Question & Answer

  • اختتام عدت کے بعد شوہر کے مکان میں رہنا جائز نہیں

    الاستفتاء

    کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع اس مسئلہ کے بارے میں کہ

    میرے بیٹے نے مورخہ 17 اکتوبر 1999 ء کو طلاق دی۔ طلاق کے وقت اس کی بیوی حاملہ تھی لہٰذا عدت گزارنے کے لیے شوہر کے مکان پر رہائش اختیار کی تھی۔ اب جبکہ بچہ کی پیدائش کو بھی دو ماہ ہو چکے ہیں مگر شوہر کے مکان پر قابض ہے۔ ازراہِ کرم ازروئے شریعت یہ بتائیں کہ وہ شوہر کے مکان پر قابض رہ سکتی ہے یا نہیں۔

    السائل

    شیر محمد

    الجواب بعون الملک الوھاب

    عورت فقط ایام عدت گزارنے کے لیے شوہر کے مکان میں رہے گی۔ عدت ختم ہونے کے بعد اسے وہاں رہنے کا جواز نہیں بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ وہاں سے چلی جائے۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں آپ کی بہو کا اختتامِ عدت کے بعد آپ کے ہاں رہنا جائز نہیں ہے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 3 اپریل 2000ء

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • استقبل ربيع الأول
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری