Question & Answer

  • طلاق المکرہ

    الاستفتاء

    بخدمت جناب مفتی محمد حسین صاحب

    السلام علیکم

    گزارش ہے کہ میرے بھائی وحید احمد خان ولد حسن محمد خان کو کالج جاتے ہوئے چا رآدمیوں نے اغواء کر لیااور اسے ایسے مقام پہ لے گئے جہان ان کے علاوہ کوئی اور آدمی نہیں تھا۔انہوں نے میرے بھائی کو خوب زدوکوب کیا اور ریوالور تان کر کہا بیوی کو طلاق لکھو ورنہ تمہیں قتل کردیں گے۔پھر وحید احمد دے تین طلا قیں لکھوائیں۔طلاق نامہ میں وجہ نا فرمانی لکھوائی اور اس تحریر کو ایسے پڑھوایا کہ بذریعہ قلم الفاظ ادا نہ کرائے اور کیسٹ یکارڈ کی۔وحید احمد کو بیوی سے کوئی شکایت نہیں تھی جو انہوں نے تحریر کرائی۔خاوند بیوی سے خوش ہے اور بیوی خاوند سے خوش ہے۔وحید احمد ایسا نہ کرتا تو جان سے جاتا۔طلا ق نامہ کا عکس ارسال کر رہا ہوں طلاق نامہ میں جو گواہ ہیں وہ بھی تشدد کرنے والے ہیں۔اس مسئلہ کا تفصیلی جواب عنایت عطا فرمائیں۔

    المستفتی

    فضل احمد خان مدینہ منورہ

    واپسی پتہ فضل احمد خان ص ب 3389

    المدینۃ المنورہ سعودی عرب

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    الجواب بعون الملک الوھاب

    فقہاء احناف نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص پہ طلاق نامہ لکھنے پر جبر کیا گیا تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ہاں زبانی طلاق دینے پر جبر کیا گیا تو طلاق واقع ہو جاتی ہے۔سوال میں دو باتیں درج ہیں ایک یہ کہ جبرا طلاق نامہ لکھوایا دوسری یہ کہ جبرا پڑھوایا گیا۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ جبرا طلاق نامہ لکھوانے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔لہذا محض طلاق نامہ لکھنے سے طلاق واقع نہیں ہو تی۔تاہم دوسری بات قابل غور ہے کہ جبرا طلاق نامہ پڑھوانے سے طلاق ہوئی یا نہیں۔

    مسئلہ یہ ہے کہ طلاق تب ہوتی کہ انشاء طلاق ہو محض حکایت کے طور پر طلاق کا تلفظ ادا کرنے سے طلاق نہیں ہوتی۔طلاق نامہ کی تحریر پڑھنا حکایت وانشاء دونوں کا محتمل ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح کتب فقہ میں طلبہ اور مدرسین ”امرأتی طالق“ وغیرہ کلمات کو پڑھتے پڑھاتے ہیں مگر کبھی کسی نے نہیں کہا کہ ان کی بیویاں مطلقہ ہو گئی ہیں کیونکہ یہ پڑھنا پڑھا از قبیل حکایت ہے۔لہذا صورت مسؤلہ میں اگر وحید احمد خان نے طلاق نامہ اگر اپنی بیوی کو طلاق دینے کی نیت سے پڑھا ہے تو انشاء طلاق کی بناء پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور بیوی حرام ہو گئی اور اگر جبر واکراہ کی بناء پر طلاق نامہ کو بلا نیت تطلیق محض حکایۃ پڑھا جس کا محکی عنہ جبر واکراہ کی بناء پر شرعا باطل ہے تو وحید احمد پر اس کی بیوی حرام نہیں ہوئی۔ اس پر وحید احمد سے قسم لینا ضروری ہے۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفر لہ

    جامعہ غوثیہ رضویہ باغ حیات علی شاہ سکھر (پاکستان) 15ذو القعدہ 1418

    مطابق15.3.98۔

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری