Question & Answer

  • مدینہ طیبہ حضور ا کرم ﷺ کے دربار کی حاضری حج سے قبل افضل ہے یا حج کے بعد؟؟؟

    کیا فرماتے ہیں علماءِ دین مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مدینہ طیبہ حضورﷺ کے دربار کی حاضری حج سے قبل افضل ہے یا حج کے بعد ۔ کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ حج سے قبل دربارِ مصطفےٰ ا میں حاضری ہو تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مصافحہ فرماتے ہیں اور حج کے بعد حاضری ہو تو حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام معانقہ فرماتے ہیں ۔کیا یہ درست ہے ؟ احادیث کی روشنی میں اس مسئلہ کا جواب دے کر ہماری رہنمائی کرتے ہوئے ہماری معلومات میں اضافہ فرمائیں۔

    السائل: بندگانِ خدا کراچی

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    الجواب بعون الملک الوھاب

              مسئلہ مذکورہ میں علماء کا اختلا ف ہے کہ پہلے حج کرے یا زیارت۔بہتر یہ ہے کہ حج اگر فرض ہے تو حج کرکے مدینہ طیبہ حاضر ہو۔ البتہ اگر مدینہ طیبہ راستہ میں ہو تو بغیر زیارت حج کو جانا سخت محرومی و قساوت قلبی ہے اور اس حاضری کو قبولِ حج و سعادت دینی و دنیوی کے لیے ذریعہ و وسیلہ قرار دے اور اگرحج نفل ہو تو اختیار ہے کہ پہلے حج سے پاک صاف ہو کر محبوب کریم ؐ کے دربار گوہر بار میں حاضر ہو یا سرکار دو عالم ؐ کے مزار پر انوار پر پہلے حاضری دے کر حج کی مقبولیت و نورانیت کے لیے وسیلہ کرے۔الغرض جو پہلے اختیار کرے اسے اختیار ہے۔
    فتح القدیر شرح الھدایہ میں ہے :
    والحج إن کان فرضا فالأحسن أن یبدأ بہ ثم یثنی بالزیارۃ، وإن کان تطوعا کان بالخیار، فإذا نوی زیارۃ القبر فلینو معہ زیارۃ المسجد: أی مسجد رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم -
    (فتح القدیر''، کتاب الحج، مسائل منثورۃ، ج٣، ص١٧٩،الناشر : دار الفکر بیروت)
    نیز واضح رہے حضور اکرم ؐ کے روضہ انور کی زیارت کے یوں تو بے حد و بے شمار فضائل احادیث طیبہ میں وارد ہوئے لیکن :سوال میں مذکور حضور سے منسوب بات ،احادیث طیبہ میں نہیں ملی عین ممکن ہے من گھڑت ہو ۔لھذاایسی بات کے قائل پر لازم ہے کہ حضور سے منسوب بات کا ثبوت دے ورنہ سچے دل سے توبہ کرے کہ حضور فرماتے ہیں جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانہ جھنم بنالے۔
    جیسا کہ صحیح المسلم میں ہے:
    عن أبی ہریرۃ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من کذب علی متعمدا، فلیتبوأ مقعدہ من النار
    (مقدمہ،باب فی التحذیر من الکذب علی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم،١:١٠،رقم الحدیث :٣،الناشر: دار إحیاء التراث العربی - بیروت)


    کتبہ :
    جمیل احمد چنہ
    عفی عنہ بمحمد ن المصطفی ﷺ
    خادم : دار الافتاء جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر
    ٢٠١٤۔١١۔٢٩

     

     

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری