Question & Answer

  • عدت کا مفہوم

    الاستفتاء

    جناب قبلہ بزرگوار مفتی محمد ابراہیم صاحب مدظلہ العالیٰ 

    السلام علیکم 

    بعض سلام کے خدمت اقدس میں التماس یہ ہے کہ عورت کی بیوگی کی عدت کے بارے میں آپ کا فتویٰ میرے پاس پہلے سے موجود ہے مگر میں اب آپ کے رُوبرو اِس امر سے دو چار ہوا ہوں تو عورتیں کچھ باتیں جو کہ عمر رسیدہ ہونے کے سبب اور علم سے نا آشنائی کے سبب عورتوں پر اپنی مرضی مسلط کرتی ہیں اور اُس پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتی ہیں۔ کیا یہ تمام خرافات کا دین یا اِس بیوہ سے کوئی تعلق اس طرح آگاہی فرمائیں تاکہ یہ بندۂ ناچیز آپ کے علم و عمل کو بحث کے ذریعے انہیں آئندہ غیر شرعی یا اپنی مرضی سے حدوں کو قائم کردہ توڑا جا سکے

    جو کہ مندرجہ ذیل ہیں: (1) کان، ناک اور گلے وغیرہ سے تمام زیور کو اُتار کر رکھ دیں۔ (2) سر میں تیل، آنکھوں میں سرمہ وغیرہ بھی نہ ڈالیں چہ جائیکہ اگر سرمہ کی عادی عورت کو اگر حاجت ہو تو دوا کا استعمال کرے۔ اور چالیسویں پر فاتحہ خوانی پر 7 اقسام برتن 7اقسام کے کھانے 7 اقسام کی مٹھائیاں ایک عدد جوڑا، عطر، تسبیح، مصلیٰ،چپل، لوٹا اور دیگر دو چار برتن دینے چاہیں۔ مندرجہ بالا برتن اِس لیے ہیں اِن میں کھانے رکھے جائیں۔ (3) جیٹھ کے دو بچے ہیں ایک 18 سال اور دوسرا 9 سال۔ اِن سے بھی پردہ ہے کہ عورتوں کا کہنا ہے کہ بیوہ اُن کی چاچی ہے اور چاچی سے نکاح جائز ہے۔ میرے میں گنجائش ہے اگر کسی کے گھر میں گنجائش نہ ہو تو وہ کیا کرے بلکہ میں اُس کا سسر ہوں مجھ سے بھی پردہ۔ میر ے بیٹے مرحوم کی بیوہ بیت الحزن یعنی غم کوٹھری میں ایسی عدت سے دو چار ہے۔

    الجواب بعون الملک الوھاب

    پہلے یہ سمجھ لیں کہ ایک عدت ہوتی ہے اور ایک سوگ ہوتا ہے۔ عدت کا مفہوم یہ ہے کہ بیوہ اُتنے عرصے میں نکاح نہیں کر سکتی اور سوگ کا مطلب یہ ہے کہ عدت کے دنوں میں اس نے بناؤ سنگھار کو چھوڑنا ہے۔ لہٰذا زیورات نہیں پہن سکتی، آنکھوں میں سرمہ ڈالنا، تیل لگانا، کنگھی کرنا بھی بناؤ سنگھار کے زمرہ میں آتا ہے۔ ہاں آنکھوں میں تکلیف ہو یا سر میں خارش وغیرہ ہو تو دوا کے طور پر آنکھوں میں سرمہ اور سر پر تیل ڈالا جا سکتا ہے۔ بالوں میں زیادہ اُلجھاؤ محسوس ہو تو موٹے دندانوں کی کنگھی یا کنگھا استعمال کر سکتی ہے۔

    پردہ کا عدت یا سوگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پردے کے شرعی احکام جو اور دنوں میں ہیں عدت دنوں میں بھی وہی ہیں۔ نو برس کے بچے سے پردہ نہیں ہے۔ 18 برس کا لڑکا اگرچہ جیٹھ کا ہو اس سے آگے پیچھے بھی پردہ ہے اور عدت کے دنوں میں بھی پردہ ہے۔ بھائی۔ ماموں۔ چچا۔ سسر۔ والد۔ اولاد اور عورتوں سے پردہ نہیں ہے۔ چالیسواں۔تیجہ وغیرہ ایصالِ ثواب ہیں وہ کریں اور اس کے علاوہ دیگر قیود محض بے ہودہ خرافات ہیں۔ ان سے عورتوں کو روکنا چاہیے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 30 اگست 2004ء

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • استقبل ربيع الأول
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری