شبِ براءت

نجات کی رات

از: علامہ محمد شہزاد قادری

جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ و نسلم علی رسولہ الکریم و علی آلہ الطیبین و اصحابہ الطاہرین و ازواجہ المطہرات امھات المؤمنین و اولیاء امتہ الکاملین العارفین و علماء ملتہ الراشدین المرشدین و من تبعھم باحسان الی یوم الدین، اما بعد.....!!

            ماہ مبارک شعبان قمری سال کا وہ مقدس مہینہ ہے جس کو اسلام اور اہل اسلام کی نظر میں خاص اہمیت اور قدر و منزلت حاصل ہے۔اس اہمیت کا اندازہ اس سے بخوبی کیا جا سکتا ہے کہ نبی مکرم صلیاللہ تعالی علیہ وآلہ و اصحابہ و بارک و سلم نے ارشاد فرمایا:شعبان میرا مہینہ ہے۔جس نے ماہ شعبان کی تعظیم کی اس نے میرے امر (حکم، دین) کی تعظیم کی اور جس نے میرے امر کی تعظیم کی میں اس کا فَرَط (پیش رو ثواب) اور قیامت کے دن کے لیے ذخیرہ ہوں گا۔

            اس مبارک مہینے کی پندرویں شب کو اہل ایمان "شب برأت" کہتے ہیں جس کے معنی ”نجات کی رات“ ہیں۔جب کہ اسی کو لیلۃ الصک (بخشش کا پروانہ ملنے کی رات) اور اللیلۃ المبارکۃ بھی کہا جاتا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم کی سورۃ دخان کی آیت مقدسہ ”اِنَّا انزلنٰہ فی لیلۃ مبارکۃ اِنَّا کنَّا منذرین“ کی ایک تفسیر میں کہا گیا ہے، چنانچہ علامہ سید محمود آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں اسی آیت پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

            و قال عِکرمۃ و جماعۃ ہی لیلۃ النصف من شعبان، الخ..

            یعنی جناب عِکرمہ اور ایک بڑی جماعتِ علماء کے مطابق لیلۃ مبارکہ سے مراد نصف شعبان کی رات ہے۔

            اس بات پر اگر یہ سوال اٹھے کہ سورۃ القدر میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ:ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں اتارا تو اس اعتبار سے تو لیلۃ مبارکہ اور لیلۃ القدر دونوں سے شب قدر ہی مراد لینی چاہیے نہ کہ شب نصف شعبان۔

            اس کا مفسرین کرام یہ جواب دیتے ہیں کہ:نزول قرآن کے تین مراحل اور دور ہیں، پہلا یہ کہ قرآن کریم لوح محفوظ سے بیت المعمور پر اتارا گیا، جو کہ ساتویں آسمان پر کعبۃ اللہ کی عین سیدھ میں واقع ہے، دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ بیت المعمور سے جناب جبرئیل علیہ السلام نے اللّٰہ کا حکم پا کر اسے آسمانِ دنیا پر اتارا، تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ آسمان دنیا سے حضور علیہ السلام کے قلب مطہَّر پر لگ بھگ ۳۲ سال کے عرصے میں جبرئیل علیہ السلام لے کر اترتے رہے۔

            نزول کا پہلا مرحلہ یعنی لوحِ محفوظ سے بیت المعمور پر اتارا جانا شب برأت میں ہوا، جس کا سورہ "دخان" میں ذکر ہے، اور نزول کا دوسرا مرحلہ یعنی بیت المعمور سے آسمان دنیا اتارا جانا شب قدر میں وقوع پذیر ہوا، اورسورۃ القدر میں اسی کا ذکر آیا ہے۔اور یوں لیلۃ مبارکۃ کی تفسیر نصف شعبان کی رات سے کرنا درست ہے۔

شبِ براء ت، حدیثِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی روشنی میں

            شب برأت کی فضیلت پر بہت سی احادیث طیبہ روشنی ڈالتی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

            پہلی حدیث:حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب نصف شعبان (شب برأت) کی رات آئے تو اس رات قیام کرو یعنی نماز پڑھو اور اگلے دن روزہ رکھو اس لیے کہ اللہ تبارک وتعالی اس رات آسمانِ دنیا پر نزول (اپنی خاص تجلی) فرماتا ہے پہر اعلان فرماتا ہے، ہے کوئی مجھ سے مغفرت مانگنے والا؟ کہ میں اسے بخش دوں، ہے کوئی مجھ سے رزق کا طلبگار؟ کہ میں اسے روزی عطاء کروں،  ہے کوئی مصبتوں میں مبتلا؟ (جو مجھ سے چھٹکارا مانگے) تو میں اسے عافیت عطاء کروں،  ہے کوئی یہ مانگنے والا؟ ہے کوئی وہ مانگنے والا؟ یعنی (اس کے علاوہ کچھ اور مانگنے والا) تو میں اسے عطاء کروں، یہ سلسلہ فجر ہو جانے تک جاری رہتا ہے۔ (رواہ ابنُ ماجہ والبہقی فی شعب الایمان)

            دوسری حدیث:حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں ایک رات میں نے حضور علیہ السلام کو میں نے گھر میں موجود نہ پایا تو میں حضور کو ڈھونڈنے نکلی، (یہ نصف شعبان کی رات تھی) تو میں نے آپ کو جنت البقیع میں کھڑا پایا، آپ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا ہوا تھا۔جب حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا:اے عائشہ کیا تجھے یہ اندیشہ تھا کہ اللّٰہ اور اس کا رسول تیرے ساتھ کوئی زیادتی کریں گے؟ میں نے عرض کی ایسا تو کچھ نہیں لیکن میں نے یہ سمجھا کہ حضور (کسی کام سے) کسی اور زوجہ محترمہ کے پاس نہ چلے گئے ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللّٰہ رب العزت نصف شعبان کی رات آسمانِ دنیا پر جلوہ گری فرماتا ہے تو قبیلہ بنو کلب کی بھیڑ، بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ اپنے بندوں کی بخشش فرماتا ہے۔(رواہ الترمذی و ابن ماجہ و البیہقی و ابن ابی شیبہ)

            تیسری حدیث:حضرت عبد اللہ ابن عمرو بن عاص رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شب برأت میں اللہ تعالی (اپنی شان کے لائق) اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اپنے سب بندوں کو (جو اس سے بخشش مانگے) بخش دیتا ہے۔ مگر دشمنی رکھنے والے اور اپنے آپ کو قتل کرنے والے کو نہیں بخشتا۔(رواہ الامام احمد ابن حنبل فی مسندہٖ)

            واضح رہے کہ اس مبارک رات میں ہر بندہ اللہ تعالی کی رحمت، مغفرت اور منہ مانگی برکت کا مستحق ہو سکتا ہے مگر چند بد نصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بارے میں احادیث طیبہ میں آیا کہ انہیں اس مبارک شب میں نہیں بخشا جاتا (ہاں اگر یہ سچی توبہ کر لیں اور اللہ تعالی سے آئندہ ان گناہوں کے نہ کرنے کا وعدہ کر لیں تو ان کی بھی بخشش ہو سکتی ہے) وہ چند لوگ یہ ہیں:

            (۱) اللہ تعالی تعالی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرانے والا کافر، (۲) جس کی شراب پینے کی عادت ہو، (۳) والدین میں سے کسی کی بھی نافرمانی کرنے والا، (۴) جس کی زناء کی عادت ہو، (۵) جس نے اپنے رشتداروں سے تعلق توڑ دیا ہو، (۶) جو لوگوں سے لڑتا جگھڑتا ہو، (۷) جو تکبر سے اپنے پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھتا ہو، (یعنی اترانے اور اپنے اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرنے کے لیے لمبے کپڑے پھنتا ہو) جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی طرح کا تکبر کرنے والا ہو،  (۷) وہ شخص جو چغلخوری کرتا ہو (یعنی دو مسلمانوں کو لڑوانے کے لیے اِدھر کی بات اُدھر اور اُدھر کی بات اِدھر کرتا ہو)

            مسلمانوں کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ شب برأت جیسی مبارک رات میں بھی مذکورہ بالا لوگوں کی بخشش نہیں ہوتی۔اس لیے کہ یہ انتھائی خطرناک ترین گناہ ہیں اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کہیں ہمارے اندر ان میں سے تو کوئی گناہ نہیں پایا جاتا۔اگر خدانخواستہ پایا جاتا ہے تو محرومی سے بہتر ہے کہ اس رات کے آنے سے پہلے پہلے یا اسی رات اس سے سچی توبہ کر لی جائے کیونکہ یہ بابِ توبہ ہر ایک لیے کھلا ہے۔

شب برأت کے معمولات

            اس شب میں مسلمانوں کو چاہیے کہ توبہ اور استغفار کریں۔سچے دل سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں معافی کا طلبگار ہوں۔نمازوں اور تلاوت قرآن کی کثرت کریں۔جن کے ذمے قضا نمازیں باقی ہوں وہ نوافل کی بجائے قضا نمازیں پڑھنے کو ترجیح دیں۔انفرادی عبادات کے ساتھ مساجد میں ہونے والی اجتماعی عبادات مثلاً حلقہئ ذکر، صلوۃ تسبیح، مغرب میں پڑھے جانے والے نوافل اور محافل نعت میں بھی شرکت کی کوشش کریں کہ بسااوقات مجمع میں موجود کسی ایک بندے کی دعا و عبادت کی قبولیت سب کے لیے قبولیت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔اس رات قبرستان جا کر مسلمانوں کی روح کو فاتحہ کرنا بھی مستحسن اور اچھا عمل ہے نیز اپنے اپنے گھروں میں بھی مختلف حلال اشیاء پکا کر عزیزوں اور محلے میں بانٹنے یا ان پر ہی اپنے مرحومین کے لیے فاتحہ دلانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

آتش بازی سے بچیں

            یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پٹاخے پھوڑنا، پھل جھڑیاں جلانا، گولیاں چلانا، سڑکوں اور گلیوں میں بم پھوڑنا اور کسی بھی قسم کا آتش گیر مادہ بلاوجہ استعمال کرنا فضول خرچی اور اسرافِ مال ہے جو کہ سخت ناجائز اور گناہ ہے۔اور راہ چلتے اور عبادت میں مصروف مسلمانوں کی اذیت کا سبب ہونے کی وجہ سے سخت حرام ہے۔لہذا خود بھی اس سے بچیں، اپنے بچوں کو بھی نہ ایسی چیزیں دلا کر دیں اور نہ ہی انہیں ان چیزوں میں خرچ کرنے کی اجازت دیں بلکہ انہیں اس سے روکیں۔کیونکہ ان کے اس عمل میں اللّٰہ کے ہاں آپ سے سوال ہوگا۔اور یہ بھی یاد رکہیں کہ کسی بھی مذہبی تہوار پر آتش بازی کرنا نیز خوشی کے موقعے پر اس کا مظاہرہ مسلمانوں کے بجائے کافروں کا طریقہ ہے جس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں۔مسلمانوں کو سوچنا چاہیے کہ شب برأت جیسی مقدس رات میں وہ اللہ جل وعلاکی رحمت حاصل کرنا چاہتے ہیں یا کسی خلاف شریعت عمل کو اپنا کر اللّٰہ کی ناراضگی مول لینے کو ترجیح دیتے ہیں؟

            اللہ تبارک وتعالی ہمیں اس مقدس رات کا احترام کرنے اور اس کی برکتوں کا مکمل طور پر مستحق بننے کی توفیق عطاء فرمائے۔

آمین بجاہِ سیّد المرسلین

علیہ و علی آلہ و اصحابہ افضل صلوۃ المصلین و ازکی سلام المسلمین۔

و آخر دعوانا اَنِ الحمد للّٰہ رب العالمین

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری