Question & Answer

  • یمین فور

    جناب مفتی صاحب

    السلام علیکم آپ کے سامنے ایک مسئلہ پیش کر رہا ہوں۔ اُمید ہے کہ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں گے۔ جناب میں اور میری ساس ایک دن آپس میں لڑے، وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی بہن کے گھر جن سے میں ناراض تھا میری بیوی کو لے کر جانا چاہتی تھی مگر میں راضی نہ تھا اسی بات پر اس نے کہا کہ میں اس کو ابھی لے کر جاؤں گی میں غصہ میں آ گیا اور کہا کہ اگر یہ جائے گی تو میرے اُوپر تین شرط طلاق ہے پھر میں اس وقت اپنی بیوی کو لے کر ساس کے گھر سے چلا گیا۔ اب جبکہ اس بات کو سال کے قریب ہو گیا ہے۔ میری بیوی اپنی خالہ کے اس گھر میں جو ابھی زیر تعمیر ہے اور وہاں کوئی نہیں رہتا اپنی کچھ رشتہ داروں کے ساتھ چلی گئی اور وہ حلفیہ کہتی ہے کہ میں بھول کر گئی ہوں۔ اس مسئلہ کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان فرمائیں۔ شکریہ اور یہ بھی بتائیں کہ وہ اب پھر ان کے گھر جا سکتی ہے یا نہیں؟

    عبداللہ ولد شیر بہادر مرحوم

    الجواب بعون الملک الوھاب

    ایسی قسم کو فقہاء کی اصطلاح یمین فور کہا جاتا ہے اور چونکہ یمین فور کا حکم یہ ہے کہ جس بات پر قسم اُٹھائی گئی ہے اگر وہ بات فوراً پائی جائے تو قسم ٹوٹ جاتی ہے اور اگر کچھ دیر بعدپائی جائے تو اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں برتقدیر پر صدقِ سائل جب آپ کی بیوی چند ماہ بعد مکانِ مذکورہ میں گئی تو قسم بے اثر ہو گئی اور طلاق واقع نہیں ہوئی اور اب بھی جب چاہے اپنی خالہ کے ہاں اس مکان میں جا سکتی ہے۔

    جوہرہ نیرہ میں ہے

    وَأَمَّا یَمِین الْفَوْرِ فَہُوَ أَنْ یَکُونَ لِیَمِینِہِ سَبَبٌ فَدَلَالَۃُ الْحَالِ تُوجِبُ قَصْرَ یَمِینِہِ عَلَی ذَلِکَ السَّبَبِ وَذَلِکَ کُلُّ یَمِینٍ خَرَجَتْ جَوَابًا لِکَلَامٍ أَوْ بِنَاء ً عَلَی أَمْرٍ فَتَتَقَیَّدُ بِہِ بِدَلَالَۃِ الْحَالِ نَحْوُ أَنْ تَتَہَیَّأَ الْمَرْأَۃُ لِلْخُرُوجِ فَقَالَ : إنْ خَرَجْت فَأَنْتِ طَالِقٌ فَقَعَدَتْ سَاعَۃً ثُمَّ خَرَجَتْ لَا تَطْلُقُ

    الجوہرۃ النیرۃ(ص 287 ج 2 

    ترجمہ:بہرحال یمین فور یہ ہے اس اس یمین کیلئے کوئی سبب ہو پس دلالت حال اس یمین کے اس سبب پر منحصر ہونے کو واجب کرتی ہے ۔پس ہر وہ قسم جو کسی کلام کے جواب یاکسی امر کی بناء پر صادر ہوئی ہو تویہ دلالت حال کیساتھ مقید کی جائے گی جیسے عورت نکلنے کیلئے تیارہوئی تومرد نے کہااگرتونکلی تو تجھے طلاق تووہ بیٹھ گئی پھر نکلی تو طلاق نہ ہوگی۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم دارالافتاء شمس العلوم جامعہ رضویہ شمالی ناظم آباد

    کراچی 2 جمادی الاول 1410 ہجری 2 دسمبر 1989ء

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • استقبل ربيع الأول
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری