Question & Answer

  • بغیر گواہوں کے نکاح منعقد نہیں ہوتا

    الاســــــــــــتفتاء

    جناب مفتی صاحب

    السلام علیکم! خیریت موجود خیریت مطلوب

    جواب طلب سوال یہ ہے کہ کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم دونوں(لڑکا لڑکی)کار میں تھے۔میںنے اس کا نام لیا اور کہا کہ میںاپنی موٹرسائیکل جس کی قیمت26 ہزار روپے ہے تجھے حق مہرمیں دیتا ہوں،کیا تجھے میں قبول ہوں۔اس نے چوتھی بار ''ہاں''کہا،پھر تین بار پوچھا تو اس نے ہاں کہا۔پھر تجدید نکاح کیامیں نے کلمہ پڑھا کہ اللہ اور اس کے رسول کو گواہ بنا کرمیں تجھ سے اتنے حق مہر میں نکاح کرنا چاہتا ہوں،کیا میں تجھے قبول ہوں،اس نے بھی اللہ تعالی کو حاضر ناظر جان کر کہا''ہاں قبول ہے''لیکن کوئی گواہ نہیں ہے۔ اب بعد میں لڑکی کو کسی وکیل نے کہا کہ اس طرح نکاح نہیں ہوتا۔بس لڑکا تمہارے قریب آنا چاہتا ہے۔ المستفتی

    محمد عدنان

    الجوابــــــــــــــــــــ بعون الملک الوھابـــــــــــــــــــــــ

    یہ نکاح فاسد ہے ہر گز منعقد نہیں ہوا کیونکہ نکاح کیلئے شرط یہ ہے کہ دو مسلمان مر د یا ایک مرد اور دو عورتیں نکاح کے وقت موجود ہوں اور ایجاب وقبول سن رہے ہوں۔چونکہ اس نکاح میں کوئی گواہ موجود نہیں ہے لہذا یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہو گا۔

    ہدایہ میں ہے

    قَالَ ( وَلَا یَنْعَقِدُ نِکَاحُ الْمُسْلِمِینَ إلَّا بِحُضُورِ شَاہِدَیْنِ حُرَّیْنِ عَاقِلَیْنِ بَالِغَیْنِ مُسْلِمَیْنِ رَجُلَیْنِ أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَیْنِ عُدُولًا کَانُوا أَوْ غَیْرَ عُدُولٍ أَوْ مَحْدُودِینَ فِی الْقَذْفِ ) اعْلَمْ أَنَّ الشَّہَادَۃَ شَرْطٌ فِی بَابِ النِّکَاحِ لِقَوْلِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ( لَا نِکَاحَ إلَّا بِشُہُودٍ ) ترجمہ:مسلمانوں کا نکاح دو آزاد عاقل بالغ مسلمان مرد گواہ یا ایک مرد اور دو عورتوں کے موجود ہونے کیساتھ ہی منعقد ہوتا ہے ،عام ازیںوہ عادل ہوں یا غیر عادل یا حد قذف لگائے گئے ہوں۔جان لو کہ شہادت نکاح کے باب میں، آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے فرمان''گواہوں کے بغیر کوئی نکاح نہیں'' کی وجہ سے شرط ہے۔

    (ہدایہ ج٢ ص٣٢٦۔مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ )

    بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے 

     وَلَنَا ) مَا رُوِیَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ ( لَا نِکَاحَ إلَّا بِشُہُودٍ ) وَرُوِیَ ( لَا نِکَاحَ إلَّا بِشَاہِدَیْنِ ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ َنَّہُ قَالَ : ( الزَّانِیَۃُ الَّتِی تُنْکِحُ نَفْسَہَا بِغَیْرِ بَیِّنَۃٍ ) وَلَوْ لَمْ تَکُنْ الشَّہَادَۃُ شَرْطًا لَمْ تَکُنْ زَانِیَۃً بِدُونِہَا ، وَلِأَنَّ الْحَاجَۃَ مَسَّتْ إلَی دَفْعِ تُہْمَۃِ الزِّنَا عَنْہَا وَلَا تَنْدَفِعُ إلَّا بِالشُّہُودِ

    ترجمہ:(نکاح کیلئے شہود کے شرط ہونے کے بارے میں )ہماری دلیل آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا فرمان ''نکاح گواہوں کے ساتھ ہی ہے'' اور ایک حدیث میں ہے''نکاح دوگواہوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے''ہے۔اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے ،آپ ،رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:زانیہ وہ ہے جو اپنا نکاح خود بغیر گواہوں کے کرے،اگر شہادت شرط نہ ہوتی تو بغیرشہادت کے یہ زانیہ نہ کہلاتی۔ اور اس عورت سے زنا کی تہمت دور کرنے کی حاجت لاحق ہوئی اور یہ تہمت گواہوں کے ساتھ ہی دور ہوسکتی ہے۔

    بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع جزء ٥ ص٣٩١

    الحاصل! بغیر گواہوں کے اللہ تعالی اور رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو گواہ بنا کر ایجاب وقبول کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ لہذایہ نکاح منعقد ہی ہوا۔

    ہذا ما عند ی والعلم عند اللہ تعالی

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    محمد شہزاد خان

    جامعہ ربانیہ غوثیہ ماڈل کالونی اصحابی ٹاؤن

    ملیر کراچی ٨ مئی ٢٠١٦ء

    مطابق٣٠ رجب المرجب ١٤٣٧ھ

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری