مؤلفۃ القلوب سے متعلق بعض وضاحت طلب امور

( مفتی محمد ابراہیم قادری , (رکن اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان

    عنوان:
        مؤلفۃ القلوب سے متعلق بعض وضاحت طلب امور
    اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس نمبر ١٨٨ میں مؤلفۃ القوب کے بارے میں سابقہ کونسل کی مجوزہ سفارش کا درج ذیل متن برائے غور وخوض پیش ہوا ''المؤلفۃ القلوب'' یعنی ضعفِ اسلام/ضعفِ عقیدہ کے شکار مسلمان اور ایسے غیر مسلم ہیں جن کی دلجوئی سے ان کے اسلام قبول کرنے ،اسلام میں پختگی آنے ،قتال مع المسلمین سے باز رہنے اور اس کے متبعین کی طرف سے ان کی پیروی کرنے کی امید اور توقع ہو ۔
    اس سفارش کے تمام پہلوؤں پر غور کرنے سے پہلے چند امور طے ہونے چاہییں ۔
    امرِ اول:
    مؤلفۃ القلوب کے مصداق میں مسلم ،غیر مسلم اس طرح فقیر اور مالدار داخل ہیں یا نہیں۔
    امرِ دوم :
    عھدِ رسالت میں تالیفِ قلب کے طور پر حصہ پانے والے لوگ مسلم تھے یا غیر مسلم یا دونوں تھے۔
    امرِ سوم :
    تالیف قلب کے طور پر دیا جانے والا مال زکوٰۃ،غنیمت ،فئی میں سے کون سی قسم کا تھا۔
    امرِ چہارم :
    مؤلفۃالقلوب کا حصہ منسوخ ہے یا باقی ہے۔
    امرِ پنجم:
    تالیف کی خاطر غیر مسلموں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں۔
    امرِ اول کی تنقیح:
    قرآن کریم میںہے:والمؤلفۃ قلوبھم۔اور یہ مطلق ہے جو مسلم غیر مسلم ،فقیر ،مالدار سب کو شامل ہے ۔ہم قرآن کریم کے مطلوق کو بلا دلیل یا دلیلِ ظنی کے ساتھ مقید نہیں کرسکتے۔
    امرِ دوم کی تنقیح :
    عھدِ رسالت میں جن لوگوں کو تالیف کے طور پر مال دیا گیا اس میں مسلم و غیر مسلم دونوں شامل تھے۔
    چنانچہ صحیح مسلم ''باب الفضائل ''جلد دوم میں ہے:
    وأعطی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أبا سفیان وصفوان والأقرع وعیینۃ وعباسا کل واحد منہم مائۃ من الإبل وقال صفوان بن أمیۃ: لقد أعطانی ما أعطانی، وہو أبغض الناس إلی، فما زال یعطینی حتی کان - علیہ الصلاۃ والسلام أحب الناس إلی
    رسول اللہ ؐ نے ابوسفیان ،صفوان ،اقرع ،عیینہ اور عباس میں سے ہر ایک کو سؤ اونٹ دیے ،صفوان بن امیہ نے کہا مجھے دیا جو دیا اس حال میں کہ آپ میرے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ مبغوض تھے ،آپ مجھے مسلسل دیتے رہے یہاں تک کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوگئے۔
    الفاظِ حدیث سے ظاہر ہے کہ اس وقت صفوان مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
     تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کی تفسیر میں ہے:
    وأما المؤلفۃ قلوبہم فأقسام: منہم من یعطی لیسلم، کما أعطی النبی صلی اللہ علیہ وسلم (صفوان بن أمیۃ) من غنائم حنین، وقد کان شہدہا مشرکا
    مؤلفۃ القلوب کی متعدد اقسام ہیں ان میں سے بعض کو اس لیے دیا جاتا ہے تاکہ اسلام لے آئیںجیسا کہ رسول اللہ ؐ نے صفوان بن امیہ کو حنین کی غنائم سے دیا حالانکہ وہ شرک کی حالت میں جنگ میں شریک ہوا تھا۔
    اسمیںصراحت ہے کہ اس وقت صفوان بن امیہ اسلام نہیں لائے تھے۔
    امرِ سوم کی تنقیح:
    اس بارے میں علماء کے کئی اقوال ہیں :
    ایک قول یہ ہے کہ سید عالم ؐ نے تالیفِ قلب کے لیے کسی غیر مسلم کو زکوۃ سے نہیںبلکہ مالِ غنیمت سے عطا فرمایا ۔
    اوربعض نے کہا کہ آپ نے ہر دوسے عطا فرمایا زکوٰۃ سے بھی اور دوسری مدات سے بھی۔
    چنانچہ حافظ بدر الدین عینی حنفی البنیایہ شرح الھدایہ میں فرماتے ہیں:
    وفی" المحیط " و" المبسوط کان علیہ الصلاۃ والسلام یعطیہم سہما من الصدقۃ یتألفہم علی الإسلام.
    محیط اور مبسوط میں ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام انہیں صدقہ سے حصہ عطا فرماتے تھے انکی اسلام پر تالیف فرماتے ہوئے ۔
    البنایہ میں دوسرے مقام پر ہے :
    عن عکرمۃ أن الصدقات کانت تفرق علی الأصناف الثمانیۃ
    عکرمہ سے مروی ہے کہ صدقات آٹھ اقسام پر منقسم ہیں۔
    (کتاب الزکوۃ،باب من یجوز دفع الصدقات،ج:٣،ص:٥٢٤،مطبوعہ :بیروت)
    امرِ چہارم کی تنقیح:
    مؤلفۃ القلوب کا حصہ منسوخ نہیں تا قیامت باقی ہے اس پر دورِ حاضر کے چند علماء کی آراء ملاحظہ ہوں:
    مفتی محمد شفیع دیوبندی معارف القرآن میں لکھتے ہیں:
    مؤلفۃ القلوب کا حصہ ائمہ اربعہ کے نزدیک منسوخ نہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ بعض حضرات نے فقراء و مساکین کے علاوہ کسی دوسرے مصرف میں فقر و حاجت مندی کے ساتھ مشروط نہیں کیا اور بعض نے یہ شرط کی ہے جن حضرات نے یہ شرط رکھی ہے وہ مؤلفۃ القلوب میں بھی صرف انہی لوگوں کو دیتے ہیں جو حاجت مند اور غریب ہو ۔بہر حال یہ حصہ قائم اور باقی ہے ۔بحوالہ تفسیر مظہری جلد:٤، ص:٤٠٤ ،مطبوعہ ادارہ معارف القرآن کراچی ۔
    سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:
     ہمارے نزدیک حق یہ ہے کہ مؤلفۃ القلوب کا حصہ قیامت تک کے لیے ساقط ہوجانے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
    (تفہیم القرآن جلد:٢،ص:٢٠٧،مطبوعہ: ادارہ ترجمان القرآن لمیٹڈ لاہور)
    جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں :
    علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ یہ منسوخ نہیں بلکہ اگر کسی وقت اس طرح خرچ کرنے کی ضرورت پڑے تو خلیفئہ وقت کو اجازت ہے ۔
    ابن عربی لکھتے ہیںکہ : میرے نزدیک حق یہ ہے کہ اگر اسلام قوی اور غالب ہو تویہ مصرف باقی نہیں رہے گا اور اگر ان کی تالیفِ قلب کی ضرورت پڑجائے تو انہیں زکوٰۃ سے حصہ دیا جائے گا جس طرح حضور ؐ نے عطا فرمایا ۔
    (تفسیر ضیاء القرآن ،ج:٢ ، ص٢٢٣،مطبوعہ : ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
    امرِ پنجم کی تنقیح:
    مؤلفۃ القلوب قرآن کریم کے بیان کردہ مصارفِ ثمانیہ میں سے ایک ہے۔ انہیں ممنوع عن الزکوٰۃ قرار دینے کا مطلب انہیں مصارفِ زکوۃ سے خارج کرنا ہے حالانکہ ہم اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ کسی مصرف کو مصارف سے خارج نہیں کرسکتے۔
    البتہ صحابہ کرام علیھم الرضوان نے اپنے دور میں غلبئہ اسلام کے پیشِ نظر اسے وقتی طور پر موقوف فرمادیا ۔ان کا یہ عمل ''انتھاء الحکم بانتھاء العلاۃ''کے قبیل سے ہے ۔
    لہذا تالیف کی جب بھی علت پائی جائے گی ان لوگوں پر زکوۃ کو خرچ کیا جائے گا۔
    یہ امر بھی لائقِ توجہ ہے کہ اکثر روایات سے ثابت ہے کہ حضور سید عالم ؐ مؤلفۃ القلوب کو غنائم سے عطا فرماتے تھے ۔اگر اموالِ زکوٰۃ سے دینا جائز ہوتا تو اموالِ زکوٰۃ سے بھی عطا فرماتے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
    اسکا ایک جواب یہ ہے کہ گذشتہ سطور میں البنایہ کے حوالے سے آچکا ہے کہ آپ نے مؤلفۃ القلوب کو صدقات سے بھی عطا فرمایا۔
    اور دوسرا جواب یہ ہے کہ آپ نے مؤلفۃ القلوب پر زکوۃ صرف کرنے سے نہی کب فرمائی زیادہ سے زیادہ علی سبیل التنزل آپ کا عمل ملتا ہے کہ آپ نے ان حضرات کو غنائم سے عطا فرمایا ۔اس سے یہ کیسے لازم آتا ہے کہ اموالِ زکوٰۃ سے انہیں دینا ناجائز ہے کیونکہ حنفیہ کے نزدیک فعلِ نبی سے نہ وجوب ثابت ہوتا ہے نہ حرمت۔ وجوب امر سے آتا ہے اور حرمت نہی سے ثابت ہوتی ہے ۔ چونکہ اس باب میں کوئی نہی شرعی وارد نہیں اسلیے مؤلفۃ القلوب کو ممنوع عن الزکوۃ کہنا عجیب جسارت ہوگی۔
    لہذا میری رائے میں گذشتہ کونسل کی مجوزہ سفارش میں کوئی سقم نہیں اسے بحال رکھنا چاہیے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
  مفتی محمد ابراہیم القادری غفرلہ

    رکن اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • استقبل ربيع الأول
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری