Question & Answer

  • 'میں نے ایسا نہ کیا تو اپنی والدہ برائی کی' ہمارے عرف میں قسم ہے

    الاستفتاء

    جناب مہتمم دارالعلوم جامعہ غوثیہ

    السلام علیکم! محمد شفیق ولد رشید محمد سکنہ حسر کنڈل تحصیل کوہِ مری

    محمد شفیق نے کہا: (1) اگر میں نے اپنے بھتیجے زاہد کو چھوڑا تو میں نے اپنی والدہ سے برائی کی۔ (2) پھر کسی مسئلہ پر اس نے کہا قسم ہے اگر میں نے آج حافظ کو زندہ چھوڑا تو میں نے اپنی والدہ کے ساتھ برائی کی۔ جناب مفتی صاحب محمد شفیق نے دو مرتبہ تو میرے سامنے کہا اور ایک مرتبہ کسی اور کے سامنے کہا۔ لہٰذا دو مرتبہ کے بولنے کے بارے میں علمائے اسلام کیا فرماتے ہیں۔ آپ یہ مسئلہ حل کروا دیں اور تحریری طور پر جواب دیں۔ آپ کی بڑی مہربانی ہو گی۔

    غلام مصطفی اعوان

    الجواب بعون الملک الوھاب

    ہمارے عرف و رواج میں ایسے الفاظ قسم کے لیے بولے جاتے ہیں لہٰذا شفیق نے جتنی بار یہ جملے بولے اتنی قسمیں واقع ہوئیں۔ البتہ دوسرے جملے کی رُو سے شفیق اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہو سکا اس لیے شفیق کی قسم ٹوٹ گئی۔ لہٰذا شفیق اس کا کفارہ ادا کرے اور کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دس صدقہءِ فطر کے برابر روپے دے دے۔ بالفرض آج کے بھاؤ سے صدقہءِ فطر (دو کلوگرام اور کچھ گرام اُوپر گندم) 30 روپے ہے تو دس مسکینوں کو تین سو روپے اس طرح دے کہ ہر مسکین کے حصہ میں تیس روپے آئیں۔ یہاں تک دوسرے جملہ کا حکم آیا۔ رہا پہلا جملہ تو اس کے الفاظ یہ ہیں۔ ''اگر میں نے اپنے بھتیجے زاہد کو چھوڑا تو میں نے اپنی والدہ سے برائی کی۔'' یعنی نعوذ باللہ میں زاہد کو قتل کروں گا لیکن شفیق پر حرام ہے کہ وہ اس قسم کی وجہ سے زاہد کو قتل کرے بلکہ اس پر واجب ہے کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔مگر شفیق پر قسم کا کفارہ تب آئے گا جب شفیق کے لیے زاہدکا قتل ناممکن ہو جائے اور یہ تب ہو گا کہ جب ان میں سے کسی کا انتقال ہو جائے۔

    اب اگر زاہد کا پہلے انتقال ہو جائے تو شفیق کفارہ دے دے اور اگر شفیق کا پہلے انتقال ہو جائے تووہ زندگی کے آخری لمحات میں حانث ہو گا لہٰذا اسے چاہیے کہ مرنے سے پہلے کفارئہ قسم کی ادائیگی کی وصیت کر جائے۔

    تنویر الابصار اور درِ مختار میں ہے:

     وَإِنْ فَعَلَہُ فَعَلَیْہِ غَضَبُہُ أَوْ سَخَطُہُ أَوْ لَعْنَۃُ اللَّہِ أَوْ ہُوَ زَانٍ أَوْ سَارِقٌ أَوْ شَارِبُ خَمْرٍ أَوْ آکِلُ رِبًا لَا ) یَکُونُ قَسَمًا لِعَدَمِ التَّعَارُفِ ، فَلَوْ تُعُورِفَ ہَلْ یَکُونُ یَمِینًا ؟ ظَاہِرُ کَلَامِہِمْ نَعَمْ ،

    تنویرالابصار ودرمختارص 496 ج 5)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 16 شعبان المعظم 1423 ہجری

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • استقبل ربيع الأول
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری