Question & Answer

  • قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھانا

    الاستفتاء 

     کوئی شخص کسی کام کے لیے قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر حلف اُٹھائے اور اس کام کے کرنے کا یقین دلائے بعد میں اس کی نیت کسی کے بہکانے پر خراب ہو جائے جبکہ حلف اُٹھوانے والا اپنے وعدے پر پورا اُتر رہا ہو کیا وہ ایسا کر سکتا ہے؟ یا کسی کے اس قسم کے فتویٰ کی آڑ میں وہ ایسا کر سکتا ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ کچھ رقم صدقہ یا خیرات دے دو، گناہ سے بچ جاؤ گے۔ مہربانی فرما کر تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔ شکریہ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    الجواب بعون الملک الوھاب

    جس کام کے کرنے پر حلف اُٹھایا اگر وہ مباح نوعیت کا ہے تو ایسی صورت میں بلاوجہ قسم نہیں توڑنی چاہیے لیکن اگر قسم توڑی تو توڑنے پر گناہ نہیں ہو گا البتہ کفارہ لازم آئے گا یعنی دس مسکینوں کو صبح شام کھانا کھلانا ہو گا یا عدم استطاعت کی وجہ سے تین دِن کا روزہ رکھنا ہو گا۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    مدرس جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 11 ربیع الاول 1408 ہجری 24 اکتوبر 1988ئ

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • استقبل ربيع الأول
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری