Question & Answer

  • کالا کپڑا پہننا کیسا ہے؟

           کیا فرماتے ھیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کالا کپڑا پہننا کیسا ہے؟ کتب اہل تشیع میں مذکور ہے کہ مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے شاگردوں کو تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
           ’’سیاہ لباس فرعون کا لباس ہے اس لیے مت پہنا کرو‘‘
           (من لایحضرہ الفقیہ جلد نمبر ۱ ص ۳۶۱ ستر نمبر ۱)
           اور امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ:
           بے شک سیاہ لباس جھنمیوں کا لباس ہے۔
           (فروع کافی جلد نمبر ۶ ص ۹۴۴)
           ان اقوال کی حقیقت کیا ہے؟
    سائل
    جی ایم شاہ ۔ راولپنڈی
     
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    الجواب
           یوں تو کالے کپڑے پہننا جائز ہیں ، ان میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ شریعت مطہرہ میں کالے کپڑے سے ممانعت ثابت نہیں والاصل فی الاشیاء اباحۃ۔
          بلکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا سیاہ عمامہ پہننا ان گنت احادیثِ طیبہ میں وارد ہوا۔ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے ، فرمایا:
          صنعت لرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بردۃ من صوف سوداء فلبسھا ۔
           میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لیے اون کی سیاہ چادر بنائی اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اسے زیبِ تن فرمایا۔
          (سنن ابی داؤد حدیث نمبر ۴۰۷۶ ، مستدرک علی الصحیحین حدیث نمبر ۷۳۹۳)
           امام حاکم نے اسے علی شرط الشیخین قرار دیا اور امام ذھبی نے آپ کی موافقت کی۔
           تاہم محرم الحرام میں اہل تشیع سوگ منانے کے لیے کالے کپڑے اہتمام سے پہنتے ہیں ، لہذا محرم الحرام کے دنوں میں ایسا کالا لباس پہننے سے اجتناب کرنا چاہیئے جس کو دیکھنے سے گمان ہو کہ یہ لباس بطورِ سوگ پہنا گیا ہے ، تاکہ اہل تشیع سے مشابہت لازم نہ آئے۔حدیث پاک میں ہے:
           من تشبہ بقومٍ فھو منھم
          یعنی جو کسی قوم کا شعار اپنائے وہ انہیں میں سے ہے۔
          جو روایات سائل نے اہل تشیع کی کتب کے حوالے سے بیان کیں ان روایات کو اہل بیت کی طرف منسوب کرنے والے راوی اہل تشیع ہیں اور اہل تشیع تقیہ بازی (یعنی حق بات کو چھپا کر غلط بات کرنے) کو ایمان کا حصہ جانتے ہیں ، لہذا اہل تشیع کی بیان کردہ روایات کا کوئی اعتبار نہیں۔
          البتہ اہل تشیع کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ دعوی تو محبتِ اہل بیت کا کرتے ہیں مگر ان کی طرف اپنے ہی راویوں کی بیان کردہ روایات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔
    واللہ تعالی اعلم
     کتبہ
    محمد زاہد محمود راجپوت المدنی

     

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری