Question & Answer

  • احترام انسانيت

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    اللہم بک نستہدی وبحبیبک المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ وصحبہ وبارک وسلم نستمسک

    شہرِ سکھر کے وقف شدہ قدیم قبرستانوں کے بارے میں صاحبزادہ حبیب ناصر قادری صاحب (سجادہ نشین قدیمی درگاہ عالیہ محمدی۔محمدی قبرستان آدم شاہ وچیئرمین دفاع قبرستان کمیٹی پاکستان۔سکھر)کی کوششیں اور محنتیں یقینا لائقِ ستائش ہیں۔اسی سلسلے کی ایک کڑی قبلہ مفتی منیب الرحمن صاحب(متع اللہ تعالی اہل الاسلام بطولِ بقائہ) کا اس بابت طویل ومفصل فتوی ہے جو تفہیم المسائل جلدہفتم کے صفحہ 123سے صفحہ 131تک پھیلا ہوا ہے۔اور پھر وطنِ عزیز پاکستان کے اجلہ علماءِ کرام ومفتیانِ عظام کی تصدیقات وتصویبات نے اس تحریر کو چار چاند لگادئیے ہیں۔

    چونکہ سوال میں صرف سادات ومشائخ وعلماء کی قبروں کا ذکر نہیں،بلکہ ان غیر مسلموں کی قبروں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو مملکتِ اسلامیہ کے باسی ہیں ،جن کے جان ومال وعزت کی حفاظت ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔لیکن دینی معلومات کی کمی کے سبب بعض لوگ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ شاید عزت وحرمت کا تعلق میت کے مسلمان ہونے کے ساتھ ہے،اگر میت غیر مسلم ہو تو نہ تو اس کی لاش کی کوئی قدر وقیمت ہے اور نہ ہی اس کی قبر کی کوئی وقعت وحیثیت ہے۔۔۔لہذا ضروری سمجھا کہ اسلامی ریاست کے غیرمسلم باشندوں کی لاشوں اور قبروں کے بارے میں اسلامی فکر کو واضح کیا جائے،تاکہ انتظامیہ مسلمانوں کے علاوہ اسلامی ریاست کے باسی غیر مسلمین کے بارے میں اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اسے کماحقہ پورا کرے۔

    اقول وباللہ التوفیق:

    انسان کو اللہ کریم جل مجدہ نے جس عزت وکرامت سے نوازا ، اس کی وضاحت مذہبِ اسلام سے بڑھ کر دنیا کے کسی مذہب وفکر میں نہیں ملتی۔ انسان مسلمان ہو یا کافر ، پھر ذمی ہو یا حربی ، زندہ ہو یا مردہ۔۔۔۔ ہر حال میں مذہبِ اسلام نے اس کے لیے مخصوص عزت وحرمت کا ذکر فرمایا اور اپنے پیروکاروں کو ان حرمتوں کی پاسداری کا پابند بنایا۔قرآنِ عظیم کے پندرہویں پارے سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا:

    وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا (1)

    ترجمہ: اور ہم نے اولادِ آدم کو عزت سے نوازا اور انہیں خشکی وتری میں سوار کیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا فرمایا اور ہم نے انہیں اپنی کثیر مخلوق پر بڑی فضیلت عطا فرمائی۔

    تیسویں پارے سورۂ فجر میں فرمایا:

    فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ(2)

    ترجمہ: بہر حال انسان کو جب اس کا پروردگار آزماتا ہے اور اس کو عزت بخشتا ہے۔

    دونوں مبارک آیتوں میں کرامت کے بیان میں مومن وکافر ، ذمی وحربی ، کسی کی تخصیص نہ فرمائی۔ یونہی جب انسانی جان کی حرمت کا ذکر فرمایا تو مسلم وکافر کے فرق کے بغیر فرمایا:

    مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا(3)

    ترجمہ: اسی لیے ہم نے بنی اسرائیل پہ لکھ دیا کہ جو بغیر کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد انگیزی کی سزا کے علاوہ کسی جان کو قتل کرے تو گویا کہ اس نے سبھی انسانوں کوقتل کر ڈالا۔اور جس نے ایک جان کو جِلایا تو گویا کہ اس نے سبھی انسانوں کو زیست دے دی۔

    آیاتِ بالا اور ان جیسی ان گنت نصوصِ اسلامیہ شاہدِ عدل ہیں کہ مذہبِ اسلام نے فقط مسلمان کو معزز ومحترم نہ کیا ، بلکہ ہر انسان کو مخصوص عزت وکرامت سے نوازا۔

    البتہ جس طرح دنیا کے ہر نظام میں مستحقین کے حقوق کی درجہ بندی ہوتی ہے ــــــ ملکیوں اور غیر ملکیوں کے حقوق میں فرق ، آفیسرز اور لیبرز کے حقوق میں امتیاز ، ملازم وریٹائرڈ کے حقوق میں فرق ، افرادِ خانہ وپڑوسیوں کے حقوق میں امتیاز ، عزیزوں اور اجنبیوں کے حقوق میں فرق وغیرہ وغیرہ ــــــ اور کوئی عقل مند اس قسم کے فروق پر معترض نہ ہوتا ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے ــــــ بالکل ایسے ہی مذہبِ اسلام میں بھی عزت وکرامت کے استحقاق کے معاملے میں درجہ بندی ہے۔

    چونکہ اس کا معیار امیری غریبی ، عربی عجمی ، گورا کالا ، وغیرہ کچھ بھی نہیں۔ بلکہ محض تقوی ہے۔ جیسا کہ اللہ کریم جل مجدہ کا ارشادِ گرامی ہے:

    إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ(4)

    ترجمہ: بے شک تم میں سے اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو تم سب میں سے بڑا پرہیزگار ہے۔

    اور اس کا عملی مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب حضرت بلال حبشی کعبہ کی چھت پہ چڑھ کر اذان دیتے ہیں (5) ، ابو ھند جو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حجام اور بنو بیاضہ کے غلاموں سے تھے ، ان کے بارے میں بنو بیاضہ کو حکم ہوتا ہے کہ اپنے خاندان کی کسی عورت سے اس کا نکاح کراؤ (6) ، اور پھر حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے تاقیامت آنے والے لوگوں کے سامنے استحقاقِ کرامت کا معیار بیان کرتے ہوئے فرمایا:

    أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى(7)

    ترجمہ: خبردار! کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر ، کسی سرخ کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی سرخ پہ کوئی فضیلت نہیں۔۔۔ سوائے تقوی کے۔

    لہذاانسانوں کو حقوق کے اعتبار سے بالترتیب تین بڑی قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

    (1): اہلِ اسلام

    (2): وہ کفار جو اسلامی ریاستوں کے باشندے ہوں۔

    (3): وہ کفار جو اسلامی ریاستوں کے باشندے نہ ہوں اور اسلامی ریاست نے ان کے جان ومال کی حفاظت کا ذمہ نہ اٹھایا ہو۔

    مذہبِ اسلام کے مطابق سب سے زیادہ عزت وحرمت مسلمان کوحاصل  ہے ، بھلے وہ زندہ ہو یا مردہ ---- ہر حال میں معزز ومحترم ہے۔ اورمسلمان کے بعد حقوقِ انسانیت کے زیادہ حقدار وہ کفار ہیں جو اسلامی ریاستوں کے باشندے ہیں۔

    رہے وہ کفار جو اہلِ اسلام سے برسرِ پیکار ہوں ، مسلمانوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہوں ، اگرچہ ایسے لوگ دنیا بھر کی کسی قوم وملت ، کسی بھی فکر وقانون کے مطابق لائقِ عزت ووقار نہیں ہوتے ۔۔۔ لیکن مذہبِ اسلام حقوقِ انسانی کا وہ علمبردار مذہب ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے بھی کسی قدر احترام واجب ٹھہرایا اور غیر انسانی سلوک سے یکسر منع فرما دیا۔

    اسلامی اقدار کی بلندی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ :

    ایک کافر اور دشمنِ اسلام کسی مسلمان سے مصروفِ جنگ ہے ، مسلمان کی جان لینے کے درپے ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے غلام کو اس نازک مقام پر بھی اس غیر مسلم کے مخصوص احترام کا درس دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

    إذا قاتل أحدكم فليجتنب الوجه(8)

    ترجمہ: جب تم میں سے کوئی شخص مصروفِ قتال ہو تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔

    اللہ اکبر!!!یہ اکرام واحترام کسی عام کافر کے لیے نہیں ، بلکہ دورانِ جنگ ایسے کافر کے لیے ہے جو مسلمان کی جان لینے کے درپے ہے ، اگر مسلمان نے اس کو قتل نہ کیا تو وہ مسلمان کو مار ڈالے گا۔۔۔۔

    یقینا یہ ایک ایسی صورت ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی جان کی حفاظت کی خاطر کسی بھی حد سے گزرنے سے گریز نہ کرے گا۔ لیکن اسلام نے ایسی حالت میں بھی اپنے پیرو کار کو درسِ انسانیت دیا اور مقابل کافر کے چہرے کی بے حرمتی کی اجازت نہ دی۔ (قال نجم القادری: واما قول ابن الہمام رحمہ اللہ تعالی : إنا نقطع أن في حال قيام الحرب مع الكفار لو توجه لأحد ضرب وجه من يبارزه وهو في مقابلته حالة الحملة لا يكف عنه ، إذ قد يمتنع عليه بعد ذلك ويقتله فمحمول علی الضرورۃ ومن المقرر أن مواضع الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع واللہ تعالی اعلم)

    اور بات صرف چہرہ کی نہیں۔۔۔ بلکہ مقابل کافر کے ساتھ کسی بھی قسم کے غیر انسانی سلوک کی اجازت،مذہبِ اسلام میں نہیں۔ اسی بات کو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا:

    إن الله كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة(9)

    ترجمہ: بے شک اللہ تعالی نے ہر چیز کے معاملے میں اچھائی کو لازم فرمایا۔لہذا جب تم (دورانِ جنگ کسی کافر کو) قتل کرو تو اچھے انداز میں قتل کرو۔

    اور فرمایا:

    أعف الناس قتلة أهل الإيمان(10)

    ترجمہ: لوگوں میں سے سب سے پاکیزہ طریقے پر قتل کرنے والے اہلِ ایمان ہیں۔

    حالتِ جنگ میں "مُثلہ" (یعنی اعضاء کی قطع وبرید) کی حرمت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

    عبد اللہ بن زید انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:

    نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن النهبى والمثلة(11)

    ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے لوٹ اور مثلہ سے منع فرمایا۔

    سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب کسی لشکر کو روانہ فرماتے تو انہیں چند نصیحتیں فرماتے ، ان میں سے ایک یہ بھی فرماتے:

    ولا تمثلوا(12)

    ترجمہ: اور مُثلہ (یعنی اعضاء کی قطع وبرید) مت کرنا۔

    یونہی سمرۃ بن جندب اور عمران بن حصین فرماتے ہیں :

    كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يحثنا على الصدقة وينهانا عن المثلة(13)

    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہمیں صدقہ پہ ابھارتے اور اعضاء کی قطع وبرید سے منع فرماتے۔

    اہلِ فارس وروم کی عادت تھی کہ جنگ کے دوران مارے جانے والے دشمنوں کے سر کاٹ کر بادشاہوں کے سامنے اور درباروں میں پیش کرتے اور پھر ان سروں کی خوب تذلیل کی جاتی۔۔۔ لیکن اسلام نے بغیر کسی ضرورتِ صحیحہ (مثل إلحاق الوهن والكبت بهم بأن كان المقتول من قوادهم أو عظمائهم) کے اس فعل کی اجازت نہ دی ،اور دورِ رسالت میں جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں ، کسی ایک جنگ میں بھی کسی کافر ومشرک کا سر کاٹ کر دربارِ رسالت میں پیش نہ کیا گیا۔ جیسا کہ جنابِ زہری نے فرمایا:

    لم يحمل إلى النبي صلى الله عليه وسلم رأس قط ، ولا يوم بدر(14)

    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دربار میں کبھی بھی کوئی سر پیش نہ کیا گیا، حتی کہ بدر کے روز بھی نہیں۔

    اور یونہی جنابِ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی مروی ہے۔(15)

    اور جب حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے سامنے ایک فوجی کا سر پیش کیا گیا تو آپ نے انکار فرمایا۔ حاضرین نے عرض کی:

    يا خليفة رسول الله ! فإنهم يفعلون ذلك بنا!

    ترجمہ:اے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے خلیفہ! وہ لوگ ہمارے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں۔

    تو جواب میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:

    فاستنان بفارس والروم ؟

    ترجمہ:یعنی کیا تم لوگ فارس وروم کے طریقے پر چلو گے؟

    اور بعض روایات میں ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے۔

    اور ایک روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: تم لوگوں نے ظلم کیا۔(16)

    فتاوی قاضی خان ، الاختیار لتعلیل المختار وغیرہ میں ہے:

    ويكره حمل رؤوس الكفار إلى دار الإسلام (17)

    ترجمہ: کافروں کے سروں کو دارِ اسلام کی طرف اٹھالانا مکروہ وناپسندیدہ فعل ہے۔

    شیخ عبد اللہ بن احمد بن قدامہ مقدسی حنبلی نے فرمایا:

    ويكره نقل رؤوس المشركين من بلد إلى بلد والمثلة بقتلاهم وتعذيبهم(18)

    ترجمہ: مشرکین کے سروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر اٹھا لے جانا، ان کے مُردوں کے اعضاء کی قطع وبرید اور ان کو عذاب دینا مکروہ ہے۔

    الغرض یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ غیر مسلم "حربی" ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔ مذہبِ اسلام نے اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد ، کسی بھی حالت میں اس سے غیر انسانی سلوک کی اجازت نہ دی۔۔۔ وہ لوگ ہمارے مردوں کے ساتھ کیسا ہی غیر انسانی سلوک کیوں نہ کریں۔۔۔ ہمیں ہر غیر انسانی حرکت کا جواب انہی کے طرز پر دینے کی اجازت نہیں۔۔۔ مسلمان کے لیے حدود مقرر ہیں جن کے اندر رہنا مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی مسلمان ان حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ اس کا ذاتی عمل ہے ، اس کے ذاتی عمل کی بنیاد پر مذہبِ اسلام کو متہم نہیں کیا جا سکتا۔

    بہر حال یہ جملے تو ان غیر مسلموں کے بارے میں تھے جو اہلِ اسلام سے حالتِ جنگ میں ہوں۔۔۔ رہے وہ غیر مسلم جو اسلامی ریاست کے باشندے ہوں تو :

    اسلامی نقطۂ نظر سے ان کی حیثیت دیگر کفار سے مختلف ہے۔ ان کی جان ومال ، عزت وآبرو ، بلکہ تمام ترحقوق کی حفاظت اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کسی مسلمان کو اجازت نہیں کہ اسلامی ریاست کے کسی غیر مسلم باشندے کو گالی دے ، یا اس انداز میں اس سے گفتگو کرے جس سے اس کی دل آزاری ہو۔ حتی کہ اگر "کافر" کہہ کر مخاطب کرنے سے اس کی دل آزاری ہوتی ہے تو ایسا کرنے والا شخص گناہگار ہو گا ، بلکہ بعض فقہاء کی تصریح کے مطابق مستحقِ تعزیر ہو گا۔ فتح القدیر میں فرمایا:

    المسلم اذا شتم الذمی یعزر لانه ارتکب معصية (19)

    ترجمہ:یعنی مسلمان ذمی کو گالی دے تو مسلمان کو تعزیر کی جائے گی کیونکہ اس نے گناہ کا ارتکاب کیاہے۔

    قنیۃ میں ہے:

    لو قال لیہودی او مجوسی یا کافر یأثم ان شق علیہ (20)

    ترجمہ: اگر کسی مسلمان نے کسی یہودی یا آتش پرست کو "اے کافر" کہہ کر مخاطب کیا جس سے اس غیر مسلم کی دل آزاری ہوئی تو وہ مسلمان گناہگار ہو گا۔

    البحر الرائق میں اس کلام کو نقل کرنے کے بعد فرمایا:

    ومقتضاه أن يعزر لارتكابه ما أوجب الإثم

    ترجمہ: صاحبِ قنیہ کی گفتگو کا تقاضا یہ ہے کہ اس مسلمان کو سزا دی جائے گی کیونکہ اس نے گناہ کا کام کیا ہے۔

    اور منحۃ الخالق میں صاحبِ بحر کی تائید کرتے ہوئے  فرمایا:

    قلت ويؤيد كلام المؤلف قول الفتح المار آنفا لو شتم ذميا يعزر ؛ لأنه ارتكب معصية (21)

    ترجمہ:میں کہتا ہوں کہ فتح القدیر کی جو کلام ابھی ابھی گزری کہ "اگر ذمی کو گالی دے تو تعزیر کیا جائے گا کیونکہ وہ نافرمانی کا مرتکب ہو ہے" (یہ کلام) مصنف کی کلام کی تائید کرتی ہے۔

    کسی کے سامنے بیٹھ کر اسے تکلیف دینا تو یقیناسخت بری بات ہے ، امت مسلمہ کے جلیل القدر علماء نے مملکتِ اسلامیہ میں بسنے والے غیر مسلم کی پیٹھ پیچھے برائی کو بھی حرام گردانا ہے۔ تنویر الابصار میں ہے:

    وتحرم غيبته كالمسلم(22)

    ترجمہ: جیسے کسی مسلمان کی غیبت حرام ہے یونہی اسلامی ریاست میں بسنے والے غیر مسلم کی غیبت بھی حرام ہے۔

    الغرض اسلامی ریاست میں جو حقوق مسلمان کو حاصل ہیں بالعموم وہی حقوق غیر مسلم کو بھی حاصل ہیں۔ بلکہ اسلامی ریاست میں بسنے والے غیر مسلم کا معاملہ کسی مسلمان سے زیادہ نازک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

    من آذى ذميا فانا خصمه ومن كنت خصمه خصمته يوم القيامة(23)

    ترجمہ: جس نے کسی ذمی کو تکلیف دی تو اس کے مدِّ مقابل "میں" ہوں گا اور جس کے مدِ مقابل میں آیا روزِ قیامت میں اس پہ غالب رہوں گا۔

    یہی وجہ ہے کہ ہمارے ائمہ نے فرمایا:

    إن ظلم الذمي أشد(24)

    ترجمہ: اسلامی ریاست میں رہنے والے غیر مسلم پر ظلم کسی مسلمان پر ظلم سے زیادہ برا ہے۔

    جب ذمی کی زندگی میں اس پہ ظلم ،کسی عام مسلمان پہ ظلم سے کہیں بد تر ہے تو کسی ذمی کے مرنے کے بعد اس کی لاش کی تذلیل وتحقیر کیونکر جائز ہو گی؟؟؟ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

    كسر عظم الميت ككسره حيًا(25)

    ترجمہ: مردہ کی ہڈی توڑنا ایسا ہی ہے جیسے زندہ کی ہڈی توڑی جائے۔۔۔

    اور حدیثِ مرفوع میں میت کی مسلمان کے ساتھ تخصیص نہ فرمائی۔جس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ :

    میت مسلمان ہو یا مملکتِ اسلامیہ میں بسنے والا غیر مسلم۔۔۔ اس کو مرنے کے بعد تکلیف دینا ایسا ہی ہے جیسے اس کی زندگی میں اسے اذیت پہنچائی جائے۔۔۔

    اسی لیے امتِ اسلامیہ کے جلیل القدر ائمہ نے جابجافرمایا:

    ولا يكسر عظام اليهود إذا وجدت في قبورهم لأن حرمة عظامهم كحرمة عظام المسلم لأنه لما حرم إيذاؤه في حياته تجب صيانته عن الكسر بعد موته(26)

    ترجمہ: اگر یہود کی قبروں سے ان کی ہڈیاں برآمد ہوں تو ان کو توڑا نہ جائے گا۔ کیونکہ ان کی ہڈیوں کی حرمت مسلمان کی ہڈیوں کی حرمت کی طرح ہے۔ کیونکہ جب زندگی میں اس یہودی کو تکلیف دینا حرام ہے تو اس کے مرنے کے بعد بھی اسے ٹوٹنے سے بچانا واجب ہے۔

    البحر الرائق میں فرمایا:

    وفي الواقعات عظام اليهود لها حرمة إذا وجدت في قبورهم كحرمة عظام المسلمين حتى لا تكسر ؛ لأن الذمي لما حرم إيذاؤه في حياته لذمته فتجب صيانة نفسه عن الكسر بعد موته(27)

    ترجمہ: واقعات میں ہے: یہودیوں کی ہڈیا ں جب ان کی قبروں میں پائی جائیں تو ان کی حرمت مسلمانوں کی

    ہڈیوں کی مانند ہے لہذا انہیں توڑا نہیں جا سکتا۔کیونکہ جب ذمی کی زندگی میں اسے تکلیف دینا حرام ہے تو اس کے مرنے کے بعد بھی اسے ٹوٹنے سے محفوظ رکھنا واجب ہے۔

    فتاوی تاتار خانیہ میں ذکر کیا:

    وإن كانت مقابر أهل الذمة لا تنبش وإن طال الزمان بها لأنهم أتباع المسلمين أحياء وأمواتا (28)

    ترجمہ: اور اگر قبرستان اسلامی ریاست میں بسنے والے کافروں کا ہو (جب بھی)اس کو کھود ڈالنے کی اجازت نہیں ، چاہے اس قبرستان کو طویل عرصہ ہی کیوں نہ گزر گیا ہو۔ کیونکہ اسلامی ریاست میں بسنے والے کافر زندگی اور موت میں مسلمانوں کے تابع ہیں۔

    درر الحکام میں فرمایا:

    لا تكسر عظام اليهود ونحوهم إذا وجدت في قبورهم(29)

    ترجمہ: یہود اور ان جیسے دوسرے غیر مسلمین کی ہڈیاں ان کی قبروں میں ملیں تو انہیں توڑا نہیں جا سکتا۔

    اس کے تحت شرنبلالیہ میں ذکر کیا:

    لأن الذمي لما حرم إيذاؤه في حياته لذمته فتجب صيانته عن الكسر بعد موته(30)

    ترجمہ: کیونکہ ذمہ وعہد کے سبب جب اسکی زندگی میں اس کو تکلیف دینا حرام ہے تو اس کے مرنے بعد ٹوٹنے سے بچانا واجب ہے۔

    درمختار میں فرمایا:

    عظم الذمي محترم (31)

    ترجمہ: اسلامی ریاست کے باسی کافر کی ہڈی مستحقِ احترام ہے۔

    انہی سے ملتے جلتے کلمات طحطاوی علی الدر (32) طوالع الانوار (33) رد المحتار (34) وغیرہ میں بھی موجود ہیں۔

    ابن بطال مالکی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

    وكذلك أهل الذمة اليوم من اليهود والنصارى، لا يجوز نبش قبورهم لاتخاذ مسجد ولا غيره.... (35)

    ترجمہ: یونہی آج کے اسلامی ریاستوں میں بسنے والے یہودونصاری کی قبریں ـــ  مسجدیں بنانے کے لیے یا کچھ اور بنانے کی غرض سے ـــ کھودنا جائز نہیں۔

    اس طرح کے واضح کلمات ہوتے ہوئے کون کہہ سکتا ہے کہ فکرِ اسلامی میں غیر مسلم ذمی کی کوئی عزت وحرمت نہیں۔۔۔یا کوئی کہے

    کہ ان کی قبروں کو کھود کر جیسی چاہے تذلیل وتحقیر کرتے رہو۔۔۔اسلام میں اس کی کوئی ممانعت نہیں!!! معاذ اللہ من ذلک

    حق یہ ہے کہ :

    اگرچہ اختلافِ دین کے سبب غیر مسلم ذمیوں کے احکام مسلمانوں سے جدا اورانہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جا سکتا،لیکن اس کا مطلب ہرگز ہرگزیہ بھی نہیں کہ ہر ایرے غیرے کو ذمیوں کی قبروں کی تذلیل وپائمالی کی اجازت مل گئی ہے۔۔۔

    بلکہ جس طرح کسی مسلمان کی تدفین کے بعد اس کی لاش کو قبر سے نکالنا یا میت کی بے حرمتی کرنا جائز نہیں یونہی غیرمسلم ذمی کی لاش کے ساتھ بھی اس قسم کے افعال کی ہرگزہرگزاجازت نہیں۔

    حتی کہ شافعی ائمہ نے تصریح کی کہ اگر غیرمسلم ذمی حجازِ مقدس میں مر جاتا ہے اور حجازِ مقدس ہی کے اندر دفن کرنے کی ضرورت ہو تو اب اسے (حرمِ مکہ کے علاوہ)حجازِ مقدس میں ہی دفن کر دیا جائے۔۔۔ اور اگر تدفین ہو چکی ـــ اگرچہ بغیر کسی ضرورت کے ہوئی ہو ـــ  تو اب بعد از تدفین (حجازِ مقدس کی حرمت کے باوجود)اس غیر مسلم ذمی کی قبر کھود کر اسے حجازِ مقدس سے باہر نہ نکالا جائے گا،بلکہ اسے حجازِ مقدس میں ہی مدفون رہنے دیا جائے گا۔۔۔حتی کہ اگر خاص حرمِ مکہ میں دفن کر دیا گیا ہو اور اتناوقت گزرگیا ہو کہ اس کی لاش کے بکھر چکنے کا اندیشہ ہو تو اب اس کی قبر خاص حرمِ مکہ میں ہونے کے باوجود اسے کھودنے کی اجازت نہیں ، اسے حرمِ محترم کے اندر ہی برقرار رکھا جائے گا۔۔۔

    مغنی المحتاج میں فرمایا:

    ( فإن مات ) فيه ( وتعذر نقله ) إلى الحل لتقطعه مثلا ( دفن هناك ) للضرورة ، فإن لم يتعذر لم يدفن هناك ، فإن دفن ترك .

    ترجمہ: اگر ذمی حجازِ مقدس میں مر جائے اور اسے حِل کی جانب لانا مشکل ہو،مثلا اس کی لاش کے بکھر جانے کے سبب تو ضرورت کے پیشِ نظر اسے وہیں (حرمِ مکہ سے ہٹ کر) حجازِ مقدس میں ہی دفن کر دیا جائے ۔اور اگر اسے حِل میں لانا مشکل نہ ہو تو اب وہاں دفن نہ کیا جائے ۔ اور اگر دفن کیا جا چکا ہو تو اب (کھود کے نکالنے کے بجائے اسے وہیں) رہنے دیا جائے ۔

    اسی میں ہے:

    إن تهرى ترك (36)

    ترجمہ: اگر (حرمِ مکہ میں مدفون ہواوراس کے اعضاء) بکھر چکے ہوں تو اب (اسے حرمِ مکہ میں ہی)

    رہنے دیا جائے ۔

    راقم الحروف نے یہ سارے جملے لکھنا اس لیے بھی ضروری سمجھا کہ :

    بعض کوتاہ نظر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مسجدِ نبوی کی تعمیر فرمانا چاہی تو وہاں مشرکین کی قبریں تھیں جنہیں کھود ڈالا گیا۔۔۔۔لہذا غیر مسلم کی قبر کی کسی قسم کی کوئی عزت وحرمت نہیں۔۔۔۔اس کے ساتھ جب چاہے جیسا چاہے سلوک کر لیا جائے ، اسلام میں اس کی مکمل چھوٹ ہے۔۔۔۔!!!(معاذ اللہ من ذلک)

    ایسا سمجھنے والے لوگ کوتاہ فہم تو ہیں ہی۔۔۔۔ ساتھ ہی مذہبِ اسلام کو غیر مسلمین کی نظر میں بدنام کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔۔۔۔!!!

    حق یہ ہے کہ :

    (1):حضور سیدِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جن قبروں کو کھود کر (ان کی باقیات کو دوسری جگہ دفن کر کے ) وہاں مسجد بنانے کا حکم ارشاد فرمایا وہ ایسے لوگ نہ تھے جن سے اسلامی ریاست نے کسی طرح کی حفاظت کا عہد کیا ہو۔ یعنی غیر ذمی کفار تھے اور سطورِ بالا میں بیان ہو چکا کہ ذمی اور غیر ذمی اگرچہ دونوں ہی غیر مسلم ہیں ، لیکن شریعتِ اسلامیہ میں دونوں کے احکام جدا جدا ہیں۔اسلامی ریاست میں آئین وقانون کے پابند غیر مسلموں کی قبروں کی حفاظت اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔اور  کلماتِ بالا میں حنفی وغیر حنفی علماء کی تصریحات گزریں ،جن میں غیر مسلم ذمیوں کی قبروں  کو مسلمانوں کی قبروں کی مانند کہا گیا ، صدیاں بیت جانے کے باوجود ان کی قبروں کو کھولنے سے منع کیا گیا ، اور ابنِ بطال مالکی رحمہ اللہ تعالی نے تومسجد کے بہانے قبضہ کرنے سے روکتے ہوئے فرمایا:

    وكذلك أهل الذمة اليوم من اليهود والنصارى، لا يجوز نبش قبورهم لاتخاذ مسجد ولا غيره

    ترجمہ: اور یونہی آج کے دور میں اسلامی ریاست کے باسی یہودونصاری کی قبریں کھودنے کی اجازت نہیں۔۔۔ نہ مسجد بنانے کے لیے اور نہ کچھ اور۔۔۔!!!

     (2): پھر ایسا نہ کیا گیا کہ ان کی ہڈیوں نکال کر انہیں تذلیل وپائمالی کے لیے پھینک دیا گیا ہو ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے انہیں دفن کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ طبقاتِ کبری میں ہے:

    وأمر بالعظام أن تغيب(37)

    ترجمہ: اور ہڈیوں کے  بارے میں حکم فرمایا کہ انہیں (زمین کے اندر) چھپا دیا جائے۔

    "کسی قسم کا عقدِ ذمہ نہ ہونے کے باوجود ،ان کی ہڈیوں کو پائمالی کے لیے پھینک دینے کے بجائے ،ان کودفن کر دینے کا حکم فرمانا"نگاہِ اسلام میں احترامِ انسانیت کی اہمیت سمجھانے کے لیے بہت کافی ہے۔الحمد لله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله ۔

    (3): قبروں کی یہ کھدائی برسبیلِ ضرورت وحاجت کی گئی۔کیونکہ وہ جگہ دو یتیم بچوں کی تھی(37ب) اور ان کی اجازت کے بغیر وہاں قبریں بنا دی گئی تھیں۔اور ظاہر ہے کہ اگر ان قبروں کا کوئی بندوبست نہ کیا جاتا تو یتیم بچوں کی زمین برباد ہوکر رہ جاتی ۔۔۔ لہذا ان یتیموں کی ملکیت کو ہلاکت سے بچانے کے لیے اس قسم کا رستہ اختیار کرنا مجبوری تھا۔ علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا:

    أنه دعت الضرورة والحاجة إلى نبشهم فجاز(38)

    ترجمہ:ضرورت وحاجت ان کی قبریں کھودنے کی متقاضی تھی تو(ازراہِ ضرورت ان غیر ذمی کافروں کی دوسرے کی جگہ میں بلااجازت بنی ہوئی قبریں کھودنا) جائز ٹھہرا۔

    یہی وجہ ہے کہ ہمارے ائمہ وعلماء نے جہاں بھی اس مسئلہ کو ذکر فرمایا ، ضرورت وحاجت کی قید ضرور ذکر فرمائی۔۔۔

    تاتار خانیہ پھر رد المحتار میں ہے:

    وأما أهل الحرب ، فإن احتيج إلى نبشهم فلا بأس به(39)

    ترجمہ: اگر حربی کافروں کی قبریں کھودنے کی ضرورت وحاجت ہو تو اب اس میں کوئی حرج نہیں۔

    اکمال المعلم میں ہے:

    وفيه جواز نبش قبور المشركين  عند الحاجة إلى موضعها (40)

    ترجمہ:اس حدیث میں (غیر ذمی) مشرکوں کی قبروں کو کھولنے کے جواز کی طرف اشارہ ہے ، جبکہ ان کی جگہ کی ضرورت وحاجت ہو۔

    ابن بطال مالکی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

    فإن لم يكونوا أهل ذمة، وكانوا أهل حرب واحتيج إلى موضع قبورهم، فلا بأس بنبشها (41)

    ترجمہ:اگر کافر ذمی نہ ہوں، حربی ہوں اور ان کی جائے قبور کی ضرورت وحاجت ہو تو اب ان کو کھود لینے میں حرج نہیں۔

    اور ہرعقل مند جانتا ہے کہ ضرورت وحاجت کے احکام عمومی حالات سے جدا ہوتے ہیں۔لہذا قبرستانوں کو ذاتی ملکیت سمجھنے والوں کے لیے اس میں کوئی دلیل نہیں۔

    (4): چوتھی بات سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ ہماری گفتگو شہرِ سکھر کے جن قبرستانوں کے بارے میں ہو رہی ہے وہ جگہیں قبرستانوں کے لیے وقف شدہ ہیں،جیسا کہ سوال میں تصریح موجود ہے۔

    اور جب وقف درست ہو جائے تو اسے ذاتی پراپرٹی بنانا تو درکنار ، وقف کی جہت بھی نہیں بدلی جا سکتی۔۔۔۔ اگر مسجد ہے تو اسے قبرستان نہیں بنا سکتے اور اگر قبرستان ہے تو اسے مسجد نہیں بنا سکتے۔ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں فرمایا:

    لا يجوز للناظر تغيير صيغة الواقف كما أفتى به الخير الرملي والحانوتي وغيرهما(42)

    ترجمہ:وقف کے نگران کے لیے وقف کنندہ کا عنوان بدلنے کی اجازت نہیں،جیسا کہ امام رملی اور امام حانوتی اور دیگر ائمہ نے فتوی دیا۔

    فتاوی ھندیہ میں ہے:

    لا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا(43)

    ترجمہ:وقف کی ھیئت وجہت کو بدلنا جائز نہیں۔لہذا گھر کو باغ،دکان یاسرائے کو حمام،جانورباندھنے کی جگہ کو دکان نہیں بنایا جا سکتا۔

    فتاوی ہندیہ کے مصحح نے فرمایا:

    المحل موقوف علی الدفن فلا یجوز استعمالہ فی غیرہ (44)

    ترجمہ: جگہ مردوں کی تدفین کے لیے وقف کی گئی تو اور چیزوں میں اس کا استعمال جائز نہیں۔

    جبکہ جس مقام پہ مسجدِ نبوی شریف کی تعمیر ہوئی اس کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔ اہلِ عرب میں اسلام کی روشنی پھیلنے سے قبل اس بات کا التزام نہ تھا کہ میت کو وقف شدہ قبرستان میں ہی دفن کیا جائے۔ بسا اوقات کسی دوسرے کی زمین میں بھی میت کو دفن کر دیا جاتا تھا۔۔۔اور کچھ ایسا ہی معاملہ یہاں بھی درپیش آیا۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام مازری نے فرمایا:

    اما نبش القبور وإزالة الموتى فيمكن أن يقال : لعله أن أصحاب الحائط لم يُملكوهم تلك البقعة على التأبيد(45)

    ترجمہ: قبروں کو کھودنے اور مردوں کی باقیات کو وہاں سے ہٹانے کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ باغ کے مالکان نے مرنے والوں کے اولیاء کو ہمیشہ کے لیے اس جگہ کا مالک نہ بنایا ہو۔

    علامہ بدر الدین عینی اور علامہ قرطبی کے کلمات کچھ اس طرح کے ہیں:

    أن تلك القبور لم تكن أملاكًا لمن دفن فيها ، بل لعلها غصب ، ولذلك باعها مُلاَّكُها . (46)

    ترجمہ: وہ قبریں دفن شدگان کی ذاتی ملک نہ تھیں ، بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ جگہ غصب ہو(یعنی مالکان کی اجازت کے بغیر وہاں تدفین کر دی گئی ہو) اور یہی وجہ ہے کہ مالکان نے اس جگہ کو بیچ دیا۔(اور اگر انہوں نے تدفین کی اجازت دی ہوتی تو ہرگزاس جگہ کو بیچنے کا اقدام نہ کرتے۔)

    بلکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا "اس جگہ کو خریدنا" ، اس جگہ کے وقف نہ ہونے کی مضبوط ترین دلیل ہے۔۔۔ کیونکہ وقف کا حکم بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خود فرمایا:

    لا يباع ولا يوهب ولا يورث(47)

    ترجمہ: وہ جگہ نہ بک سکتی ہے ،نہ ہبہ کی جا سکتی ہے،نہ وراثت میں تقسیم ہو سکتی ہے۔

    اس کے باوجود آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا اس جگہ کو خریدنا روشن دلیل ہے کہ وہ جگہ ہرگز وقف نہ تھی۔

    پھر جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس جگہ کو خرید لیا تو ان قبروں کی حیثیت "غیر کی ملکیت میں تدفین" کی سی تھی۔اسی نقطہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا:

    أن نبش هذه انما كانت بعد ملك النبى (صلى الله عليه وسلم ) لها . (48)

    ترجمہ:ان قبروں کی کھدائی ،رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اس جگہ کا مالک بن جانے کے بعد پائی گئی۔

    اور ہمارے فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر میت کو غیر کی ملکیت میں دفن کر دیا گیا ہو اور زمین کا مالک اس سے راضی نہ ہو تو اب میت کو نکال کر دوسری جگہ دفن کیا جائے گا ۔۔۔اور اس بابت مسلمان یا کافر کی کوئی تخصیص نہیں۔ علامہ عینی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

    قالت الفقهاء إذا دفن المسلم في أرض مغصوبة يجوز إخراجه فضلا عن المشرك(49)

    ترجمہ: فقہاء نے فرمایا: جب مسلمان غصب کردہ زمین میں دفن کر دیا گیا ہو تو اسے نکالنا جائز ہے۔۔۔چہ جائیکہ وہ مشرک ہو۔

    فلہذا :

    (i):غیر ذمی مشرکوں کی وہ قبریں جو (ii):بلااجازت کسی اورکی زمین میں بنا دی گئی تھیں ، انہیں (iii):ضرورت ومجبوری اور یتیموں کی ملکیت ضائع ہونے سے بچانے کے لیے (iv):کھود کر ان کی باقیات دوسری جگہ دفن کر دینے سے یہ استدلال کیسے کیا جا سکتا ہے کہ:

    (i):ذمیوں کی وہ قبریں (ii):جو وقف شدہ قبرستان میں موجود ہوں ، (iii): بغیر کسی مجبوری کے (iv):ان کی پائمالی کرتے ہوئے انہیں کے اوپر تعمیرات کی جا سکتی ہیں؟؟؟

    پھر وہ تعمیرات مسجدیں ہی کیوں نہ ہوں ، شریعتِ اسلامیہ ہرگز ہرگزاس کی اجازت نہیں دیتی۔۔۔!!!

    ابن بطال مالکی رحمہ اللہ تعالی جو پانچویں صدی کے عظیم محدث ہیں،ان کے جملے مذکور ہوئے ،فرماتے ہیں:

    وكذلك أهل الذمة اليوم من اليهود والنصارى، لا يجوز نبش قبورهم لاتخاذ مسجد ولا غيره.... (50)

    ترجمہ: یونہی آج کے اسلامی ریاستوں میں بسنے والے یہودونصاری کی قبریں ـــ  مسجدیں بنانے کے لیے یا کچھ اور بنانے کی غرض سے ـــ کھودنا جائز نہیں۔

    لہذا مسجدوں کے نام پر،یا "کافروں کا قبرستان" کہہ کر واجبِ احترام قبروں کی پائمالی کرنے والوں ،اور انہیں ذاتی جاگیر بنا لینے والوں کے لیے اسلام کے دامن میں چھپنے کی کوئی جگہ نہیں۔اسلام نے تو غیرذمی کافر کے لیے بھی ایک مخصوص درجہ رکھا۔۔۔چہ جائیکہ وہ کافر اسلامی ریاست کاباشندہ ہو!!! اس کی قبر ومیت کے لیے وہی حرمت ہے جو مسلمان کی قبر ومیت کی ہے اور وہ ان احکام میں مسلمان کے تابع ہے۔اور پھر جب بات وقف شدہ قبرستان کی ہو تو اس کا معاملہ مزید نزاکت کی طرف چلا جاتا ہے۔

    اللہ کریم جل مجدہ صاحبزادہ حبیب ناصر قادری صاحب (سجادہ نشین قدیمی درگاہ عالیہ محمدی۔محمدی قبرستان آدم شاہ وچیئرمین دفاع

    قبرستان کمیٹی پاکستان۔سکھر)کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور بارآور فرمائے ۔ہماری انتظامیہ کو خوفِ خدا سے نوازے اور انسانیت کے احترام کی توفیق بخشے۔

    آمین بحبیبہ الکریم

    انا العبد الفقیر الی مولای الغنی

    ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری

    استاذ جامعہ غوثیہ رضویہ وجامعہ انیس المدارس

    خطیب مکرانی مسجد بندر روڈ سکھر

    najmulqadri@gmail.com

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    (1) (سورہ بنی اسرائیل آیت 70 )

     (2) (سورہ فجر آیت نمبر 15 )

     (3) (المائدۃ آیت نمبر 32 )

     (4) (سورہ الحجرات آیت 13 )

    (5) (دلائل النبوۃ حدیث 1825 ، 1826 ، 1827 ، 1828)

    (6) (السنن الکبری للبیہقی حدیث 14152 ، 14153)

    (7) (مسند احمد بن حنبل حدیث 23489)

     (8) (صحیح بخاری حدیث 2559 ، صحیح مسلم حدیث 6817)

     (9) (صحیح مسلم حدیث 5167)

     (10) (سنن ابی داود حدیث 2668)

     (11) (صحیح بخاری  حدیث2474 ، 5516)

     (12) (صحیح مسلم حدیث 4619)

     (13) (سنن ابی داود حدیث 2669)

     (14) (سنن کبری للبیہقی حدیث 18816 ، مصنف عبد الرزاق حدیث 9703 ، سنن سعید بن منصور ج1ص387)

    (15) (معجمِ کبیر حدیث 13143)

     (16) (سنن سعید بن منصور 2/287 ، السنن الكبرى للنسائی 5/204 ، السنن الكبرى للبیہقی  9/132  ، مصننف ابن ابی شیبۃ 7/722  ، تاريخ دمشق : 40/482 –483 )

     (17) (فتاوی قاضی خان ج3ص350،الاختیار لتعلیل المختار ج4ص153 ، حاشیۃ شلبی علی التبیین ج10ص36،37)

    (18) (المغنی ج10ص555)

     (19) (فتح القدیر ج۱۲ص۱۷۷)

     (20) (قنیہ ص۱۷۲)

     (21) (البحر الرائق مع منحۃ الخالق ج۱۳ص۱۷۹)

     (22) (تنویر الابصار مع الدر المختار ج۱۶ص۸۰)

     (23) (تاریخِ بغداد ج۸ص۳۷۰)

     (24) (رد المحتار ج۴ص۳۵۱)

     (25)أخرجه أحمد 6/58، 100، 105، 169، 200، 264، وأبو داود 3/544 برقم ‏(‏3207‏)‏، وابن ماجه 1/516 برقم ‏(‏1616،1617‏)‏، والدار قطني 3/188، 189، وعبد الرازق 3/444 برقم ‏(‏6256، 6257‏)‏، وابن حبان 7/437ـ438 برقم ‏(‏3167‏)‏، وابن الجارود 2/145 برقم ‏(‏551‏)‏، والبيهقي 4/58

    (26) (فتاوی قاضیخان ج1ص95 ، محیطِ برھانی ج4ص361)

     (27) (البحر الرائق ج5ص382)

     (28) (فتاوی تاتار خانیہ ج3ص75)

     (29) (درر الحکام ج2ص284)

     (30) (شرنبلالیہ ج2ص286)

     (31) (درمختار ج2ص266)

    (32) طحطاوی علی الدر (ج1ص383)

    (33) طوالع الانوار (ج2ص676)

    (34) رد المحتار (ج6ص413)

    (35) (شرح صحیح بخاری لابن بطال ج3ص95)

     (36) (مغنی المحتاج ج17ص429)

     (37) (الطبقات الکبری لابن سعد ج1ص239)

    (37ب) (صحیح بخاری حدیث3694)

     (38) (عمدۃ القاری ج6ص472 ، شرح سنن ابی داود للعلامۃ العینی ج2ص354 )

     (39) (فتاوی تاتار خانیہ ج3ص75 ، رد المحتار ج6ص413)

     (40) (اکمال المعلم ج2ص442)

     (41) (شرح صحیح بخاری لابن بطال ج3ص95)

     (42) (تنقیح الفتاوی الحامدیۃ ج2ص223)

     (43) (فتاوی ہندیہ ج19ص347)

     (44) (فتاوی ہندیہ ج2ص471)

    (45) (المعلم بفوائد مسلم ج1ص407)

     (46) (عمدۃ القاری ج6ص472 ، شرح سنن ابی داود للعلامۃ العینی ج2ص354 ، المفہم ج5ص51)

     (47) (صحیح بخاری حدیث 2586 ، 2613 ، 2620 ، صحیح مسلم حدیث 4311)

     (48) (اکمال المعلم ج2ص442)

     (49) (عمدۃ القاری ج6ص472)

     (50) (شرح صحیح بخاری لابن بطال ج3ص95)

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • استقبل ربيع الأول
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری