع کیا تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد کے برابر اس دن چلتا ہے اس حال میں کہ اس نے اپنی جان کو دوزخ سے دور کر لیا ہے، ابوتوبہ کی روایت ہے کہ وہ شام کو سب گناہوں سے پاک و صاف ہوگا۔ صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۲۱/ حدیث مرفوع ۲۳۲۱۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ أَخْبَرَنِي أَخِي زَيْدٌ بِهٰذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهٗ غَيْرَ أَنَّهٗ قَالَ أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ وَقَالَ فَإِنَّهٗ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ۔ ۲۳۲۱۔ عبد اللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحیی بن حسان، معاویہ، زیداوپر والی حدیث ہی کی دوسری سند ذکر کی ہے الفاظ کے تغیر وتبدل کی طرف اشارہ کیا، معنی ومفہوم ایک ہی ہے۔ صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۲۲/ حدیث مرفوع ۲۳۲۲۔ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ کَثِيرٍ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ جَدِّهٖ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللہِ بْنُ فَرُّوخَ أَنَّهٗ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِقَ کُلُّ إِنْسَانٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ عَنْ زَيْدٍ وَقَالَ فَإِنَّهٗ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ۔ ۲۳۲۲۔ ابوبکر بن نافع عبدی، یحیی بن کثیر، علی بن مبارک، یحیی، زید بن سلام، ابوسلام، عبد اللہ بن فروخ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر انسان کو تین ساٹھ جوڑوں سے پیدا کیا گیا ہے، معاویہ عن زید کی حدیث کی طرح اور اس میں ہے کہ وہ اس دن شام کرتا ہے۔ صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۲۳/ حدیث متواتر مرفوع ۲۳۲۳۔ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ قِيلَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ قَالَ يَعْتَمِلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ قَالَ قِيلَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ قَالَ يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ قَالَ قِيلَ لَهٗ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ قَالَ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ أَوِ الْخَيْرِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ يُمْسِکُ عَنْ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ۔ ۲۳۲۳۔ ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، شعبہ، سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے، عرض کیا گیا اگر یہ نہ ہو سکے تو کیا حکم ہے؟ فرمایا اپنے ہاتھوں سے کمائے اور اپنے آپ کو نفع پہنچائے اور صدقہ کرے، عرض کیا اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو کیا حکم ہے؟ فرمایا ضرورت مند مصیبت زدہ کی مدد کرے، آپ سے عرض کیا گیا اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نیکی کا حکم کرے اور یہ بھی نہ کر سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا برائی سے رک جائے اس کے لئے یہ بھی صدقہ ہے۔ صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۲۴/ حدیث مرفوع ۲۳۲۴۔ حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهٰذَا الْإِسْنَادِ۔ ۲۳۲۴۔ محمد بن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔ صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۲۵/ حدیث متواتر مرفوع ۲۳۲۵۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هٰذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ سُلَامَی مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ کُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ قَالَ تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهٖ فَتَحْمِلُهٗ عَلَيْهَا أَوْ تَرْفَعُ لَهٗ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ قَالَ وَالْکَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَکُلُّ خُطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَی الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيطُ الْأَذٰی عَنْ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ۔ ۲۳۲۵۔ محمد بن رافع، عبدالرزاق بن ہمام، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے ہر آدمی کے ہر جوڑ پر صدقہ واجب ہوتا ہے، فرمایا دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا صدقہ ہے، آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرنا یا اس کا سامان اٹھانا یا اس کے سامان کو سواری سے اتارنا صدقہ ہے اور پاکیزہ بات کرنا صدقہ ہے اور نماز کی طرف چل کر جانے میں ہر قدم صدقہ ہے اور راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔

ایصالِ ثواب کی چار صورتیں اور ان کا حکم؟

مجموعی طور پرایصالِ ثواب کی چار صورتیں ہیں: (۱) مرحومین کے لئے دُعاء، اس کے درست ہونے پرتمام علماء اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے؛ اس کی سب سے بڑی دلیل خود قرآن مجید ہے، جس میں اپنے متوفی دینی بھائیوں کے لئے بھی دُعاء کرنا سکھایا گیا ہے: رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ۔ (الحشر:۱۰) (۲) مالی عبادتوں یعنی صدقات اور قربانی وغیرہ کے ذریعہ اس کے جائز ہونے پربھی اہلِ سنت والجماعت کا اجماع واتفاق ہے، ابن تیمیہ لکھتا ہے:ائمہ اس بات پرمتفق ہیں کہ صدقہ کا ثواب میت کوپہونچتا ہے او رایسے ہی دوسری مالی عبادت کا جیسے غلام آزاد کرنا، اس سلسلہ میں صریح حدیث موجود ہے: ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یارسول اللہ ﷺ! میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے؛ اگرمیں ان کی طرف سے صدقہ کروں توکیا ان کونفع پہونچے گا، آپ نے جواب دیا ہاں!؛ اسی طرح خود رسول اللہ ﷺ کا اپنی امت کی طرف سے قربانی کرنا ثابت ہے، ظاہر ہے کہ یہ بہ طور ایصالِ ثواب کے ہی تھا۔ (۳) حج کے ذریعہ ایصالِ ثواب بھی درست ہے، جومالی عبادت بھی ہے اور بدنی بھی، آپﷺ نے ایک خاتون کواپنی مرحوم والدہ کی طرف سے حج کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے، حدیث کی کتابوں میں بہ صراحت ووضاحت اس کا ذکر موجود ہے۔ (۴) بدنی عبادات جیسے قرآن، نماز، روزہ، ان کا ثواب پہونچے گا یانہیں؟ اس میں اہلِ سنت والجماعت کے ائمہ کے درمیان اختلاف ہے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بدنی عبادت کے ذریعہ ایصالِ ثواب درست نہیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ انسان کے لئے وہی ہے جس کواس نے خود کیا ہے اور حنفیہ وحنابلہ اور مالکیہ کے نزدیک بدنی عبادات کے ذریعہ بھی ایصالِ ثواب جائز ہے اور اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ ایمان کے بارے میں انسان کا اپنا عمل ہی مفید ہے، باپ کا ایمان کافر بیٹے، یابیٹے کا ایمان کافر باپ کے لئے مفید نہیں، ان حضرات کی نگاہ احادیث پر ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت میں مرحوم کی طرف سے اس کے ولی کے روزہ رکھنے کا حکم نبی ﷺ منقول ہے: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ۔ (بخاری، كِتَاب الصَّوْمِ،بَاب مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَوْمٌ،حدیث نمبر:۱۸۱۶، شاملہ، موقع الإسلام) ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے مردہ پرسورہ یسٰیٰن پڑھنے کوفرمایا، ایک صاحب نے آپ ﷺ سے استفسار کیا کہ میں اپنے والدین کے ساتھ ان کی زندگی میں حسن سلوک کیا کرتا تھا اب کس طرح حسن سلوک کرسکتا ہوں؟ ارشاد فرمایا: مرنے کے بعد حسن سلوک یہ ہے کہ اپنی نماز کے ساتھ ساتھ ان دونوں کے لئے بھی نماز پڑھو اور اپنے روزہ کے ساتھ ساتھ اُن لوگوں کے لئے بھی روزہ رکھو۔ مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر مظہری میں آیت: وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّامَاسَعَىٰ کی تفسیر میں اس پرتفصیل سے گفتگو کی ہے اور ایصالِ ثواب سے متعلق روایات کوجمع فرمایا ہے؛ چونکہ عبادات بدنیہ سے ایصالِ ثواب کے ثبوت پربہ کثرت روایات منقول ہیں، اس لئے اکثر شوافع محققین نے بھی اس مسئلہ میں حنفیہ، مالکیہ اور حنابلہ کی رائے کوقبول کیا ہے؛ غرض کہ عام طور پراہلِ سنت والجماعت کے نزدیک دُعا، بدنی عبادات، مالی عبادت، ومرکب بدنی ومالی عبادت سب سے ایصالِ ثواب درست ہے، خاتم الفقہاء علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: انسان کے لئے یہ درست ہے کہ اپنے عمل نماز یاروزہ یاصدقہ یااس کے علاوہ کا ثواب دوسرے کے لئے کردے، اہلِ سنت والجماعت کا یہی مذہب ہے؛ البت آج کل پیسے لے کرآیت کریمہ اور ختم قرآن کا جوطریقہ مروج ہوگی اہے یادعوت کی وجہ سے قرآن پڑھ کرایصال ثواب کی جوصورت رواج پاگئی ہے، یہ درست نہیں، یہ توگویا آیات قرآنی کوفروخت کرنے کے مترادف ہے، علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے خوب نکتہ کی بات کہی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ جب آدمی پیسے لیکر قرآن پڑھے تواس کا یہ عمل اخلاص سے خالی ہونے کی وجہ سے خود ہی باعثِ ثواب باقی نہیں رہا اور جب یہ عمل باعثِ اجر ہوا ہی نہیں تودوسروں کوکیوں کراس کا ثواب پہونچایا جاسکتا ہے، ایسی باتوں سے بچنا چاہئے۔ بہترین ایصالِ ثواب کیا ہے؟ اکثرفقہاء کے نزدیک بدنی عبادت نماز، روزہ، تلاوتِ قرآن اور مالی عبادت یعنی صدقہ، قربانی کے ذریعہ مردہ کوایصالِ ثواب کیا جاسکتا ہے؛ البتہ ایصالِ ثواب کا زیادہ بہتر طریقہ صدقہ ہے؛ کیونکہ صدقہ سے ایصالِ ثواب کے دُرست ہونے پراہلِ سنت والجماعت کا اتفاق ہے؛ پھرصدقہ میں بھی ایک ایسا صدقہ ہے جس کا اثر اور نفع کم وقت تک محدود ہوتا ہے، جیسے: کسی کوکھانا کھلادینا۔ صدقہ کی بعض صورتیں ایسی ہیں کہ ان کا نفع دیرپا ہوتا ہے، اسے صدقہ جاریہ سے تعبیر کیا گیا ہے، یہ ایصالِ ثواب کا سب سے بہتر طریقہ ہے، جیسے: مسجد یامدرسہ تعمیر کرادینا، کنواں کھودوانا وغیرہ، رسول اللہ ﷺ سے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور وہ ان کی طرف سے کچھ کرنا چاہتے ہیں تورسول اللہ صلی اللہ عنہ وسلم نے کنواں کھودوانے کا مشورہ دیا؛ توایسے صدقات کے ذریعہ ایصالِ ثواب جس کے نفع کا دائرہ وسیع ہو اور زیادہ دنوں تک لوگ اس سے فائدہ اُٹھاسکیں، سب سے افضل طریقہ ہے۔

قرآن مجید سے ایصالِ ثواب کی دلیل کیا ہے؟

انسان کواصل اجر تواپنے اعمال کا پہونچتا ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انسان کودوسروں کے اعمال کا اجر بھی پہنچاتے ہیں، دعا اور صدقہ دوسرے کے حق میں نافع ہونے اور اس کا ثواب پہنچنے پرتواہلِ سنت والجماعت کا اتفاق ہے ہی، جمہور اہل سنت کے نزدیک قرأت قرآن اور دوسری بدنی عبادتوں کا ثواب بھی پہنچتا ہے؛ یہی بات حدیث سے معلوم ہوتا ہے، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سورۂ یٰسین قرآن کا قلب ہے، جوشخص اس کواللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے لئے پڑھے گا اس کی مغفرت ہوگی؛ نیز تم اس سورت کواپنے مردوں پر پڑھا کرو۔ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے والدین زندہ تھے تومیں ان کے ساتھ حسن سلوک کیا کرتا تھا، اب ان کی وفات ہوگئی، تواب میں ان کے ساتھ کس طرح سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنی نماز کے ساتھ ان دونوں کے لئے نماز پڑھو اور اپنے روزوں کے ساتھ ان دونوں کے لئے روزہ رکھو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جوقبرستان میں داخل ہو، وہ سورہ فاتحہ ، قل ہو اللہ احد اور أَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرْ پڑھے اور کہے کہ میں نے اس پڑھے ہوئے کلام کا ثواب اہلِ قبرستان مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے کردیا، تووہ لوگ اس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سفارشی ہونگے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جوقبرستان میں داخل ہو اور سورۂ یٰسین پڑھے تواللہ تعالیٰ ان سب یعنی قبرستان میں مدفون لوگوں سے عذاب کو ہلکا کردیتے ہیں اور اس کے لئے ان تمام لوگوں کے برابر نیکیاں ہوتی ہیں۔ ابن الجلاج رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے صاحب زادگان سے فرمایا: جب تم لوگ مجھے میری قبر میں داخل کرو توقبر میں رکھتے ہوئے کہوبِسْمِ اللہِ وَعَلَی سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ پھرمٹی ڈال دو اور میرے سرہانے سورۂ بقرہ کا ابتدائی اور آخری حصہ پڑھو؛ کیونکہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کودیکھا ہے کہ وہ اس عمل کوپسند فرماتے تھے؛ محدثین نے اس کی سند کومعتبر ومقبول مانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن اور بدنی عبادتوں کے ذریعہ ایصال ثواب حدیث سے ثابت ہے اور یہی ائمہ اربعہ میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ کی رائے ہے اور فقہاء شوافع میں سے بھی بہت سے لوگ اسی کے قائل ہیں؛ البتہ پیشہ ورانہ طریقہ پر پیسے لے کرقرآن مجید پڑھنا جائز نہیں اور اس کا ثواب نہیں پہنچتا؛ کیونکہ ثواب تو ایسے عمل پر ہوتا ہے جس میں اخلاص ہو، جوعمل اخلاص سے خالی ہو وہ خود لائق ثواب نہیں اور جوعمل خود ہی لائقِ ثواب نہ ہو اس کا ثواب دوسروں کو کیوں کر ایصال کیا جاسکتا ہے؟ یہی بات مشہور فقیہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی ہے۔

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری