Question & Answer

  • ورثاء کے اجازت کے بغیرترکہ سے خرچ کرنا

    محتر م جناب مفتی صاحب

    السلام علیکم

    مسئلہ 1:ہم سات بہن بھائی ہیں جن میں چار بہنیں اور تین بھائی ہیں شرعاً جائیداد کی تقسیم کس طرح کی جائے شرعاً تفصیل سے بمع کوئی مثال تحریر فرمائیں

    مسئلہ 2: والد صاحب کی حیات زندگی میں انہوں نے اپنے دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کی شادی کی اور بعد از وصا ل بڑے بھائی جو والد صاحب کے گدی نشین بنے ۔

    انہوں نے پہلے بڑی بہن کی شادی اور بعد عرصہ مزید ایک بہن اور ایک بھائی یعنی میر ی خو د کی شادی کی اس میں انہوں نے میری زوجہ کو تین تولے سونا اور (ولیمہ یا برات)پر مندرجہ بالا دعوت پر خرچہ کیا۔ جناب میں نے وقتاً فوقتاً50000روپے خرچ کیئے جو کہ شادی میں ہی خرچ ہوئے اور اب بھائی کہتاہے کہ میں نے تمہاری شادی کی اور اس میں رقم خرچ کی لہذا تمہارااب جائیداد میں کوئی حصہ نہیں بچتا ،میں نے تمہارے علاوہ دو بہنوں کی شادیاں کی اور مسلسل 12سال سے 24عرس اور (سال10) ہرسال عید الاضحی پر قربانی دیتا آرہاہوں یہ تمام اخراجات والد صاحب کی جائیداد سے کر رہا ہوں۔

    سوال یہ ہے کہ کی جائیدادکے باقی فریقین کی رضامندی لیے بغیر سپردِ جائیداد والا شخص جائیداد میں سے یہ اخراجات کرسکتاہے یا نہیں جبکہ میں اور میرا بھائی جو اس کے ساتھ ہے والد صاحب کے وصال کے وقت ایک شرعاً اور قانوناًبالغ اور ہوش مند عمر میں تھے۔ میر ی عمر 24یا 25اور بھائی کی 19یا20سال تھی۔ شرعاًتفصیل تحریر کریں کہ بغیر بتائے یا رضامندی لیے بغیر یہ شخص جائیداد سے اخراجات کر سکتاہے یا نہیں؟  

    سوال(1) وہ اخرجات کرتا آرہا ہے اور کہتا ہے کہ تمہارا شادی والوں کا کوئی حصہ نہیں ۔

    سوال(2) عرس مبارک سال میں دو روز ہوتا ہے اور اس کے لنگر اور کچھ حصہ مریدین کرتے ہیں جبکہ بھائی ڈیکوریشن وغیرہ پر خرچ کرتے ہیں ۔

    المستفتی

    محمد شفیق لودھی

    کوارٹر نمبر 13جنرل پوسٹ آفس سکھر

    الجواب بعون الملک الوھاب

    آ پ کے بڑے بھائی نے جن بھائیوں اور بہنوں کی شادی کے اخراجات برداشت کیئے ہیں دیکھاجائے گا کہ انہو ں نے ان اخراجات سے پہلے یہ وضاحت کی ہے کہ سارے خرچے آپ کے حصہ وارثت سے مہیا کیئے جائیں گے یا ایسا نہیں کیا ۔ اگر وضاحت کرنے اور اجازت ملنے کے بعد اخراجات کیئے اور ان اخراجات کا حساب لگایا کہ اتنے روپے خرچ ہوئے ہیں تو ضرور حصہ وراثت سے یہ اخراجات کاٹے جائیںگے اگر اخراجا ت اور حصہ وراثت کی قیمت برابر ہے تو وراثت سے حصہ ختم ہو گیا ۔اور اگر اخراجات پورے کرنے کے بعد حصہ باقی رہتا ہے تو جس قدر باقی رہے و ہ وارث کو ملے گا ۔اور اگر اخراجات اٹھانے سے پہلے متعلقہ بھائیوں اوربہنوں سے نہیں پو چھا گیا تو بڑا بھائی کچھ نہیں وضع کر سکتا بلکہ ہر بھائی اور بہن کو اس کا مکمل حصہ ملے گا ۔

    رہا معاملہ عرس اور قربانی کا اگر سب وارثوں سے اجازت لی گئی اور سب نے اجازت دی تو عرس و قربانی کے اخراجات سب پر ڈ الے جائیں گے اور اگر اجازت نہیں لی گئی بلکہ بڑا بھائی بغیر پو چھے اپنی مرضی سے عرس کے خرچے کر تا رہا اور اپنی مرضی سے قربانی کا جانور خریدتا رہا اگرچہ دوسرے بھائی بہن یہ سب دیکھ کر خاموشی اختیار کرتے رہے تو اس صورت میں ان اخراجات کاذمہ دار صرف بڑا بھائی ہے ان اخرجات کو دوسرے وارثوں کے حصوں پر نہیں ڈالا جا سکتا ۔ آپ کے والد مرحوم کی جائیداد ہر بھائی کو بیس پیسے اورہر بہن کو دس پیسے کے حساب سے ملے گی ۔

    واللہ  تعالی اعلم بالصواب

     مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم دار الافتاء جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 10/02/09

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری