Question & Answer

  • والد کی زندگی میں زمین اپنے نام کرا نا

    الاستفتاء

    کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ

    میرے والد مرحوم محمد ابراہیم ولد اللہ بخش سکنہ ٹپائی گلی خیر پورکا۱۹۹۴ میں انتقال ہوا والد صاحب نے اپنی جائیداد میں درج ذیل اشیاء چھوڑی۔ نمبر۱۔ 120گز کے رقبے پر تعمیر شدہ ۳ مکان نمبر ۲۔۲ ایکڑ زرعی اراضی نمبر ۳۔ایک ریوالور نمبر ۴۔ایک بندوق نمبر ۵۔گھریلو سامان(فریج ،ٹی وی،چار پائی وغیرہ) نمبر ۶۔زیورات جن کی صحیح مقدار معلوم نہیں والد صاحب نے اپنے ورثاء میں ایک بیوہ سمات بچل خاتون ،تین بیٹے عبد الرشید،الطاف حسین ،اختر حسین اور بیٹیاں ۲مسمات شہر بانومسمات سنجان خاتون چھوڑے ۔

    مرحوم نے اپنی زندگی میں دو شادیاں کی تھیں پہلی بیوی سے عبدالرشید الطاف حسین شہر بانو ہیں دوسری بیوی سے جو ابھی حیات ہیں اختر حسین سنجان خاتون ہیں نوٹ۔زرعی اراضی کو چھوڑ کر تمام ملکیت پر اختر حسین اور مرحوم کی دوسری بیوہ کے قبضہ میں ہے۔ زرعی اراضی جو دو ایکڑ ہیں والد صاحب کی زندگی سے ہمارے قبضے میں ہیں والد صاحب کی حیات میں اختر حسین اور انکی والدہ نے اس میں سے ڈیڑھ جریب اراضی زمین اپنے نام کرادی جس کا علم ہمیں اب ہوا ہے ۔لیکن یہ مکمل اراضی جب سے اب تک ہمارے قبضہ میں ہیں ۔

    سوال یہ ہے کہ سوال نمبر ۱۔زرعی اراضی جو دوایکڑ ہیں اس میں کون حصہ دار ہیں۔ سوال نمبر ۲۔ڈیڈھ جریب اراضی جو اختر کی والدہ کے نام رجسٹر ہے وہ کس کی ملکیت ہے آیا اس میں وراثت جا ری ہو گی یا نہیں۔ سوال نمبر۳ ۔باقی اشیا ءمتروکہ میں شرعی وارث کون ہو گا۔

    السائل عبدالرشید ولد محمد ابراہیم

    سکنہ خیر شاہ محلہ

    گنمبٹ

    الجواب بعون الملک الوہاب

    سائل نے بتایا ہے کہ دو ایکڑ میں سے ڈیڑھ جریب زمین جو اختر حسین اور ان کی والدہ نے اپنے نام محمد ابراہیم مرحوم کی زندگی میں کرالی تھی۔اگر یہ لوگ شرعی شہادتوں سے اس ٹکڑے کی محمد ابراہیم مرحوم سے خرید ثابت کریں تو یہ ڈیڑھ جریب ان کی ملکیت ہے وہ ترکہ میں شامل نہ ہوگا۔اور اگر خریداری ثابت نہ کر سکے یا گفٹ کے مدعی ہوں تو ان کا دعوی باطل ہو گا اور مکمل اراضی یعنی دوایکڑ سب وارثوں میں تقسیم ہوگی ۔

    الحاصل زرعی اراضی جس کی تفصیل آ چکی وہ اور دوسری اشیا ءجن کا سائل نے سوال میں ذکر کیا ہےتمام وارثوں میں اس طرح تقسیم ہو گا ۔بیوہ کو کل ترکہ کے ۶۴ حصوں پر منقسم ہو گا۔ بیوہ کو ۸ اور ہر بیٹے کو ۱۴۔۱۴ حصے ملیں گے اور ہر بیٹی کو ۷۔۷ حصے ملیں گے۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفر لہ

    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر ۷صفر المظفر ۱۴۲۲ھ

    مطابق ۲۔۵۔۲۰۰۱

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری