Question & Answer

  • بیٹی کو جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا

    الاستفتاء

    کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ 

    مرحوم میر محمد کی منقولہ وغیر منقولہ جائیداد میں گھر کی جگہ۔اوطاق کیساتھ گودام اورپلاٹ۔باہر گوٹھ میں پلاٹ۔شہر میں تین دکانیں۔ذاتی بینک اکاؤنٹ میں رقم ۔دو کاریں ایک موٹر سائیکل۔دو ٹریکٹر۔دو عدد تھریشر اور ٹریکٹرز کا سامان۔سکھرمیں جگہ۔قمبر تعلقہ میں ڈھائی جریب زمین متفق علیہ ہے۔ مرحوم میر محمد کی بیوی اس کے سامنے ہی انتقال کر گئی تھی۔مرحوم میر محمد کی اولاد میں تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔مرحوم میر محمد کے ایک بیٹے کا انتقال اس کے سامنے اور ایک ایک بیٹے کا انتقال اس کے بعد ہوا۔دونوں کے اولاد نہیں تھی۔دونوں کی بیوائیں موجود ہیں۔

    موجود ورثاء میں صرف ایک بیٹا عبد النبی اور ایک بیٹی نذیر خاتون ہے۔ پھر عبد النبی کے پانچ بیٹے ہیں غلام مجتبی۔ظفرعلی ۔غلام مرتضی۔سہیل احمد۔نور النبی۔ اور تین بیٹیاں افروز ۔شمشاد۔شہناز۔خورشید۔عائشہ ہیں۔ جھگڑا مندرجہ ذیل جائیداد میں ہے۔ ایک زرعی زمین ۳۱۳ ایکڑ جو مرحوم نے اپنے پوتوں کے نام کردی تھی جس میں یہ طاہر کیا گیا ہے کہ بیٹی نذیر کاتون نے بھی اپنے حصے کی زمین اپنے بھتیجوں کو بیچ کر رقم لے لی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔اور سب سے بڑے پوتے کی سا وقت عمر تقریبا گیارہ سال تھی۔

    اس کے علاوہ ایک بینک اکاؤنٹ بڑے پوتے غلام مجتبی کے نام ہے۔ ایک بینک اکاؤنٹ جوائنٹ ہے جو مرحوم میرمحمد اور اس کے بیٹے کے نام ہے۔ شریعت مطہرہ کی روشنی میں فیصلہ صادر فرما کر مشکور فرمائیں۔ الجواب بعون الملک الوھاب

    صورت مسئولہ میں بر تقدیر صدق سائل بعد ازامور متقدمہ علی الارث مرحوم میر محمد کا ترکہ ۱۰ حصوں میں تقسیم ہو گا۔جن میں سے عبد النبی کو ۶حصے ملیں گے نذیراں بی بی کو ۳ حصے اور اقبال خاتون کو ایک حصہ ملے گا۔جو بیٹا میرمحمد کی حیات میں فوت ہوا اسے اور اس کی بیوہ کو میر محمدکی ملکیت سے کچھ نہیں ملے گا۔میر محمد نے جو اکاؤنٹ اپنے پوتے غلام مجتبی کے نام کھلوایا چونکہ بقول سائل غلام مجتبی اس وقت نابالغ تھا اس لئے اکاؤنٹ میں جمع کردہ رقم کا مالک غلام مجتبی ہے۔یہ رقم میر محمد کے ترکہ میں شامل نہ ہو گی۔

    رہا جوائنٹ اکاؤنٹ کا مسئلہ تو اگر اکاؤنٹ میں جمع رقم صرف میر محمد کی تھی تو وہ ترکہ میں شامل ہو کر وارثوں میں تقسیم ہو گی۔عبدالنبی کل رقم کا مالک نہیں ہے۔اور ۳۱۳ ایکڑ اراضی صرف یہ کہہ دینے سے کہ نذیراں سے ہم نے حصہ خرید لیا ہے جبکہ نذیراں اس کا انکار کر رہی ہے۔نذیراں بی بی کو اراضی سے محروم نہیں کیاجا سکتا۔جب اس پر شرعی گواہ موجود نہ ہو۔بہر حال میر محمد کی تمام ملکیت بشمول ۳۱۳ ایکڑ اراضی دس حصوں میں تقسیم ہو گی جسمیں عبدالنبی نذیراں بی بی اور اقبال کاتون حصہ دار ہیں۔حصوں کی تفصیل اوپر آچکی ہے۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفر لہ

    جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر ۲۴۔۴ ۔۲۰۰۸

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری