Question & Answer

  • معتکف اذان دے سکتا ھے یا نھیں؟

            کیا فرماتے ھیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ معتکف اذان دے سکتا ھے یا نھیں؟
    سائل:
    محمد علی شجاعت
     
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    الجواب
            جی ہاں معتکف اذان دے سکتا ہے اگرچہ اذان کے لیے اسے مسجد سے باہر ہی کیوں نا نکلنا پڑے ، اس سے اعتکاف نھیں ٹوٹے گا چاہے سنت اعتکاف ہو یا واجب۔
            کما فی الدر المختار وحرم علیہ ای علی المعتکف اعتکافا واجبا الخروج الا لحاجۃ الانسان طبعیۃ او شرعیۃ کعید واذان لو مؤذنا
            اس کے تحت علامہ شامی لکھتے ھیں:
            قولہ لو مؤذنا ھذا قول ضعیف والصحیح انہ لا فرق بین المؤذن و غیرہ کما فی البحر و الامداد
            (در مختار جلد ۶ صفحہ نمبر ۲۲۴ تا ۶۲۴)
    واللہ تعالی اعلم
     کتبہ
    محمد زاہد محمود راجپوت المدنی
     
     

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری