http://tanzeemulirshad.com/personality-detailمفتی-اعظم-مفتی-محمد-حسین-قادری/716
مفتی اعظم مفتی محمد حسین قادری
جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر ، مفتی اعظم ، مفتی محمد حسین قادری

18اکتوبر 1989ء کراچی میں واقع اہل سنت کی مرکزی دینی درسگاہ دارالعلوم امجدیہ کے شیخ الحدیث حضرت علامہ مفتی عبد المصطفیٰ الازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے بعد کچھ عرصہ کے لئے یہ ذمہ داری آپ کے سپرد ہوئیں بعد ازاں وقار اہل سنت حضرت مفتی وقار الدین صاحب علیہ الرحمہ اس منصب پر فائز ہوئے اور پھر جب حضرت مفتی وقار الدین صاحب علیہ الرحمہ علیل ہوئے تو پاکستان میں اس پائے کا کوئی مدرس نظر نہ آنے پر پھر نظریں مفتی اعظم علیہ الرحمہ پر ٹھہریں اور آپ نے اپنے استاذمحترم مفتی ظفر علی نعمانی علیہ الرحمہ کے حکم پراس ذمہ داری کو قبول فرمایا جو 19ستمبر1992ء کو حضرت کے وصال کے بعد بھی تقریباً ایک سال تک شیخ الحدیث کے عہدے پر فائز رہے۔…… سن1993ء میں حج بیت اللہ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دربار کی حاضری کے لئے تشریف لے گئے۔……سن1994ء میں آٹھویں حج کی سعادت حاصل کی۔جامعہ کے ابتدائی دور میں حضرت قبلہ مفتی صاحب اور چند احباب اکثر جمعۃ المبارک کے دن مزارات پر تشریف لے جایا کرتے تھے۔ایک مرتبہ جب تانگہ پر سوار ہونے لگے تو ایک مجذوب تیزی سے آیا اور قبلہ مفتی صاحب کی جگہ بیٹھ کر تمام حضرات سے پیسوں کا تقاضہ کرنے لگا دیگر احباب نے پیسے دئیے قبلہ مفتی صاحب نے اپنی جیب خاص سے تمام رقم نکال کر اس کے سامنے رکھ دی! مجذوب نے چند روپے لئے اور انگلیوں پر گنتی کرنے لگا ایک دو تین یہاں تک آٹھ پر پہنچ کر رک گیا اور آٹھ آٹھ کہتا ہوا چلا گیا۔مفتی صاحب علیہ الرحمہ نے فرمایا اس نے میرے لئے آٹھ حج کرنے کی خوشخبری دی ہے۔……سن1994ء میں ایک مرتبہ پھر عمرہ کی ادائیگی اور زیارت روضہئ رسول ﷺ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد دبئی کا دورہ کیا۔…… سن1995ء میں مرکزی جماعت اہل سنت (صوبہ سندھ) کے امیر بنے اور زندگی آخر تک اس عہدے پر فائز رہے۔اسی سال ایک مرتبہ پھرعمرہ کی ادائیگی اور زیارت روضہئ رسول ﷺ کا شرف حاصل کیا سعادت کے اس سفر میں صاحبزادہ محمد رضوان قادری بھی ان کے ہمراہ تھے واپسی پر دبئی کا دورہ کیا۔……اسی سال پہلے آپ کے بھائی حاجی عبدالکریم صاحب قادری کاانتقال ہوا (جامعہ کے ابتدائی دور میں قبلہ مفتی صاحب کی غیر موجودگی میں حاجی عبدالکریم بھائی ہی جامعہ کا نظام سنبھالا کرتے تھے)ان کے چہلم کے موقع پر آپ نے اپنی اہلیہ محترمہ کے کڈنی کا آپریشن کرایا۔جس میں وہ جانبر نہ ہوسکیں اور انتقال کرگئیں۔ان کے انتقال کے پانچویں روز آپ کو اپنے سب سے بڑے بھائی عبداللہ باباقادری کے انتقال کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ …… یکے بعد دیگرے کئی صدمے برداشت کرنے کے بعد احباب و رشتہ داروں کے بے حد اصرار پر تاکہ صدموں کا بوجھ کچھ ہلکا ہوجائے افریقہ کے مختلف ممالک کینیا،زیمبیا،زمبابوے،ملاوی او ر تنزانیہ کے تبلیغی دورے پر تشریف لے گئے۔ واپسی پر عمرہ کی ادائیگی اور زیارت روضہئ رسول ﷺ کا شرف حاصل کیا اس سفر میں ان کے ہمراہ مشرف محمود قادری بھی تھے۔ جنھیں بچپن ہی سے قبلہ مفتی صاحب کا دست شفقت حاصل رہا ہے۔……جنوری1996؁ء میں ایک مرتبہ پھر عمرہ کی ادائیگی اور دربار رسول ﷺ میں حاضری کا شرف حاصل کیا واپسی میں دبئی کا دورہ کیا سعادتوں کے اس سفر میں ان کے ہمراہ جامعہ کے موجودہ ناظم اعلیٰ محمدحسین قادری مکاتی بھی تھے جو آپ کے داماد بھی ہیں۔ …… مارچ1996؁ ء میں برطانیہ کے تبلیغی دورے پر تشریف لے گئے اور واپسی پر امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار پرُ انوار پر حاضری کے لئے ویزے کی درخواست دی لیکن ویزہ نہ مل سکا۔ …… جولائی1996؁ء میں افریقہ کے مختلف ممالک زمبابوے،ملاوی، ساؤتھ افریقہ،زیمبیا کا تبلیغی دورہ کیا اور واپسی پر مصر کے مختلف مقامات مقدسہ کی زیارت کرتے ہوئے شہرہئ آفاق درود وسلام اور آپ کے پسندیدہ کلام قصیدہئ بردہ شریف کے خالق حضرت امام شرف الدین محمد بوصیری علیہ الرحمہ کے مزار پرُ انوار پر حاضری دی مزار شریف سے متصل تاریخی جامع مسجد میں عربی میں خطاب کیا اور منتظمین کی درخواست پر نماز جمعہ کی امامت فرمائی اپنے اس دورے کے دوران آپ نے مشہور زمانہ اسلامی یونیورسٹی جامعہ الازہر کا دورہ بھی کیا اور شیخ الجامعہ سے ملاقات کی۔……اسی سال اعز ّا و اقربا کے بے حد اصرار پر کہ آپ اکثر علیل رہنے لگے ہیں آپ کی دیکھ بھال اور گھر کے کام کاج کے لئے گھر میں کسی خاتون کا ہونا ضروری ہے۔کراچی میں ایک خاتون (جوآپ کے چچا زاد بھائی کی بیٹی تھیں)سے نکاح کرادیا گیا۔نکاح قائد اہل سنت مبلغ اسلام علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ نے پڑھایا۔ نکاح کے موقع پرمفتی ظفر علی نعمانی صاحب علیہ الرحمہ اور دیگر جید علما ئ کرام بھی موجود تھے۔سکھر میں سادگی سے ولیمہ مسنون کااہتمام بھی کیا گیا جس میں مفتی محمد رحیم سکندری و دیگر علما ئ کرام نے شرکت کی۔…… جنوری1997؁ء میں عمرہ اور زیارت روضہ ئ رسول ﷺ کی ایک مرتبہ پھر سعادت حاصل کی اور واپسی پر دبئی کا دورہ کیا۔…… جون 1997 ؁ء میں برطانیہ (انگلینڈ) اور افریقہ کے مختلف ممالک زمبابوے،ملاوی، موزمبیق، زیمبیا کے تبلیغی دورہ پر تشریف لے گئے اور مصر میں حضرت امام شرف 
الدین محمد بوصیری علیہ الرحمہ کے مزار مبارک پر حاضری دی۔اس دورہ میں آپ کی اہلیہ محترمہ بھی آپ کے ساتھ تھیں۔
فروری1998؁ء میں عارضہ قلب اورمرض شوگر شدت اختیار کرگیا یہاں تک کہ آپ تیمم کرکے اشاروں سے نماز پڑھنے لگے۔…… 18مارچ1998؁ء بروز بدھ آپ کے چہیتے بزرگ شاگرد مفتی محمد شریف خاں صاحب قادری علیہ الرحمہ (روہڑی) انتقال کرگئے جس کا آپ کو بے حد صدمہ ہوا اور آپ نے اپنی بیماری کی حالت میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔……قبلہ مفتی صاحب کی صحت مسلسل خراب رہنے لگی کمزوری بڑھتی گئی اس کے باوجود آپ نے 8اکتوبرکو چوک گھنٹہ گھر پر دوسری عظیم الشان مقام مصطفی ﷺ کانفرنس میں وہیل چیئر پر بیٹھ کر شرکت کی۔ …… 21دسمبر 1998ء؁یکم رمضان المبارک بروز پیر سے آپ کی طبعیت زیادہ خراب ہوگئی افطار کے وقت سیب کا صرف ایک ٹکڑا
 تناول فرمایا جو آپ کی زندگی کی آخری ٹھوس غذا تھی۔
۲رمضان المبارک بروز منگل کودارالشفا ئ ہسپتال سکھر میں داخل کردیا گیا۔بے ہوشی طاری ہوگئی اور تین یوم کے بعد بذریعہ ہوائی جہاز آپ کو کراچی لے جایا گیا جہاں لیاقت نیشنل ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں چند روز زیر علاج رہنے کے بعد 31دسمبر 1998 ؁ء بروز
 جمعرات۱۱رمضان المبارک ۹۱۴۱؁ھ کو صبح صادق کے وقت اس دارِفانی سے کوچ کر گئے۔ 
اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
آپ کے وصال باکمال کی خبر پاکستان وبیرون ممالک،دینی مراکز،علما ئ کرام ومشائخ اہل سنت میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سیکڑوں مریدین ومعتقدین اور عزیز واقارب دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔……آپ کو آپ کے برادر محترم عثمان غنی قادری کی رہائش گاہ پر لیجایا گیا اور خاندان کے معززین نے آپ کوغسل دیا۔ ……پہلی نماز جنازہ نیو کراچی 7نمبر کے نورانی عید گاہ گراؤنڈ میں ادا کی گئی جسکی امامت قائد ملت اسلامیہ مبلغ اسلام علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی اور پھر آپ علیہ الرحمہ کے برادر محمد عثمان غنی قادری اور راقم الحروف صاحبزادہ محمد رضوان قادری آپ کے جسد مبارک کوبذریعہ ایدھی ائیر ایمبولینس سکھر لے آئے۔ جہاں جناح میونسپل اسٹیڈیم میں بعد نماز جمعہ دوسری مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی جس کی امامت جانشین مفتی اعظم مفتی محمد ابراہیم القادری نے فرمائی۔ مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی نماز جنازہ عددی اعتبار سے سکھر کی تاریخ سب سے بڑی نماز جنازہ تھی جس میں ہزاروں افراد شریک تھے اور پھر جنازہ کا یہ طویل جلوس شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتا ہوا جامعہ غوثیہ رضویہ پہنچا۔جہاں ہزاروں افراد کی آہوں، سسکیوں اور درود و سلام کی گونج میں مزار شریف کی موجودہ جگہ
 آپ کی تدفین ہوئی۔
قبلہ مفتی صاحب علیہ الرحمہ کے درس و تدریس کے حوالے سے تلامذہ کے تعداد تو سیکڑوں میں ہے لیکن منصب خلافت عطا فرمانے میں بڑی احتیاط سے کام لیا کرتے تھے۔علم و اہلیت اورتقویٰ وپرہیزگاری دیکھ کر ہی خلافت عطا فرماتے یہ ہی وجہ ہے کہ آپ کے خلفا ئ میں صرف چند
 نام قابل ذکر ہیں۔
٭مفتی احمد القادری صاحب (امریکہ)
٭حاجی محمد ارشد قادری صاحب (لاہور)
٭مفتی عبدالحلیم قادری صدیقی صاحب (کراچی)
٭پروفیسر مفتی نور محمد قادری صاحب    (حیدر آباد)
٭جانشین مفتی اعظم مفتی محمد ابراہیم القادری صاحب
شیخ الحدیث:جامعہ غوثیہ رضویہ (ٹرسٹ) سکھر
 

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری