Question & Answer

  • نبی علیہ السلام کی زبان پر اللہ تعالی بولتا تھا

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    ایک خطیب نے دورانِ خطاب کہا کہ نبی علیہ السلام کی زبان پر اللہ تعالی بولتا تھا۔ خطاب کے بعد دوسرے خطیب نے پوچھا : آپ نے یہ کیسے کہہ دیا؟ تو خطیب صاحب نے کہا کہ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے ، حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبان پر تو شیطان بھی بولا ہے۔ تفاسیر کے حوالہ جات بھی دئیے۔

    جب یہ ساری باتیں ایک عالم صاحب نے سنیں تو انہوں نے کہا کہ یہ خطیب کافر ہو چکے ہیں ، اور تجدیدِ ایمان ضروری ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ وہ تو حوالہ دے رہا ہے تو کہنے لگے ایسی کتابوں کو آگ لگا دو۔

    دریافت طلب امر یہ ہے کہ دونوں میں سے کون حق پر اور کون ناحق ہے اور کس پر کیا شرعی حکم لگتا ہے۔ اور اگر کوئی مسئلہ غرانیق پر اعتقاد رکھے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟

    السائل

    مولانا عزیز اللہ صاحب

    گھوٹکی

     

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    مذکور خطیب صاحب کا کہنا کہ ‘‘حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبان پر تو شیطان بھی بولا ہے’’ ، عقلا نقلا کسی طرح سیدِ رسل صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وفداہ ابی وامی وروحی وجسدی کے شانِ عالی کے لائق نہیں۔

    بلکہ ان خطیب صاحب کی کلام مشعر کہ انہوں نے پہلے جملہ کہ ‘‘ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبان پر اللہ بولتا تھا’’ کے معنی بھی نہ سمجھے۔ کیونکہ ‘‘خالقِ کائنات جل مجدہ کا زبانِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وفداہ روحی وجسدی سے بولنا’’ ہرگز اپنے حقیقی معنی پر نہیں۔ بالعموم اس سے مراد یہ لیاجاتا ہے کہ ‘‘مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وحیِ الہی سے بولتے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی مبارک کلام وحیِ الہی کی ترجمانی کرتی’’

    اور جب پہلے جملہ کی تصویب کے لیے دوسرا جملہ (حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبان پر تو شیطان بھی بولا ہے) بولا جائے گا تو ظاہر ‘‘تمثیل’’ ہے۔ اور اس صورت میں دوسرے جملے کے معنی کچھ یوں بنیں گے:

    ‘‘مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم القائے شیطان سے بولتے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی مبارک کلام وساوسِ شیطانیہ کی ترجمانی کرتی’’

    اور بلا شبہ ایسا مضمون بولنا در کنار کوئی ایمان دار ایسے مضمون کو سوچنا بھی گوارا نہ کرے گا۔

    لیکن واضح رہے کہ معاذ اللہ میں ہر گز یہ نہیں کہنا چاہتا کہ خطیب صاحب نے دوسرے جملے (حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبان پر تو شیطان بھی بولا ہے) سے یہی معنی مراد لیے ہیں جو میں نے اوپر ذکر کیے۔۔۔ کسی عام مسلمان کے بارے میں بھی یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایسا ناپاک مضمون بولے گا چہ جائیکہ دیندار اور اصحابِ علم حضرات کے بارے میں ایسا سوچا جائے۔۔۔۔۔

    میرے کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ خطیب صاحب کی گفتگو دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے پہلے جملہ (نبی علیہ السلام کی زبان پر اللہ تعالی بولتا تھا) کے معنی اچھی طرح نہ سمجھے ، اگر سمجھے ہوتے تو اس کی تصدیق کے لیے دوسرا جملہ (حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبان پر تو شیطان بھی بولا ہے) ہر گز نہ بولتے ، کیونکہ دوسرا جملہ اس تناظر میں بولا ہی نہیں جا سکتا جس تناظر میں پہلا جملہ بولا جاتا ہے۔البتہ اگر کوئی شخص دوسرا جملہ (حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبان پر تو شیطان بھی بولا ہے) اُسی تناظر میں بولے جس تناظر میں پہلا جملہ (نبی علیہ السلام کی زبان پر اللہ تعالی بولتا تھا) بولا جاتا ہے تو اب دوسرے جملہ (حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبان پر تو شیطان بھی بولا ہے) کے وہ ناپاک معنی بنتے ہیں جو میں نے سطورِ بالا میں ذکر کیے۔ لیکن ہم بغیر کسی قابلِ اعتماد دلیل کے کسی مسلمان کے بارے میں ایسا برا گمان نہیں رکھ سکتے۔

    لیکن یہاں یہ بات نہایت قابلِ توجہ ہے کہ خطیب صاحب کا پہلا جملہ (نبی علیہ السلام کی زبان پر اللہ تعالی بولتا تھا) اپنے مرادی معنی کے اعتبار سے بالکل درست بلکہ ‘‘وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى’’ کا خلاصہ اور قولِ مشہور ‘‘گفتہ او گفتہ اللہ بود’’ کا مفہوم ومطلب بنتا ہے۔۔۔۔۔

    پھر معترض نے اعتراض کیوں کیا؟؟؟

    اگر دانستہ کیا تو اس کی شناعت محتاجِ بیان نہیں اور اگر نادانستہ کیا جب بھی معترض کا فعل واجبِ مذمت ہے ، کیونکہ ہمیں اہلِ ایمان کے ساتھ اچھا گمان کرنے کا حکم ہے اور بزرگانِ دین کا یہی طریقہ رہا ، ابنِ سیرین رحمہ اللہ تعالی فرمایا کرتے تھے:

    إذا بلغك عن أخيك شيء فالتمس له عذرا، فإن لم تجد له عذرا، فقل: له عذر

    خلاصہ یہ ہے کہ :جب تجھے تیرے بھائی کی طرف سے کوئی بات پہنچے تو اس کے لیے عذر تلاش کر، اگر تجھے اس کی خاطر کوئی عذر نہ بھی ملے جب بھی کہہ: اس کے پاس کوئی نہ کوئی عذر ہوگا۔

    (شعب الایمان ج۱۰ص۵۵۸ ، تاریخ دمشق ج۲۲ص۱۴۹)

    اسی کے ہم معنی ابو قلابہ سے بھی مروی ہے۔

    (شعب الایمان ج۱۰ص۵۵۵)

    اور حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:

    إذا بلغك عن أخيك الشيء تنكره فالتمس له عذرا واحدا إلى سبعين عذرا، فإن أصبته وإلا قل: لعل له عذرا لا أعرفه

    یعنی جب تجھے تیرے بھائی کی جانب سے ایسی بات کی اطلاع ہو جس کو توبرا جانے تو اس کے لیے ایک سے لے کر ستر عذر تلاش کر،اگر تجھے مل جائے (تو ٹھیک) ورنہ کہہ: شاید اس کے پاس کوئی ایسا عذر ہو جو مجھے معلوم نہیں۔

    (شعب الایمان ج۱۰ص۵۵۹)

    بہر حال خطیب صاحب کا جملہ ‘‘حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبان پر تو شیطان بھی بولا ہے’’ نہ عقلا درست ہے اور نہ ہی نقلا۔۔۔۔

    عقلا اس لیے کہ اگر شیطان مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبانِ اقدس پہ بول سکے تو ساری کی ساری شریعت سے اعتماد اٹھ جائے گا ، ہر حکمِ شرعی میں یہ احتمال نکلے گا کہ شاید یہ القائے شیطان کے باعث ہو ، ہر فرمانِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں شک پڑ جائے گا ، حتی کہ قرآن میں بھی شک پڑ جائے گا کیونکہ ہم تک قرآن بھی زبانِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے پہنچا۔

    نقلا اس لیے کہ خطیب صاحب نے جس روایت پہ اعتماد کرتے ہوئے یہ جملہ بولا ، چند مفسرین وعلماء کے علاوہ ساری امت نے اس کا رد وابطال کیا۔ امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ تعالی نے اسے من گھڑت اور باطل قرار دیا۔

    (تفسیر کبیر ج۱۱ص۱۳۴)

    یونہی قاضی عیاض مالکی ، علامہ بدر الدین عینی حنفی ، قاضی ابو بکر ابن العربی ، علامہ کرمانی ، علامہ علی قاری ، شیخ عبد الحق محدث دہلوی اور ان گنت علماء ومفسرین اور شارحینِ حدیث نے ان روایات کا رد وابطال فرمایا۔ امام محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ تعالی سے اس روایت کی بابت سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا ‘‘یہ زندیقوں کا گھڑا ہوا قصہ ہے’’ اور اس بارے میں مستقل کتاب تصنیف فرمائی۔

    رہا خطیب صاحب کا سمجھنا کہ ‘‘یہ قصہ بعض تفاسیر میں موجود ہے ، تو قابلِ اعتماد ہے’’ یقینا یہ ایک بہت بڑی لغزش ہے۔ بعض کتبِ تفسیریہ میں کسی بات کا وجود ہرگز اس بات کی صحت کی دلیل نہیں ، اور بالخصوص اس وقت جبکہ وہ بات عقل ونقل کے خلاف ہو۔ لہذا ایک عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحیح کو سقیم سے ممتاز کرنے میں اپنی پوری قوت صرف کرے ، اور جب تک وہ ایسا کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو ، ہرگز ہرگز ہرگز مسندِ علماء نہ سنبھالے اورنہ ایسی بات زبان سے نکالے جس کا جواب وہ کل دربارِ الہی میں نہ دے پائے۔

    خلاصہ یہ کہ خطیب صاحب کا دوسرا جملہ بہت برا جملہ ہے،ایسے کلمات بولنے سے ازحد اجتناب ضروری ہے،لیکن اس کے باوجود ان پر کفر کا فتوی لگانا بہت بڑی جرأت اور عاقبت نااندیشی بلکہ ‘‘اصول وقواعدِ تکفیر سے لاعلمی کی دلیل ہے۔’’

    کفر کا فتوی بہت بڑا فتوی ہے ، نہ تو ہر عالم ومفتی کو یہ فتوی دینے کا اختیار ہے اور نہ ہی ہر چھوٹی وبڑی بات پہ یہ فتوی لگایا جا سکتا ہے۔ ابنِ نجیم رحمہ اللہ تعالی فتاوی صغری سے نقل فرمایا :

    الكفر شيء عظيم فلا أجعل المؤمن كافرا متى وجدت رواية أنه لا يكفر

    کفر بہت بڑی چیز ہے،سو میں کسی مؤمن کو کافر قرار نہیں دے سکتا جب تک کہ مجھے اس کے کافر نہ ہونے کی کوئی ایک روایت بھی مل رہی ہو۔

    (البحر الرائق ج۱۲ص۳۹۷)

    خلاصۃ الفتاوی سے نقل کرتے ہوئے فرمایا:

    إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنع التكفير فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم

    اگر کسی مسئلہ میں بہت سی وجوہ ایسی ہوں جن کی وجہ سے تکفیر لازم ہو ،اور ایک وجہ تکفیر سے روکتی ہو تو مفتی پر لازم ہے کہ مسلمان پر خوش گمانی کرتے ہوئے اس وجہ کی طرف میلان کرے جو تکفیر سے روک رہی ہے۔

    (البحر الرائق ج۱۲ص۳۹۸)

    چند سطور بعد فرمایا:

    والذي تحرر أنه لا يفتى بتكفير مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة

    یعنی جو بات واضح ہوئی وہ یہ ہے کہ کسی ایسے مسلمان کی طرف کفر کی نسبت نہ کی جائے گی جس کی کلام کو کسی اچھے محمل پر محمول کیا جا سکتا ہو ، یا اس کے کفر میں اختلاف ہو،چاہے ضعیف روایت ہی کیوں نہ ہو۔

    (البحر الرائق ج۱۲ص۳۹۸)

    ‘‘ولو رواية ضعيفة’’ کے تحت علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی نے ذکر فرمایا:

    قال الخير الرملي : أقول ولو كانت الرواية لغير أهل مذهبنا

    یعنی علامہ خیر الدین رملی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا: میں کہتا ہوں کہ بھلے روایت ہمارے اہلِ مذہب(یعنی احناف) کے غیر کی ہو(جب بھی ایسی روایت کی موجودگی میں کسی مسلمان کو کافر قرار نہ دیا جائے گا۔)

    (رد المحتار ج۱۶ص۲۷۶)

    کفر کے فتوی کے خطر کے پیشِ نظر امام ابنِ نجیم رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا:

    أكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير بها ولقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء منها.

    تکفیر کے جو الفاظ ذکر کیے گئےان میں سے اکثر وہ ہیں جن کی بنیاد پر کفر کا فتوی نہ دیا جائے گا۔۔۔اور میں نے اپنے آپ پر لازم کیا کہ ان میں سے کسی کی بنیاد پر فتوی نہ دوں گا۔

    (البحر الرائق ج۱۲ص۳۹۸)

    ہمارے وہ ائمہ جن کی ساری زندگیاں علم کی خدمت میں گزریں ، کفر کا فتوی دینے میں اس قدر احتیاط کرتے کہ ضعیف تر روایت ، بلکہ اپنے مذہب سے ہٹ کر بھی اگر کوئی روایت ملتی ، جس کی بنیاد پر کسی مسلمان پر کفر کا فتوی لگانے سے بچا جا سکتا ہو تو ہمارے علماء وفقہاء اس کمزور ترین روایت کو سامنے رکھتے ہوئے ایک مسلمان پر کفر کا فتوی لگانے سے باز رہتے۔ لیکن حیرت ہے آج کے فتوی بازوں پر کہ جو اصول وقواعدِ تکفیر سے یکسر ناواقف ، تکفیر شخصی ووصفی سے بے بہرہ ، تکفیرِ فقہی وکلامی سے نابلد ، لزوم والتزام کے فرق سے نا آشنا۔۔۔۔ لیکن چھوٹی سے چھوٹی کوتاہی پر کفر کا فتوی داغ دیتے ہیں العیاذ باللہ تعالی

    اگر مذکور عالم کو اصرار ہے کہ وہ خطیب صاحب پر کفر ہی کا فتوی دیں گے تو انہیں ان علماء ومفسرین کا حکم بھی بیان کرنا ہو گا جنہوں نے ایسی روایات کو بلا نکیر ذکر کیا۔

    نیز علمی اور دینی کتب کے لیے توہین آمیز جملہ  (ایسی کتابوں کو آگ لگا دو) بول کر خود کن لوگوں میں جا شمار ہوئے ، اس کو بھی واضح کرنا ہو گا۔

    کیونکہ ان کی کلام میں علم کی توہین ہے اور علم کی توہین کفر ہے ، چاہے وہ علم کا نام لے کر کی جائے یا علم کی معادن کا ذکر کر کر کی جائے۔ فتاوی بزازیہ ومجمع الانہر میں ایک طالبِ علم کی کاپی کی توہین کرنے والے کے بارے میں علامہ خوارزمی کا فتویٔ قتل ذکر فرمایا۔(مجمع الانہر ج۴ص۴۳۱)اور اسی وجہ سے ہمارے فقہاء نے ‘‘عالم’’ کو بطورِ استخفاف ‘‘عویلم’’ کہنے والے کو کافر قرار دیا(مجمع الانہر ج۱ص۶۹۵)

    الاشباہ والنظائر میں فرمایا:

    الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر۔

    علم اور علماء کا مذاق اڑانا کفر ہے۔

    (الاشباہ والنظائر ص۲۱۵)

    فتاوی بزازیہ کے حوالے سے غمز العیون میں فرمایا:

    الاستخفاف بالعلماء كفر ، لكونه استخفافا بالعلم ، والعلم صفة الله تعالى منحه فضلا خيار عباده ليدلوا خلقه على شرعه نيابة عن رسوله

    علماء کو ہلکا جاننا کفر ہے ، کیونکہ یہ علم کو ہلکا جاننا ہے اور علم اللہ جل وعلا کی صفت ہے جسے وہ اپنے پسندیدہ بندوں کو عنایت فرماتا ہے تا کہ وہ اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نائب بن کر اس کی مخلوق کی اس کی شریعت پر رہنمائی کریں۔

    (غمز عیون البصائر ج۳ص۴۵۲)

    معاذ اللہ میرا مقصد ہرگز ان عالم صاحب کی تکفیر نہیں ، میں صرف یہ واضح کرنا چاہ رہا ہوں کہ اگر خطیب صاحب کا جملہ سنگین ہے تو عالم صاحب کا جملہ بھی کچھ کم سنگین نہیں۔ اگر عالم صاحب کو اپنے جملے کی توجیہات وتاویلات نظر آتی ہیں جو ان سے کفر روک سکیں تو انہیں خطیب صاحب سے کفرر وکنے کے لیے کوئی توجیہ وتاویل کیوں نظر نہیں آتی۔۔۔۔ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى

    حاصلِ کلام یہ ہے کہ خطیب صاحب کا پہلا جملہ (نبی علیہ السلام کی زبان پر اللہ تعالی بولتا تھا) اپنے معنی متعارف کے اعتبار سے بالکل درست ہے اور اس پر اعتراض کرنا سراسر زیادتی ہے ، لیکن اس جملے کی صحت ثابت کرنے کے لیے خطیب صاحب کا دوسرا جملہ (حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبان پر تو شیطان بھی بولا ہے) پیش کرنا بالکل غلط ہے ، نہ تو استدلال درست ہے اور نہ ہی خود جملہ درست ہے۔ خطیب صاحب کو اپنے اس فعل پر اللہ جل مجدہ کے دربار میں توبہ کرنی چاہیے اور آئندہ ہرگز ہرگز ایسا کوئی جملہ زبان سے نہیں نکالنا چاہیے۔

    لیکن اس جملے کی بنیاد پر عالم صاحب کا خطیب صاحب پر کفر کا فتوی صادر کرنا سراسر غلط اور ضوابطِ تکفیر سے لاعلمی کی دلیل ہے۔ یونہی دینی ومذہبی کتابوں کے بارے میں کہنا کہ (ایسی کتابوں کو آگ لگا دو) ، سخت برا جملہ اور علم کی بے ادبی ہے۔ مذکور عالم صاحب کو ان دونوں باتوں سے توبہ کرنا لازم ہے اور آئندہ نہ تو کسی شخص پر کفر کا فتوی دیں اور نہ ہی جذبات میں اپنی زبان کو بے لگام کریں۔ اگر کسی کے بارے میں حکمِ شرعی بیان کرنا ہو تو ذمہ دار مفتیانِ کرام سے رجوع کریں۔

    نیز مسئلۂ غرانیق ایک باطل قصہ ہے جس کا علماء اسلام نے رد وابطال فرمایا ، اس کو باطل ہی سمجھا جائے۔

    ھذا ما عندی واللہ عز اسمہ اعلم

    وانا العبد الفیقر الی مولای الغنی

    ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری

    الاستاذ بالجامعۃ الغوثیۃ الرضویۃ

    سکھر۔ سندھ

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • استقبل ربيع الأول
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری