Question & Answer

  • کیا تعویذ لٹکانا شرک ہے؟؟؟

        
        کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس مئلہ کے بارے میں کہ تعویذ لٹکانا شرعاًکیسا ہے     آیا شرک ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
        اگر شرک نہیں تو ان احادیث کا کیا جواب ہے جن میں تعویذ لٹکانے کو شرک کہا گیا۔۔۔۔۔۔؟؟؟
        جیسا کہ مسند امام احمد بن حنبل میں مسطور حدیث میں ہے:۔۔۔۔۔۔عن عقبۃ بن عامر الجہنی:أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أقبل إلیہ رہط فبایع تسعۃ وأمسک عن واحد فقالوا یا رسول اللہ بایعت تسعۃ وترکت ہذا قال إن علیہ تمیمۃ فأدخل یدہ فقطعہا فبایعہ وقال من علق تمیمۃ فقد أشرک.
                    جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں
                                            السائل :صاحبزادہ رمحمدضوان قادری

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    الجواب

         تعویذ اگر آیاتِ قرآنیہ ، اسمائے الٰہیہ اور ادعیہ سے ہو تو جائز ،اور قرآن وسنت سے مبرھن ہے
    جیسا کہ سورہ بنی اسرائیل آیۃ #٨٢ میں فرمان باری عز اسمہ ہے:۔۔۔۔۔۔وننزل من القرء ان ما ہو شفاء ورحمۃ للمؤمنین
        اور قرآن میں ہم وہ چیز نازل فرماتے ہیں جو مؤمنوں کے لیے رحمت اور شفاء ہے۔
        مذکورہ آیۃ کے تحت علامہ شہاب الدین محمود بن عبداللہ الحسینی الألوسی اپنی تفسیر ''روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی '' میں رقمطراز ہیں:
        وقال مالک : لا بأس بتعلیق الکتب التی فیہا أسماء اللہ علی أعناق المرضی علی وجہ التبرک بہا إذا لم یرد معلقا بذلک مدافعۃ العین ، وعنی بذلک أنہ لا بأس بالتعلیق بعد نزول البلاء رجاء الفرج والبر کالرقی التی وردت السنۃ بہا من العین ۔۔۔۔۔۔ وعند ابن المسیب یجوز تعلیق العوذۃ من کتاب اللہ تعالی فی قصبۃ ونحوہا ۔۔۔۔۔۔ ورخص الباقر فی العوذۃ تعلق علی الصبیان مطلقاً ، وکان ابن سیرین لا یری بأساً بالشیء من القرآن یعلقہ الإنسان کبیراً أو صغیراً مطلقاً ، وہو الذی علیہ الناس قدیماً وحدیثاً فی سائر الأمصار۔۔۔۔۔۔
        ترجمہ:امام مالک نے کہا جن تعویذوں میں اللہ تعالیٰ کے اسماء ہوں انکو بطور تبرک مریضوں کے گلوں میں لٹکانے میں کوئی حرج نہیں جبکہ لٹکانے والا اس سے( حقیقتا)نظر دور کرنے کا ارادہ نہ کرے ۔۔۔۔۔۔اوراس سے مراد یہ ہے کہ مصیبت نازل ہونے کے بعد راحت اور خوشی کی امید میں تعویذ لٹکانے میں کوئی حرج نہیں اور یہ اس دم کرنے کے حکم میں ہے جو نظر لگنے کے متعلق سنت میں وارد ہے ۔۔۔۔۔۔
        ابن مسیب کے نزدیک کتاب اللہ سے تعویذ لکھ کر کسی بانس وغیرہ میں لٹکانے میں کوئی حرج نہیں     
        امام باقر بچوں کے گلوں میں تعویذ لٹکانے کی مطلقاً اجازت دیتے تھے،
        (جبکہ)امام ابن سیرین کے نزدیک بچہ ہو یا بڑا تعویذ لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ۔تمام شہروں میں ابتدائی زمانے سے لیکر اب تک تمام لوگوں کا اس پر عمل ہے ۔
        ( تفسیر روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی )
        تعویذ لٹکانے کے متعلق امام ابو عیسی ترمذی اپنی سنن میں رقمطراز ہیں:
        عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا فَزِعَ أَحَدُکُمْ فِی النَّوْمِ فَلْیَقُلْ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّہِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَشَرِّ عِبَادِہِ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَأَنْ یَحْضُرُونِ فَإِنَّہَا لَنْ تَضُرَّہُ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یُلَقِّنُہَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِہِ وَمَنْ لَمْ یَبْلُغْ مِنْہُمْ کَتَبَہَا فِی صَکٍّ ثُمَّ عَلَّقَہَا فِی عُنُقِہِ
        ترجمہ:۔ عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور (ان کے واسطے سے) اپنے داد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐنے فرمایا:جب تم میں سے کوئی نیند میں ڈرجائے تو وہ یہ کلمات پڑھے: '' أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّہِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَشَرِّ عِبَادِہِ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَأَنْ یَحْضُرُون'' تو شیاطین اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ،اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ یہ کلمات اپنے بالغ بچوں کو تو سکھاتے اور نابالغ بچوں کے لئے ایک پرچہ میں لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے۔
         (سنن الترمذی کتاب الدعوات عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،١١:٤٣٥ الرقم:٣٤٥١)
        اس حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچوں اور ان پڑھ بالغوں کے لئے صحیح تعویذ بناناجائز ہے۔۔۔۔۔۔ البتہ اس کےساتھ چند شرائط کا لحاظ لازمی ہے
         جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ بخاری شریف کی شر ح میںرقمطراز ہیں؛
        وَقَدْ أَجْمَعَ الْعُلَمَاء عَلَی جَوَاز الرُّقَی عِنْد اِجْتِمَاع ثَلَاثَۃ شُرُوط:(١)أَنْ یَکُون بِکَلَامِ اللَّہ تَعَالَی أَوْ بِأَسْمَائِہِ وَصِفَاتہ ، (٢)بِاللِّسَانِ الْعَرَبِیّ أَوْ بِمَا یُعْرَف مَعْنَاہُ مِنْ غَیْرہ ،(٣) وَأَنْ یَعْتَقِد أَنَّ الرُّقْیَۃ لَا تُؤْثَر بِذَاتِہَا بَلْ بِذَاتِ اللَّہ تَعَالَی
        (فتح الباری شرح صحیح البخاری،کتاب الطب ،باب الرقی بالقرآن والمعوذات10/195 ،حدیث نمبر:5735)
        ترجمہ:۔علماء کا اس پر اجماع ہے کہ تعویذ تین شرائط کے ساتھ جائز ہے1۔اللہ تعالیٰ کے کلام،اس کے اسماء یا صفات کیساتھ ہو،2۔عربی زبان میں ہو اور اگر عربی زبان کے علاوہ میں ہو تو معنی معروف ہو ،3۔تعویذ استعمال کرنے والے کا عقیدہ یہ ہو کہ تعویذ میں بذات خود کوئی اثر نہیں بلکہ اس میں اثر اللہ تعالیٰ نے ڈالا ہے۔الغرض:جواز تمیمہ(تعویذ) تین شرائط کےساتھ مشروط ہے
        نیز امام مسلم بن حجاج اپنی صحیح میں رقمطراز ہیں:
        عن عوف بن مالک الأشجعی قال کنا نرقی فی الجاہلیۃ فقلنا یا رسول اللہ کیف تری فی ذلک فقال اعرضوا علی رقاکم لا بأس بالرقی ما لم یکن فیہ شرک
        عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں ہم دور جاہلیت میں دم کرتے تھے ہم نے عرض کی یا رسول ؐ ہمارے اس دم کو آپ کیسے دیکھتے ہیںفرمایا مجھ پر اپنے دم کے کلمات پیش کرو جب تک اسمیں شرکیہ کلمات نہ ہوں اس میں کوئی حرج نہیں۔
        (کتاب السلام باب لا بأس بالرقی ما لم یکن فیہ شرک)
        یہاں ذہنوں میں سوال ضرور گردش کرتا ہے کہ اگر کسی کو کرنا نہ آتاہو یا وہ دعاؤںکو یاد نہ کرسکتاہو تو ایسا شخص کیا کرے۔۔۔۔۔۔تو اسکا جواب حضرت عمر و بن شعیب سے مروی حدیث مذکور ہے ۔
        علامہ ابن عابدین شامی ''ردالمحتار'' میںرقمطراز ہیں :
            اختلف فی الاستشفاء بالقرآن بأن یقرأ علی المریض أو الملدوغ الفاتحۃ ، أو یکتب فی ورق ویعلق علیہ أو فی طست ویغسل ویسقی .وعن ( النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ کان یعوذ نفسہ ) قال رضی اللہ عنہ : وعلی الجواز عمل الناس الیوم ، وبہ وردت الآثار ولا بأس بأن یشد الجنب والحائض التعاویذ علی العضد إذا کانت ملفوفۃ
        قرآن کریم سے شفاء طلب کرنے میں اختلاف ہے بایں طور کہ مریض یا ڈسے ہوئے پر سورہ فاتحہ پڑھی جائے یا کسی ورق میں لکھ کر اسکو تعویذ ڈال دیا جائے یا کسی طشتری میں لکھ کر اسکو دھوکر اسکا غسالہ پلایا دیا جائے حضور ؐ سے مروی ہے کہ آپ اپنے اوپر رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے اور اس کے جواز پر آج تک لوگوں کا عمل ہے اور بعض کے ثبوت میں آثار وارد ہیں اگر تعویذ موم جامے میں ہو اور کسی جنبی اور حائض کے بازو پر ''بھی ''بندھا ہو تو کوئی حرج نہیں ۔
        (رد المحتار کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی اللبس٢٦:٣٣٥)
        اور بعض احادیث میں جو ممانعت آئی ہے جیسا کہ مسند امام احمد بن حنبل میں مسطور حدیث میں ہے اس سے مراد وہ تعویذات ہیں جوشرکیہ اور ناجائز الفاظ پر مشتمل ہوں، جیساکہ زمانہ جاہلیت میں کیے جاتے تھے نہ کہ وہ تعویذات جو اللہ عزاسمہ کے ناموں یا اسکے کلمات سے کیے جاتے ہوں
        جیسا کہ ابو الطیب محمد شمس الحق العظیم آبادی عون المعبود شرح سنن ابی داؤد میں رقمطراز ہیں :
        والمراد من التمیمۃ ما کان من تمائم الجاہلیۃ ورقاہا ، فإن القسم الذی یختص بأسماء اللہ تعالی وکلماتہ غیر داخل فی جملتہ وفی الحدیث " التمائم والرقی من الشرک " وفی حدیث آخر " من علق تمیمۃ فلا أتم اللہ لہ " کأنہم کانوا یعتقدون أنہا تمام الدواء والشفاء وإنما جعلہا شرکا لأنہم أرادوا بہا دفع المقادیر المکتوبۃ علیہم وطلبوا دفع الأذی من غیر اللہ الذی ہو دافعہ انتہی .
        قال السندی : المراد تمائم الجاہلیۃ مثل الخرزات وأظفار السباع وعظامہا ، وأما ما یکون بالقرآن والأسماء الإلہیۃ فہو خارج عن ہذا الحکم بل ہو جائز .
        (عون المعبود ،کتاب الطب،باب فی التریاق)
        نیز علامہ مناوی فیض القدیر میںمسئلہ مذکورہ کوحل کرتے ہوئے اللہ کے ناموں سے کیے گئے تعویذ کو جائز ،مطلوب اور محبوب قرار دیتے ہوئے رقمطراز ہیں:
        المراد من علق تمیمۃ من تمائم الجاہلیۃ یظن أنہا تدفع أو تنفع فإن ذلک حرام والحرام لا دواء فیہ وکذا لو جہل معناہا وإن تجرد عن الاعتقاد المذکور فإن من علق شیأا من أسماء اللہ الصریحۃ فہو جائز بل مطلوب محبوب
        (فیض القدیر،حرف المیم،٦:١٠٧،الرقم: ٨٥٩٩)
        ''جس نے جاھلیت کے تعویذوں میں کوئی تعویذ لٹکایا'' اس سے مراد یہ ہے کہ گمان کیا جائے کہ وہ تعویذ ھی دفع کرے گا یا نفع دے گا تو یہ حرام ھے اور حرام میں کوئی دواء نہیں اور اسی طرح اگر اسکے معنیٰ مجھول ہوں، اور اگر اعتقاد مذکور سے خالی ہو تو یقیناً جس نے اللہ عزاسمہ کے واضح ناموںمیں سے کوئی چیز لٹکائی تو وہ جائز ھے بلکہ طلب کیا ھوا اور محبوب ہے۔
        علامہ ابن عبد البر ،التمھید شرح مؤطا امام مالک میں تعویذ سے منع کرنے کی وجہ ذکرکرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ یہ انہیں ڈرانے اور ان تعویذوں سے منع کرنے کے لیئے تھا جو دور جاہلیت میں کیا کرتے تھے :
        وہذا کلہ تحذیر ومنع مما کان أہل الجاہلیۃ یصنعون من تعلیق التمائم والقلائد یظنون أنہا تقیہم وتصرف البلاء عنہم وذلک لا یصرفہ إلا اللہ عز وجل وہو المعافی والمبتلی لا شریک لہ فنہاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عما کانوا یصنعون من ذلک فی جاہلیتہم .
        اور یہ سب کا سب اس سے ڈرانا اور منع کرنا ہے جو اھل جاہلیت تعویذوں اور ہارون کے لٹکانے سے کرتے تھے یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ تعویذ ھی انھیں بچائے گا اور ان سے بلاء کو پھیرے گا اور یہ تو محض اللہ عزوجل ھی پھیرتا ھے اور وہ ہی صحت دینے والا اور مبتلاء کرنے والا ہے جسکاکوئی شریک نھیں تو اللہ کے رسول ؐ نے انہیں اس سے منع فرمایا جو اس سے دورے جاھلیت میں کرتے تھے۔
        (التمہید لابن عبد البر،تابع لحرف العین،عبد اللہ بن أبی بکر ابن حزم،الحدیث الأول)

           
    تصحیح وتصدیق                             واللہ تعالی اعلم بالصواب                     
         
    مفتی اعظم شیخ الحدیث                              حررہ:جمیل احمدچنہ (عفی عنہ)
        مفتی محمد ابراہیم القادری                            المتخصص فی الفقہ الاسلامی
           رئیس دارالافتاء                                  فی الجامعۃ الغوثیۃ الرضویۃ بسکھر   

    فی الجامعۃ الغوثیۃ الرضویۃ بسکھر                   2013/08/03
     

     

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری