Question & Answer

  • زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا

    الاستفتاء

    کیا فرماتے ھیں علماٗ دین متین و مفتیانِ شرع مبین اندریں مسئلہ کہ

    مسمی عبدالغفورولدرحیم خان اپنے پیچھے تین بیٹے حبیب خان رحیم خان محمودخان اور دوبیٹیاں مسماۃ عجب خاتون مسماۃ حاکم زادی اور ایک اہلیہ مسماۃ حوربی بی چھوڑے۔ مرحوم عبدالغفور نے اپنی زندگی میں ان تینوں بیٹوں کو اپنی جائیداد تقسیم کرکے وصیت نامہ تحریرکیا تھا جوکہ۵۔۵ روپے والے دواسٹاموں پر تحریرکرواکے تحصیلدار صاحب سے تصدیق بھی کروایا گیا تھا۔ بعدازاں مسمی عبدالغفور کی حیات میں ان کا بڑا بیٹا حبیب خان دسمبر۱۹۹۳؁ میں فوت ہوا جس نے اپنے پیچھے چاربیٹے چھوڑے ہیں۔

    مسمی عبدالغفور اپریل ۱۹۹۵ء میں فوت ہوا اور اسکے بعد میں گندم جوار کے فصلات بموجب وصیت نامہ کے بڑے لڑکے حبیب خان کے چاروں بیٹوں نے اپنا حصہ زمین کا اپنے قبضہ میں کرکے کاشت کرکے فصلیں کھاتے رہے ۔ اب تک یعنی ۱۹۹۷ میں مرحوم عبد الغفور کے بڑے بیٹے مرحوم حبیب خان کے چاروں لڑکے اپنے والد کے حصے پر قابض ہیں اور کاشت وغیرہ کر رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب وصیت نامہ پر عمل درآمد ہو کر ترکہ دونوں بیٹوں اور تیسرے بیٹے کی اولاد نے اپنے قبضے میں بھی لے لئے تو کیا اب مسمی عبدالغفور کے دونوں بیٹے رحیم خان ،محمود خان اپنے بھائی کے بیٹوں کو ان کے حصے سے جواب دے سکتے ہیں؟کیا یہ وصیت نامہ شریعت میں قابل عمل ہے یا نہیں؟

    المستفتی

    ماسٹر ابراہیم خان

    گورنمنٹ ہائی سکول دھیال خورد

    سبی بلوچستان

    الجواب بعون الملک الوھاب

    اگر عبد الغفور نے جائیداد تین حصے کر کے ہر بیٹے کو بخشش کر کے قبضہ دلایا تو ہر ایک لڑکا اپنے اپنے حصے کا مالک ہو گیا۔ لہذا حبیب خان کی اولادکوجائز نہیں کہ وہ محمود خان اور حکیم خان کے حصوں میں اپنا استحقاق بتائیں۔ بلکہ الٹا حبیب خان مترکہ جائیداد میں حکیم خان اور محمود خان اپنا حق رکھتے ہیں کیونکہ حبیب خان کا انتقال عبد الغفور کی حیات میں ہوا لہذا حبیب خان کی وراث صرف اس کی اولاد ہی نہیں بلکہ عبد الغفوربھی ہے اور اگر حبیب خان کے انتقال کے وقت اس کی والدہ بھی زندہ تھی تو وہ بھی وارث ہو گی۔ اس طرح صرف عبدالغفور یا اس کے ساتھ حبیب خان کی والدہ کے وارث ہونے کی وجہ سے حبیب کے ترکہ میں حصہ دار ہوں گے اور ان کے واسطہ سے حکیم خان اور محمود خان بھی ترکہ میں حصہ دار ہوں گے۔اگر حبیب خان کے وصال کے وقت اس کے حقیقی ورثہ کی تفصیل معلوم ہوتی تو حبیب خان کی متروکہ جائیداد میں حکیم خان اور محمود خان کے حصے بھی لکھ دیئے جاتے ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر ۲۸ سوال۱۴۱۷ ھ

    مطابق ۹۔۳۔۱۹۹۷

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری