Question & Answer

  • لے پالک اپنے والد کی طرف ہی منسوب ہو گا

    الاستفتاء

    مفتی محمد ابراہیم القادری صاحب

    السلام علیکم

    میری بہن کی شادی چوبیس سال کی عمر میں ایک شخص ولی محمد سے ہوئی تھی لیکن شادی سے سات ماہ بعد میری بہن کو طلاق واقع ہو گئی تھی۔اور اس وقت میری بہن حاملہ تھی۔طلاق میں اس نے لکھ دیا تھا کہ جو بھی بچہ پیدا ہو گا میرا اس سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔اس کے بعد میری بہن کے ہاں بچی کی ولادت ہو ئی۔میرے والد محترم نے اس بچی کی سر پرستی قبول کی۔اب وہ بچی تیئیس سال کی ہو گئی ہے ہم نے اس کی شادی کرنی ہے۔ تو نکاح نامہ میں والد کانام آئے گا یاسر پرست اعلی کا نام آئے گاجبکہ ولی محمد جب تک زندہ رہا اس نے اس بچی سے کسی قسم کا واسطہ نہیں رکھا۔قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

    السائل

    محمد ہارون ولد محمد احمد قاسم مرحوم

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    الجواب بعون الملک الوھاب

    باپ باپ ہی ہوتا ہے خبر گیری کرے یا نہ کرے۔نکاح فارم یا جہاں بھی ولدیت لکھنے کی ضرورت ہو لڑکی کے والد کا نام لکھا جائے۔نانا وغیرہ کا نہیں۔یہ قرآن وسنت کا فیصلہ ہے۔اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے ”ادعوھم لابائھم“ اور احادیث طیبہ میں نسب کے بدلنے پر وعیدیں آئی ہیں۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    جامعہ انوار مصطفی سکھر

    یکم شعبان المعظم 1417ھ

    مطابق12.12.96

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • استقبل ربيع الأول
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری