شیر مادر بینک کا شرعی حکم

( مفتی محمد ابراہیم قادری , (رکن اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیر مادر بینک کا شرعی حکم

   تحریر:
    مفتی محمد ابراہیم قادری (رکن اسلامی نظریاتی کونسل)
    پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن اسلام آباد کا مراسلہ جناب چیرمین اسلامی نظریاتی کونسل کو موصول ہوا جس میں عصرِ حاضر میں پیش آمدہ چند مسائل پر غور و خوض کی استدعا کی گئی ان میں سے ایک مسئلہ بینک برائے شیرِ مادر ہے۔
    شیر بینک کی حقیقت:
    پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی طرف سے شیر مادر بینک کی اس طرح وضاحت کی گئی کہ اگر کسی عورت کا دودھ اسکے بچوں کی پیدائش کے بعد ذخیرہ کیا جائے اور ایسے بچوں کے لیے اس کو استعمال کیا جائے جن کی والدہ کا دودھ کسی سبب سے نہ ہو یا کم ہو خصوصاً ایسے بچے جن کی والدہ پیدائش کے ساتھ ہی مرجائے۔
    اس بارے میں گذارش ہے کہ ایسا شیر خوار بچہ جسکی والدہ فوت ہوجائے یا اس کا دودھ اتنا کم ہو کہ اس سے بچے کی غذائی ضرورت پوری نہ ہوسکتی ہو یا اسکی والدہ کا دودھ مضرِ صحت ہو تو ایسی صورتوں میں شریعتِ مطہرہ میں اس کے کئی متبادل طریقے موجود ہیں۔
    (١)کسی دوسری عورت سے دودھ پلوایا جائے خواہ وہ اجرت پر پلائے یا بلا اجرت ۔
    چنانچہ عرب معاشرے میں خاص کر اسکا رواج تھا خود جناب رسالت مآب ختمی مرتبت ؐ نے حضرت ثویبہ اور حضرت حلیمہ سعدیہ کا دودھ پیااور اسلام کی تشریف آوری کے بعد بھی اس طریقے کو برقرار رکھا گیا اور خود قرآنِ حکیم نے بھی اس طرف رہنمائی فرمائی     چنانچہ ارشادِ ربانی ہے :
    وإن أردتم أن تسترضعوا أولادکم فلا جناح علیکم إذا سلمتم ما آتیتم بالمعروف(البقرہ:٢٣٣)
    ترجمہ:
    اگر تم چاہو کہ دائیوں سے اپنے بچوں کہ دودھ پلواؤتو بھی تم پر کوئی مضائقہ نہیں جبکہ جو دینا مقرر ہوا بھلائی کے ساتھ انہیں ادا کرو۔
    قرآنِ کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہے:
    وإن تعاسرتم فسترضع لہ أخری (الطلاق:٦)
    ترجمہ:
    اور اگر تم دونوں دشواری محسوس کرو تو کوئی دوسری عورت دودھ پلادے گی۔
    (٢)کسی حلال جانور جیسے: بکری وغیرہ کا دودھ پلایا جائے ۔آج کے دور میں بھی یہ طریقہ مفید و مؤثر اور معمول بہ ہے ۔
    (٣)کسی ماہر ڈاکٹر کی تجویز پر ایسے بچوں کو ڈبے کا دودھ پلایا جائے آج کل دنیا میں ایسے بچوں کے لیے یہی طریقہ رائج ہے۔
    یورپ میں کچھ برسوں سے ماں کے دودھ کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے ورنہ آج سے ٢٠/٢٥برس پہلے سارا یورپ ڈبے کے دودھ پر پل رہا تھا۔
    یہ تینوں طریقے سادے اور قابل عمل ہیں ان میں کوئی شرعی دشواری نہیں جبکہ شیرِ مادر بینک میں بہت سی شرعی دشواریاں موجود ہیں ۔
    ایک یہ کہ دنیا میں جہاں کہیں ایسی ضروریات کے لیے کوئی منظم نظام تشکیل پاتاہے تو خرید و فروخت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا اسکی مثال دنیا میں موجود بلڈبینک ہیں۔
    لھذا اگر شیرِ مادر بینک کا نظام بھی انہیں خطوط پر قائم ہو اور ان میں دودھ کی خریدہ فروخت کا سلسلہ جاری ہو تو علماء اسلام کا ایک بڑا طبقہ خاص کر احناف دودھ کی خریدو فروخت کو ناجائز کہتا ہے۔
    چنانچہ ہدایہ میں ہے:
    ولا بیع لبن امرأۃ فی قدح
    پیالہ میں عورت کے دودھ کی بیع' بھی'جائز نہیں۔
    (ہدایہ ،کتاب البیوع، باب البیع الفاسد ص:٣٩،مطبوعہ : ضیأ القرآن پبلی کیشنز)
    یہاں ''فی قدح''زیر بحث دودھ بینک کا صریح جزئیہ ہے۔
    دوسری خرابی یہ ہے کہ اسلام کی نظر میں دودھ کے رشتوں کی بڑی اہمیت ہے دودھ کے رشتوں کی حرمت کو قرآن وسنت میں نسب کے رشتوں کے برابرگردانا گیا ہے قرآنِ مجید میں نسبی رشتوں کی حرمت کے ساتھ ساتھ اسی پیرائے میں رضاعت کے رشتوں کی حرمت بیان فرمائی گئی :
    چنانچہ قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے:
    وأمہاتکم اللاتی أرضعنکم وأخواتکم من الرضاعۃ    (النسائ:٢٢)
    اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور تمہاری رضاعی بہنیں 'حرام 'ہیں۔
    اور حدیث شریف میں ہے:
    یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من الولادۃرواہ البخاری
    جو رشتے ولادت سے حرام ہوتے ہیں وہ دودھ سے بھی حرام ہوتے ہیں۔
    (مشکوۃ شریف ،ص ٢٧٣،قدیمی کتب خانہ کراچی)
    حدیث شریف میں بیان کردہ اس ضابطہ کی بنا پر رضیع مرضعہ کا بیٹا اور وہ اس کی ماں اور مرضعہ کا شوہر رضیع کا باپ اور مرضعہ کی اولاد رضیع کے بھائی بہن کہلاتے ہیںان کا آپس میں نکاح حرام اور ان کا ایک دوسرے سے شرعی پردہ نہیں ۔
    الغرض : شیر خوار بچے کا کسی عورت کا دودھ پینا اسکی صرف جسمانی نشو ونما کا باعث نہیں بلکہ رضاعی رشتوں کا بھی سبب ہے۔
    شریعت جیسے نسب کے اختلاط والتباس کو پسند نہیں کرتی رضاعت کے رشتوں کے اشتباہ واختلاط کو بھی پسند نہیں کرتی۔
    اسی لیے فقہاء ِ اسلام نے لکہا ہے کہ عورت ہر بچے کو دودھ نہ پلائے نہ ہی شوہر کی اجازت کے بغیر کسی اور بچے کو دودھ پلائے اور اگر دودھ پلانا ضروری ہو تو اسے یاد رکھے اور خاندان کے لوگوں کو بتائے تاکہ کل دودھ کے رشتے کی حرمت پامال نہ ہو۔
    مِلک بینک میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس سے رضاعت کے رشتوں کے اختلاط و اشتباہ کی وجہ سے شریعت مطہرہ کی بیان کردہ حرمتیں پامال ہوں گی ۔
    لہذااسلامی نقطہ نظر سے ایسی بینکوں کے قیام کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے۔
                    واللہ تعالی ورسولہ اعلم

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • استقبل ربيع الأول
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری