Question & Answer

  • بے لگام سیاست دان

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :

    چند دن قبل وزیرِ اعظم پاکستان محترم جناب نواز شریف صاحب نے کراچی میں دیوالی کی تقریب میں شریک ہو کر کیک کاٹا ، بعد ازاں دیوالی کی تقریب سے خطاب بھی کیا اور بدیں الفاظ دیوالی کی مبارکباد دی:

    میری طرف سے آپ سب کو ہیپی دیوالی۔۔۔

    اور اس سفر میں سابق وزیرِ اعلی سندھ قائم علی شاہ صاحب اور دیگر نامور سیاسی شخصیات بھی ہمرکاب تھیں۔ لنک

    کچھ وقت بعد چیئر مین پیپلز پارٹی جناب بلاول بھٹو صاحب ، وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ صاحب ، شیری رحمن صاحبہ نے بھرپور طریقے سے دیوالی میں شرکت کی۔ لنک

    بلاول زرداری صاحب نے دیوالی کی تعریف کرتے ہوئے کہا:

    دیوالی روشنی کی جیت ، اندھیرے کی ہار ہے ۔ دیوالی محبت کی جیت ، نفرت کی ہار ہے۔ دیوالی امن کی جیت جنگ کی ہار ہے ، اس روشنیوں کے تہوار پر آپ کی خوشی میں شریک ہونا چاہتا تھا۔ لنک

    ایک تقریب میں بلاول صاحب نے تلک بھی لگوایا۔ لنک

    دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہمارے سیاسی رہنماوں کے یہ افعال ازروئے شریعتِ اسلامیہ کیسے ہیں؟

    بسم الله الرحمن الرحيم

    الـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــجـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    عرضِ جواب سے قبل چند باتیں گزارش کرنا ضروری ہیں:

    1)   بعض لوگوں کے سوالات اپنے مقاصد فاسدہ کی تکمیل کے لیے ہوتے ہیں۔ لیکن راقم الحروف کے جواب کا مقصد نہ تو کسی سیاسی پارٹی کی مخالفت ہے اور نہ ہی کسی سیاسی لیڈر کی۔۔۔اور نہ ہی یہ اپنا طریقہ ہے۔ مقصود محض اظہارِ حق وصواب ہے۔

    2)   اس مضمون میں بیان کردہ حکم میڈیا پر پھیلی خبروں ، تصاویر اور ویڈیوز کی صداقت پر موقوف ہے ، بالفرض وہ سب یا بعض ، مکمل طور پر یا اس کے بعض اجزاء نادرست ہوں تو ضروری نہیں کہ حکمِ شرعی وہی رہے جو مضمون میں بیان کیا گیا ہے۔اسی لیے سطورِ ذیل میں کسی کا نام لے کر کوئی حکم نہیں لگایا گیا۔

    3)   اس تحریر سے یہ بھی نہ سمجھا جائے کہ اسلام دیگر مذاہب کے پیروکاروں سے رواداری سے روکتا ہے۔معاذ اللہ من ذلک۔ قرآنِ عظیم میں فرمایا:

    لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (1)

    یعنی اللہ تعالی تمہیں ان لوگوں سے بھلائی کرنے اور انصاف کا معاملہ کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے تم سے دین میں جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔

    اور اگر غیر مسلم جب مسلم ریاست کا باشندہ ہو تو اس کی جان ومال ، عزت وآبرو ، بلکہ تمام حقوق کی حفاظت اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کسی مسلمان کو اجازت نہیں کہ اسلامی ریاست کے کسی غیر مسلم باشندے کو گالی دے ، یا اس انداز میں اس سے گفتگو کرے جس سے اس کی دل آزاری ہو۔ حتی کہ اگر "کافر" کہہ کر مخاطب کرنے سے اس کی دل آزاری ہوتی ہے تو ایسا کرنے والا مسلمان گناہگار ہو گا ، بلکہ بعض فقہاء کی تصریح کے مطابق مستحقِ تعزیر ہو گا۔ فتح القدیر میں فرمایا:

    المسلم اذا شتم الذمی یعزر لانه ارتکب معصية (2)

    یعنی مسلمان ذمی کو گالی دے تو مسلمان کو تعزیر کی جائے گی کیونکہ اس نے گناہ کا ارتکاب کیاہے۔

    قنیۃ میں ہے:

    لو قال لیہودی او مجوسی یا کافر یأثم ان شق علیہ (3)

    یعنی اگر کسی مسلمان نے کسی یہودی یا آتش پرست کو "اے کافر" کہہ کر مخاطب کیا جس سے اس غیر مسلم کی دل آزاری ہوئی تو وہ مسلمان گناہگار ہو گا۔

    البحر الرائق میں اس کلام کو نقل کرنے کے بعد فرمایا:

    ومقتضاه أن يعزر لارتكابه ما أوجب الإثم

    یعنی صاحبِ قنیہ کی گفتگو کا تقاضا یہ ہے کہ اس مسلمان کو سزا دی جائے گی کیونکہ اس نے گناہ کا کام کیا ہے۔

    اور منحۃ الخالق میں صاحبِ بحر کی تائید کرتے ہوئے  فرمایا:

    قلت ويؤيد كلام المؤلف قول الفتح المار آنفا لو شتم ذميا يعزر ؛ لأنه ارتكب معصية (4)

    میں کہتا ہوں کہ فتح القدیر کی جو کلام ابھی ابھی گزری کہ "اگر ذمی کو گالی دے تو تعزیر کیا جائے گا کیونکہ وہ نافرمانی کا مرتکب ہو ہے" (یہ کلام) مصنف کی کلام کی تائید کرتی ہے۔

    کسی کے سامنے بیٹھ کر اسے تکلیف دینا تو یقیناسخت بری بات ہے ، امت مسلمہ کے جلیل القدر علماء نے مملکتِ اسلامیہ میں بسنے والے غیر مسلم کی پیٹھ پیچھے برائی کو بھی حرام گردانا ہے۔ تنویر الابصار میں ہے:

    وتحرم غيبته كالمسلم(5)

    یعنی جیسے کسی مسلمان کی غیبت حرام ہے یونہی اسلامی ریاست میں بسنے والے غیر مسلم کی غیبت بھی حرام ہے۔

    الغرض اسلامی ریاست میں جو حقوق مسلمان کو حاصل ہیں بالعموم وہی حقوق غیر مسلم کو بھی حاصل ہیں۔ بلکہ اسلامی ریاست میں بسنے والے غیر مسلم کا معاملہ کسی مسلمان سے زیادہ نازک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

    من آذى ذميا فانا خصمه ومن كنت خصمه خصمته يوم القيامة(6)

    یعنی جس نے کسی ذمی کو تکلیف دی تو اس کے مدِّ مقابل میں ہوں گا اور جس کے مدِ مقابل میں آیا روزِ قیامت میں اس پہ غالب رہوں گا۔

    یہی وجہ ہے کہ ہمارے ائمہ نے فرمایا:

    إن ظلم الذمي أشد(7)

    یعنی اسلامی ریاست میں رہنے والے غیر مسلم پر ظلم کسی مسلمان پر ظلم سے زیادہ برا ہے۔

    لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس رواداری میں یہود وہنود ونصاری کے ساتھ مل کر ان کی مثل پوجا پاٹ شروع کر دی جائے ، یا ان کے دین کو بھی سچادین گردانا جائے۔ یہی بات سمجھاتے ہوئے خالق کریم جل مجدہ نے فرمایا:

    إن الدين عند الله الإسلام(8)

    یعنی اللہ تعالی کے ہاں درست دین صرف اسلام ہے۔

    اور فرمایا:

    ومن يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه وهو في الآخرة من الخاسرين(9)

    یعنی جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین ڈھونڈے ، اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان والوں سے ہو گا۔

    بہر حال ان جملوں کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ اسلام مذہبی رواداری کا رستہ ضرور دکھلاتا ہے لیکن اس مذہبی رواداری کی کچھ حدود بھی ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے ، ورنہ یہ رواداری ہمارے دین وایمان کو نگل سکتی ہے۔

    اور شاید یہی وجہ ہے کہ آئینِ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق ومفادات کی حفاظت کے تحفظ کا وعدہ کرتے ہوئے ہر بار "جائز مفادات" اور "جائز حقوق" کہا گیا۔صفحہ 12پر کہا گیا:

    Wherein adequate provision shall be made to safeguard the legitimate interests of minorities and backward and depressed classes;

    آرٹیکل 36 کے کلمات کچھ یوں ہیں:

    The State shall safeguard the legitimate rights and interests of minorities

              صفحہ 186 پہ ہے:

    Wherein adequate provision shall be made to safeguard the legitimate interests of minorities

    ان معروضات کے بعد سوال میں مندرج امور پہ غور کی جائے تو یہاں چند چیزیں ہیں:

    1: دیوالی کی تقریبب میں شرکت۔

    2: دیوالی کا کیک کاٹنا۔

    3: دیوالی کی مبارکباد۔

    4: دیوالی کی تعریف کرنا۔

    5: ماتھے پہ تِلک لگوانا۔

    6: بت کی آرتی کرنا۔

    7: شیولنگ پہ دودھ چڑھانا۔

    ان میں سے ہر ایک کا حکم ملاحظہ ہو:

    1): دیوالی کی تقریب میں شرکت:

    اللہ کریم جل مجدہ نے قرآنِ عظیم میں فرمایا:

    وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا(10)

    یعنی اللہ کریم کتاب میں تم پہ یہ بات اتار چکا کہ جب تم اللہ جل مجدہ کی آیتوں کا انکار اور ان کے ساتھ ٹھٹھا سنو تو ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہوں۔ ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو۔ بے شک اللہ جل مجدہ منافقوں اور کافروں سبھی کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔

    آیہ مبارکہ کے پیشِ نظر ہر مسلمان پہ ضروری ہے کہ اگر کسی محفل ومجلس میں گناہ کی بات دیکھے تو انہیں روکے ، اگر روک نہ سکتا ہو تو ان کے ساتھ بیٹھنے سے اجتناب کرے ورنہ ازروئے آیت اس کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تعالی نے چند لوگوں کو شراب پیتے پکڑا تو ان لوگوں کے ساتھ ایک روزہ دار بھی تھا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تعالی نے ان شراب پینے والوں کے ساتھ اس روزہ دار کو بھی سزا دی۔ حضرت عمر بن عبد العزیز سے کہا گیا کہ یہ تو روزے سے ہے۔۔۔۔

    آپ رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا:

    فلا تقعدوا معهم حتى يخوضوا في حديث غيره إنكم إذا مثلهم(11)

    ( یعنی بتقاضائے حکمِ باری عز اسمہ ) تم گناہ میں شریک لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو تا آنکہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں۔ ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو۔ ( اور یہ شخص اپنے اختیار سے شراب پینے والوں کے ساتھ بیٹھا رہا تو روزہ دار ہونے کے باوجود گناہ میں شریک ہے۔)

    بنا بریں امتِ مسلمہ کے جلیل القدر ائمہ دین نے کفار کی دینی تقریبات میں شرکت کو کفر قرار دیا۔ جامع الفصولین میں ابو بکر بن طرخان رحمہ اللہ کا قول نقل فرمایا:

    من خرج إلى السدة كفر إذ فيه إعلان الكفر وكأنه أعان عليه وعلى قياس السدة (12)

    یعنی جو شخص کافروں کی جائے اجتماع کی طرف نکلا وہ بھی کافر ہو گیا۔ کیونکہ اس اجتماع میں اعلانِ کفر ہے تو گویا کہ اس شخص نے ( ان کی اجتماعیت بڑھا کر کفر کا اعلان کرنے میں) ان کی مدد کی۔

    اسی سے ملتی جلتی کلام منح الروض الاظہر ص۵۰۰ میں بھی موجود ہے۔

    2: دیوالی کا کیک کاٹنا

    جس طرح کفار کی دینی تقریبات میں شرکت اعلانِ کفر اور کفر میں مدد ہونے کے سبب کفر ہے ، یونہی اس روز ان کے معمولات میں ان سے موافقت بھی کفر ہے۔ جامع الفصولین میں ہے:

    الخروج إلى نيروز المجوس والموافقة معهم فيما يفعلونه في ذلك اليوم كفر.(13)

    یعنی آتش پرستوں کے تہوار نوروز کو جانا اور اس دن ان کے کاموں میں ان کی موافقت بھی کفر ہے۔

    اسی سے ملتی جلتی کلام منح الروض الاظہر ص۵۰۰ میں بھی موجود ہے۔

    کفار کے دینی تہوار میں شامل ہو کر ان کے کاموں میں ان سے ہم آہنگی تو سخت بری بات ہے ، اگر ان کے دینی تہوار کے موقع پر ان کی تقریب میں شرکت کے بغیر بھی ان کے مخصوص افعال بجا لائے جائیں تو یہ بھی کفر ہے۔ (کیونکہ کسی بھی مذہب کے مذہبی تہوار کی تعظیم درحقیقت اس مذہب کی تعظیم ہے اور مذہبی رواداری کا مفہوم ہرگز یہ نہیں کہ کفر کی تعظیم کی جائے۔) اسی وجہ سے شریعتِ اسلامیہ میں نوروز کے دن آتش پرستوں کو کوئی چیز تحفہ دینا ، یا کوئی ایسا کام کرنا جس میں کفار کی عید کی تعظیم ہو ، کفر ہے۔(14)

    اور کتبِ شافعیہ میں ایسے شخص کو مستحقِ تعزیر کہا گیا۔ مغنی المحتاج میں ہے:

    ويعزر من وافق الكفار في أعيادهم.....ومن هنأه بعيده(15)

    یعنی جو شخص کافروں کی عیدوں میں ان سے موافقت کرے وہ لائقِ تعزیر ہے اور وہ بھی جو کافر کو اس کی عید کی مبارک دے۔

    تنبیہ:

              واضح رہے کہ حکمِ بالا کسی بھی طور مذہبی رواداری کے خلاف نہیں۔ کیونکہ یہ حکم کفار کے دینی اور ان تہواروں میں شرکت کا ہے جو اہلِ کفر کا شعاروعلامت ہیں، نہ کہ کسی ذاتی تقریب کا۔ اگر کوئی مسلمان اسلامی حدود کی پاسداری کرتے ہوئے کفار کی ذاتی تقریب میں شریک ہوتا ہے تو شریعتِ اسلامیہ میں اس کی گنجائش موجود ہے۔فتاوی شیخ الاسلام ابو الحسن سغدی سے فتاوی ظہیریہ وغیرہ میں سربل کے ایک مالدار آتش پرست کی تقریب کا ذکر کیا جو اس نے اپنے بیٹے کا سر منڈوانے کے موقع پر کی اور اس میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور بعض مسلمانوں نے تحائف بھی پیش کیے ، اس بابت شیخ الاسلام ابو الحسن سغدی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا:

    إن إجابة دعوة أهل الذمة مطلقة في الشرع ومجازاة الإحسان من المروءة(16)

    یعنی شرع شریف میں ذمیوں کی دعوت قبول کرنے کی اجازت ہے اور بھلائی کا بدلہ دینا بابِ مروت سے ہے ( لہذا جائز ہے۔)

    الاشباہ والنظائر میں فرمایا:

    ولا تکرہ ضیافتہ(17)

    یعنی اسلامی ریاست میں بسنے والے غیر مسلم کی دعوت کو قبول کرنے میں کچھ کراہت نہیں۔

              لیکن یہ اجازت اسی وقت ہے جبکہ وہ تقریب کفار کی دینی تقریب اور ان کی مذہبی علامت نہ ہو ، اور اگر وہ تقریب کافروں کا دینی تہوار اور ان کا مذہبی شعار ہو تو اب کسی مسلمان کو اس میں شرکت کی اجازت نہیں۔

    3: دیوالی کی مبارکباد

    دیوالی کی مبارکباد دینا بالاتفاق حرام اور لائقِ تعزیر جرم ہے۔

    ابن قیم الجوزیہ رقمطراز ہیں:

    أما التهنئة بشعائر الكفر المختصة به فحرام بالاتفاق مثل أن يهنئهم بأعيادهم وصومهم فيقول عيد مبارك عليك أو تهنأ بهذا العيد ونحوه فهذا إن سلم قائله من الكفر فهو من المحرمات وهو بمنزلة أن يهنئه بسجوده للصليب بل ذلك أعظم إثما عند الله وأشد مقتا من التهنئة بشرب الخمر وقتل النفس وارتكاب الفرج الحرام ونحوه.(18)

    کفر کے ساتھ مخصوص علامات کی مبارکباد بالاتفاق حرام ہے ، جیسے کافروں کو ان کی عیدوں اور ان کے روزے کی مبارک دی جائے اور کہے: تیرے لیے عید مبارک ہو یا یہ عید مبارک وغیرہ۔ یہ جملے کہنے والا اگر کفر سے بچ بھی جائے تو یہ کام حرام کاموں سے ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کافر کو صلیب کو سجدہ کرنے پر مبارک دی جائے۔ بلکہ کافروں کو ان کی عید کی مبارک دینا اللہ تعالی کے ہاں شراب پینے ، قتل کرنے ، زنا کرنے کی مبارک دینے سے بھی زیادہ برا اور سخت ناراضی کا سبب ہے۔

    مغنی المحتاج میں ہے:

    ويعزر..... من هنأه بعيده(19)

    یعنی جو شخص کافر کو اس کی عید کی مبارک دے وہ مستحقِ تعزیر ہے۔

    4: دیوالی کی تعریف کرنا

    دیوالی کے لیے تعریفی کلمات کہنا کفر ہیں۔

    غمز عیون البصائر میں ہے:

    اتفق مشايخنا أن من رأى أمر الكفار حسنا فقد كفر(20)

    یعنی ہمارے مشائخ کا اتفاق ہے کہ جو شخص کفار کے معاملے کو اچھا جانے وہ بھی کافر ہے۔

    منح الروض الازہر میں ہے:

    اجتمع المجوس یوم النیروز فقال مسلم: سیرۃ حسنۃ وضعوھا ، کفر۔ لانہ استحسن وضع الکفر مع تضمن استقباحہ سیرۃ الاسلام(21)

    یعنی نوروز کے دن آتش پرست جمع ہوں اور کوئی مسلمان کہے: "ان لوگوں نے اچھا طریقہ وضع کیا ہے" تو وہ شخص کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ اس نے کفر کے طریقے کو اچھا قرار دیا ( جس کے کفر ہونے میں شک نہیں) اس کے ضمن میں سیرتِ اسلام کو برا بھی جانا جا رہا ہے (یہ بھی مستقل کفر ہے)

    5): ماتھے پہ تِلَک لگانا یا لگوانا:

    سید الرسل جانِ کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

    من تشبه بقوم فهو منهم (22)

    جو جس قوم جیسا بنا وہ انہی میں سے ہے۔

    فتاوی رضویہ میں ہے:

    زنار باندھنا یا قشقہ لگانا علامت کفر ہے۔(23)

    چودہویں جلد میں فرمایا:

    قشقہ ضرور شعار کفر منافی اسلام ہے جیسے زنار بلکہ اس سے زائد کہ وہ جسم سے جدا ایک ڈورا ہے جو اکثر کپڑوں کے نیچے چھپا رہتا ہے اور یہ خاص بدن پر اور بدن میں بھی کہاں چہرے پر، اور چہرے میں کس جگہ ، ماتھے پر، جو ہر وقت چمکے اور دور سے کھلے حرفوں میں منہ پر لکھا دکھائے کہ ھذا من الکافرین (24)

    اعلیحضرت رحمہ اللہ تعالی سے پوچھا گیا:

    مسلمانوں کو پیشانی پرٹیکا لگانا خواہ وہ کسی قسم کا مانند زعفران وصندل وغیرہ کے ہوجائز ہے یانہیں؟

    جواب میں فرمایا:

    ماتھے پر قشقہ(ٹیکا) لگانا خاص شعار کفر ہے ا ور اپنے لئے جو شعار کفرپر راضی ہو اس پر لزوم کفر ہے۔ (25)

    6: بت کی آرتی:

    ویکیپیڈیا پر آرتی سے متعلق مضمون میں ہے:

    ایک تھالی میں چراغ روشن کرکے اُس کو دیوتا کی مورتی کے سامنے دائرہ کی صورت میں پھیرا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ، اشلوک، بھجن، یا موقع کی مناسبت سے کوئی پاٹ پڑھا جاتا ہے ۔ ہندو اعتقاد کے مطابق ایسا کرنے سے اُس دیوی یا دیوتا کی طاقت چراغ کے شعلے میں آجاتی ہے ، پھر یہ تھالی پوجا میں شامل لوگوں کے آگے کی جاتی ہے اور ہر کوئی چراغ کی باتی پر سے ہاتھ گھما کر، دیوی دیوتا کا اشیرباد لیتا ہے۔

    آرتی کا مقصد لہراتے ہوئے شعلہ سے دیوتاوں کے سامنے عاجزی اور شکریہ ادا کرنا ہوتا ہے۔ اجتماعی آرتی مندر میں کی جاتی ہے ؛تاہم عقیدت مند اپنےگھروں پر بھی اس کو انجام دیتے ہیں۔ آرتی بہت سے جذبوں کا اظہارہے جیسے محبت ، احسان ، شکریہ ، عبادت ، یا خواہشات۔ مثال کے طور پر، جب بزرگوں یا دیوتاوں کی آرتی کی جائے تو اس کا مطلب احترام ہوتا ہے اور مقصد ان کی دعا اور آشیرباد ہوتا ہے۔لنک

    بنا بریں کسی بت کی آرتی حقیقت میں اس بت کی تعظیم بلکہ اس کی پوجا کے معنی میں ہے۔ اور بت کی تعظیم بلاشبہ کفر ہے ، در مختار میں فرمایا:

    تعظيم الصنم كفر(26)

    یعنی بت کی تعظیم کفر ہے۔

    اور الاشباہ والنظائر میں فرمایا:

    عبادة الصنم : كفر ولا اعتبار بما في قلبه (27)

    یعنی بت کی پوجا کفر ہے اور اس بابت اس کے دل کی کیفیت کا کچھ اعتبار نہیں۔

    7: شیولنگ پہ دودھ چڑھانا۔

    بتوں کے لیے قربانی کرنا ، دودھ چڑھانا وغیرہ دورِ جاہلیت کے بت پرستوں میں بھی موجود تھا۔ لیکن شیولنگ پر دودھ چڑھانا تو ایسا بدترین اور شرمناک عمل ہے کہ معمولی سی عقل کا حامل بھی یہ بدترین عمل کرنے سے شرمائے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دیانند سرسوتی تک نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا:

    Later on the Vaama Maargis and the Shivites combined together and introduced the worship of the male and female reproductive organs which are termed Jaladhari and Linga. These unblushing wretches did not feel the slightest shame in following these idiotic practices.(28)

    بہر حال یہ مکروہ فعل نہایت شرمناک ہونے کے ساتھ ساتھ مذکورہ بالا جزئیات کے مطابق کفر بھی ہے۔

    خلاصۂ گفتگو یہ ہے کہ :

    اگرچہ اسلام نے مذہبی رواداری کی بہت وسیع اجازت دی ہے لیکن اس کے معنی ہرگز یہ نہیں کہ یہ رواداری لامحدود ہے۔ لہذا غیر مسلموں کے مذہبی تہواروں میں شرکت ، ان تہواروں کی تعریف ، مذہبی تہواروں کی مبارکباد دینا ، ان تہواروں کے دوران غیرمسلموں جیسے کام کرنا ، بتوں کی تعظیم وعبادت میں سے بعض کام سخت حرام اور بعض کفر ہیں۔ لہذا ان کاموں کے مرتکبین پر توبہ لازم ہے ۔ اور چونکہ ان گناہوں کا ارتکاب سرِ عام کیا ہے تو توبہ بھی اعلانیہ ضروری ہے۔

    ھذا ما عندی واللہ عز اسمہ اعلم

    وانا العبد الفقیر الی اللہ الغنی

    ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری

    +923005053739

    najmulqadri@gmail.com

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    (1):(الممتحنہ آیت ۸)                                                                                                   (2):(فتح القدیر ج۱۲ص۱۷۷)

    (3):(قنیہ ص۱۷۲)                                                     (4):(البحر الرائق مع منحۃ الخالق ج۱۳ص۱۷۹)

    (5):(تنویر الابصار مع الدر المختار ج۱۶ص۸۰)                              (6):(تاریخِ بغداد ج۸ص۳۷۰)

    (7):(رد المحتار ج۴ص۳۵۱)                                            (8):(آلِ عمران آیت ۱۹)

    (9):(آلِ عمران آیت ۸۵)                                                (10):(سورہ نساء آیت 140)

    (11):(المصنف لابن ابی شیبہ حدیث 24238 ، الابانۃ الکبری لابن بطہ حدیث 513 ، تفسیر ابن ابی حاتم حدیث 6161)

    (12):(جامع الفصولین ج2ص174)                                               (13):(جامع الفصولین ج2ص174)

    (14):(جامع الفصولین ج2ص174 ، منح الروض الاظہر ص 499 ملخصا)     (15):(مغنی المحتاج ج17ص136)

    (16):(فتاوی ظہیریہ مخطوط ص 121 ، غمز عیون البصائر ج3ص424 ، ج6 ص378 ، جامع الفصولین ج2ص174 ، رد المحتار ج29ص339)

    (17):(الاشباہ والنظائر ص359)                                         (18):(احکام اہل الذمۃ ج1ص234)

    (19):(مغنی المحتاج ج17ص136)                                                (20):(غمز عیون البصائر ج3ص456)

    (21):(منح الروض الازہرص 499)                                      (22):(سنن ابی داود حدیث 4033)

    (23):(فتاوی رضویہ ج5ص117)                                     (24):(فتاوی رضویہ ج14ص393)

    (25):(ج21ص296)                                                           (26):(در مختار ج3ص714)

    (27):(الاشباہ والنظائر ص215)

    (28):(Satyartha Prakasha p#360,361)

    _____________________________________________________

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری