Question & Answer

  • عصبہ کی تعریف اور اقسام

    الاستفتاء

    کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

    ایک شخص فوت ہو گیا اس کے ورثاء یہ ہیں ایک بیوی تین بیٹیاں اور ان کےدادا کے بھائی کا پوتا۔تبائیے کہ ان ورثاء میں یہ ملکیت کیسے تقسیم ہو گی۔کیا دادا کے بھائی کا پوتا وارث ہو گا یا نہیں؟

    السائل محمد نواز گوندل ایڈوکیٹ

     نوشہرو فیروز

    الجواب بعون الملک الوھاب

    صورت مسئولہ میں بر تقدیر صدق سائل بعد از امور متقدمہ علی الارث مرحوم کی کل جائیداد ان کے شرعی وارثوں میں اس طرح تقسیم ہو گی۔ کہ کل ترکہ کے ۷۲ حصے ہوں گے۔بیوی کو ۹حصے اور ہر بیٹی کو ۱۶۔۱۶ حصے ملیں گے اور دادا کے بھائی کا پوتے کو ۱۵ حصے ملیں گے۔ دادا کے بھائی کے پوتے کو اس لئے وراثت ملے گی کہ یہ شخص علم میراث کی اصطلاح میں عصبہ کہلاتاہے۔اور عصبہ کی تعریف یہ ہے کہ جو ذوی الفروض کے بعد بچا ہوا ترکہ لے لے۔

    اس کی تفصیل یہ ہے کہ شریعت مطہرہ میں وراثت کے مستحق تین لوگ ہیں(۱)ذوی الفروض(۲) ذوی الارحام(۳)عصبات۔ ذوی الفروض وہ لوگ ہیں جن کا حصہ کتاب اللہ میں مقرر ومعین ہو چکا ہے۔اور ذوی الارحام وہ رشتہ دارہیں جو نہ ذوی الفروض ہوں نہ عصبہ اور ان کے نہ ہونے کی صورت میں وہ بنیں۔ اور عصبات کی تعریف آچکی ہے۔پھر عصبات دو قسم ہیں عصبہ نسبی عصبہ سببی۔آج کل عصبہ سببی کا فقدان ہے لہذا اس کی تعریف کی ضرورت نہیں۔

    اور عصبہ نسبی کی تین قسمیں ہیں۔عصبہ بنفسہ۔عصبہ بغیرہ۔عصبہ مر غیرہ۔ یہاں ہمار مقصود عصبہ بنفسہ کی بحث ہے اور عصبہ بنفسہ اس مرد کو کہتے ہیں جو ذوی الفروض کے ترکہ لینے کے بعدبچا ہوا لے۔چنانچہ بیٹا بھی عصبہ بنفسہ ہے۔چچا،بھتیجا،ان کی اولادیں سب عصبہ بنفسہ ہیں۔اور ذوی الارحام وہ رشتہ دار ہیں جن کی باری عصبات کے بعد آتی ہے۔ پھر عصبات میں ترتیب ہے جو یہ ہے(۱)میت کی جزء جیسے بیٹا پھر پوتا(۲)اصلِ میت جیسے باپ پھر دادا(۳)اصل قریب کی جزء بھائی پھر بھیتیجا۔(۴)اصل بعید کی جزء جیسے چچا پھر اس کی مذکر اولاد۔ دادا کے بھائی کا پوتا عصبہ بنفسہ کی چوتھی قسم ہے یعنی اصل بعید کی جزء ہے کیونکہ یہ میت کے پردادا کی جزء ہے(پوتاہے)۔اگر عصبہ بنفسہ کی پہلی تین قسموں میں سے کوئی عصبہ ہوتاتو یہ محروم تھا۔مگر چونکہ اس سے بڑھ کر میت کے کوئی قریب عصبہ نہیں تھا اس لئے باقی جائیداد اس کو ملے گی۔

    رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا

    المال بین اہل الفرائض علی کتاب اللہ فما ترکت الفرائض فلاولیٰ ذکر

    (سنن ابی داؤد ج۱ص۴۰۱)

    ترجمہ مال سب سے پہلے کتاب اللہ میں موجود ذوی الفرائض کا ہے پھر ذوی الفرائض سے جو بچ جائے وہ قریبی مرد کا ہے۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی

    جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر ۲۴ اگست ۲۰۰۷

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری