عدت،سوگ،قرار

مفتی اعظم مفتی محمد ابراھیم القادری

    کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بوڑھی والدہ جن کی عمر تقریباً ٦٥ سال ہے ، حال ہی میں بیوہ ہوئی ہیں اور عدت میں ہے ،دورانِ عدت جیٹھ کی اولاد اور دیور اور اسکی اولاد سے پردہ کا شرعی حکم کیا ہے ؟؟؟
    نیز داماد سے پردہ کا حکم اور عدت کے شرعی طریقہ سے بھی آگاہ فرمائیں اور کیا بیماری کی صورت میں عدت کے دوران علاج کے لئے ڈاکٹر کے پاس لے جایا جا سکتا ہے ْْ؟؟؟
                                السائل: فیاض خان /ملٹری کواٹر سکھر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب

    یہاں تین چیزیں ہیں ۔١۔عدت ،٢۔سوگ،٣۔قرار فی البیت۔
    عدت:
    عدت یہ ہے کہ عورت طلاق یا شوہر کی وفات کی صورت میں ایک مخصوص پیریڈنکاح کے بغیر گزاردے.
    فتاوی ہندیہ میں ہے:    
    ہی انتظار مدۃ معلومۃ یلزم المرأۃ بعد زوال النکاح حقیقۃ أو شبہۃ المتأکد بالدخول أو الموت کذا فی شرح النقایۃ للبرجندی.
    عدت کہتے ہیں مدتِ معلومہ تک انتظار کرنا ،جوحقیقۃً یا شبھۃً نکاح زائل ہونے کے بعد عورت کو لازم ہوتا ہے ،دخول(یا خلوۃ ِ صحیحہ ) یا موت سے متاکد ہوتا ہے۔
    (فتاوی ھندیہ،کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر فی العدۃ،١:٦٢٥،مطبوعہ: دارالفکر بیروت)
     طلاق کی صورت میں تین حیض گزارے اگر حیض آتا ہو ،ورنہ تین مہینے ۔
    اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے :
    وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِہِنَّ ثَلَاثَۃَ قُرُوء ٍ۔
    اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکیں۔
(سورۃ البقرۃ :٨٢٢)
     ارشاد باری عز اسمہ ہے:
    وَ الِّٰۤیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍ
    اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے ناامید ہوگئی ہوں اگر تمہیں شک ہوتو ان کی عدت تین مہینے ہے     
(سورۃ الطلاق:٤)
    اور وفات کی صورت میں چار ماہ دس دن گزارے ۔
     ارشاد باری عز اسمہ ہے:
    وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا یَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِہِنَّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا
    اور تم میں سے جو مرد فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑجائیں وہ اپنے آپ کو چار ماہ دس دن روکیں۔
    (سورۃ البقرۃ : ٢٣٤)
    اور حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش تک کا عرصہ بلا نکاح گزارے ۔
     ارشاد باری عز اسمہ ہے:
     وَ اُولٰتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنّ۔
     اور حاملہ عورتوں کی عدت حمل کا جننا ہے ۔    (سورۃ الطلاق:٤)
    ان مخصوص پیریڈز میں انکے اختتام تک بلا نکاح بیٹھنا اور ان کے گذرنے کا انتظار کرنا عدت کہلاتا ہے۔
    سوگ:
    عدت کے ایام میں بناؤ سنگھار جیسے : مہندی ،زیورات ،خوشبو، جاذب نظر لباس و دیگر اشیاء زینت کے چھوڑنے کا نام ہے ۔
    فتاوی ہندیہ میںہے:
    والحداد الاجتناب عن الطیب والدہن والکحل والحناء والخضاب ولبس المطیب والمعصفر والثوب الأحمر وما صبغ بزعفران إلا إن کان غسیلا لا ینفض ولبس القصب والخز والحریر ولبس الحلی والتزین والامتشاط کذا فی التتارخانیۃ.
    سوگ یہ ہے کہ خوشبو ،تیل ،سرمہ،مہندی،خضاب،خوشبو دادہ کپڑے ،کسم کے رنگ اور سرخ رنک کے کپڑے اور وہ کپڑا جو زعفران سے رنگاگیا ہو اس کے پہننے سے اجتناب کرے۔ البتہ دھلا ہوا ہو اور خوشبو نہ اڑتی ہو تو مضائقہ نہیں ،قصب ،خز (ایک قسم کے ریشمی کپڑے)،زیورپہننے ،زینت کرنے اور کنگی سے سر کے بال سنوار نے سے اجتناب کرے۔
    (فتاوی ہندیہ ، کتاب الطلاق،الباب الرابع عشر فی الحداد،١:٥٣٣،الناشر: دار الفکر بیروت)
    درمختار میں ہے:    
ٍ    وہو لغۃ کما فی القاموس: ترک الزینۃ للعدۃ وشرعا ترک الزینۃ ونحوہا لمعتدۃ بائن، أو موت.
    سوگ لغۃ میں کہتے ہیں جیسا کہ قاموس میں ہے : عدت کیوجہ سے زینت کو چھوڑدینا۔اور اصطلاح شرع میں کہتے ہیں :معتدہ طلاقِ بائن یا موت کا زینت وغیرہ کو ترک کرنا۔
    قرار فی البیت:
    گھر کی چار دیواری میں اپنے آپ کو محدود کرنے اور بلا ضرورت نہ نکلنے کا نام ہے ۔
    عورت کو عدت کسی صورت میں معاف نہیں ۔جبکہ باقی دو چیزیں بعض مواقع میں جزوی طور پر معاف ہو جاتی ہیں ۔ چنانچہ اگر عورت عدت کے اندر دوسرے مرد سے نکاح کرلے تو نکاح باطل ہے ۔ اگرچہ اسے ہزار ہا مجبوریاں لاحق ہوں۔
    البتہ سوگ کی صورت میں بعض حالات میں بعض اشیاء کا استعمال معاف ہوجاتاہے ۔ جیسے:آنکھوں کی تکلیف کی صورت میں سرمہ کا استعمال وغیرہ۔
    اسی طرح عدتِ وفات میں اگر عورت کا کوئی ہاتھ بٹانے ولا نہ ہو تو وہ بعض ضروریات کے لیے گھر سے باہر جاسکتی ہے ، اگر ملازمہ ہے اور عدت میں چھٹی نہیں مل سکتی تو ملازمت کے لیے گھر سے باہر جاسکتی ہے ۔اس صورت میں یہ کوشش کرے کہ دن کے اوقات میں ڈیوٹی کرے اور رات کو واپس آجائے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو رات کو بھی ڈیوٹی کرسکتی ہے ۔ گھر میں ڈاکٹر کا آنا دشوار ہو تو علاج کے لیے ہسپتال جاسکتی ہے ۔
    اور عدتِ طلاق میں تلاش روزگار میں باہر جانا مطلقاً ممنوع ہے ۔ اس لیے کہ عدت طلاق میں نان نفقہ شوہر کے ذمے واجب الادا ہے ۔ ہاں دوسری صورت میں ضروریات جیسے : علاج معالجہ کے لیے گھر سے باہر جاسکتی ہے جبکہ گھر میں رہتے ہوئے علاج دشوار ہو ۔
    تنویر الابصار میں ہے:
    ولا تخرج معتدۃ رجعی وبائن مکلفۃ من بیتہا أصلاومعتدۃ موت تخرج فی الجدیدین وتبیت فی منزلہا
     معتدہ رجعیہ اور بائنہ ، مکلفہ اپنے گھر سے بلکل نہ نکلے،اور موت زوج کی عدت والی رات و دن میںنکل سکتی ہے اور اکثر رات گھر میں گزارے۔
        (تنویر الابصار مع در المختار،کتاب الطلاق،فصل فی الحداد٣:٥٣٥،مطبوعہ: دار الفکر بیروت)
    یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ عدت ، سوگ ، گھر میں رہنا ، طلاق یافتہ اور وفات یافتہ پر لازم ہے ۔ جیسا کہ کتب معتمدہ سے مذکور ہوا۔
    مگر یہ تینوں الگ الگ چیزیں ہیں ۔ عدت کی حقیقت میں آخری دو چیزیں داخل نہیں ۔لہذا اگر عورت طلاق یا خاوند کی وفات کی صورت میں مخصوص پیریڈ بغیر نکاح کے گزار دیتی ہے مگر سوگ نہیں کرتی اور گھر کے اندر اپنے آپ کو پابند نہیں کرتی تو اسکی عدت مکمل ہوگئی یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے عدت نہیں گذاری ہاں بلا عذر سوگ ترک کرنے اور گھر سے باہر نکلنے کیوجہ سے اسے گناہ ملے گا۔
    ایسے ہی عوام کا خیال ہے کہ اگر عورت عدت میں پردہ نہیں کرتی تو اسکی عدت پوری نہیں ہوتی حالانکہ ایسا نہیں ہے یہ ضرور ہے کہ عدت والی کو پردہ کرنا چاہیے ،نہیں کرے گی تو گنہگار ہوگی ۔مگر عدت ہی میں کیوں۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ پردہ تو ہر حال میں لازم ہے ۔ دورانِ عدت بھی اور علاوہ عدت بھی اور عدت ہو یا عدت کے علاوہ محارم سے پردہ نہیں اور غیر محارم سے پردہ ہے ۔لہذا باپ ، دادا، نانا ، چچا ، ماموں اور اپنی اولاد سے پردہ نہیں ہے ۔ اور دیور ، جیٹھ ،چچازاد، ماموں زاد اور بہنوئی سے عدت میں بھی اور عدت کے علاوہ بھی پردہ ہے۔
    قرآنِ عظیم میں ہے:
    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوٰجِکَ وَ بَنَاتِکَ وَ نِسَآء ِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلٰبِیْبِہِنَّ ذٰلِکَ اَدْنۤی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ وَکَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔
    اے نبی اپنی ازواج اور صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادیں کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے چہرے پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو ،تو ستائی نہ جائیں اور اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
    (سورۃ الاحزاب:٥٩)

حررہ :

المفتی محمد ابراھیم القادری

رئیس دار الافتاء

فی الجامعہ الغوثیہ الرضویہ بسکھر

خرجہ:

جمیل احمد چنہ

خادم: دار الافتاء جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر

مدرس:

جامعہ انیس المدارس سکھر

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری