Question & Answer

  • والد سے حصہ کا مطالبہ

    الاستفتاء

    مفتی صاحب السلام علیکم

    گزارش یہ ہے کہ میرے والد صاحب نے میری پیدائش کے بعد میری والدہ صاحبہ کو طلاق دی تھی۔میرے تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ طلاق کے وقت میرے والد صاحب دو بھا ئیوں کواپنے ساتھ لے گئے تھے۔مجھے اور میرے ایک بہن کو والدہ صاحبہ کو کے پاس چھوڑ گئے تھے۔ ان دنوں میں اپنے بد حال معاشی حالات کو لے کر بہت پریشان ہوں یاد رہے کہ میں شادی شدہ ہوں اور میرے تین بچے بھی ہیں اور مقروض بھی ہوں۔ مفتی صاحب۔ میری والدہ کے انتقال کو بھی پانچ سال ہوگئے ہیں۔میرے والد نے دوسری شادی بھی کر لی ہے اور ان سے بھی اولاد ہے۔میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آیا میں اپنے والد صاحب سے اپنے لئے وراثت یا حصہ کا مطالبہ کر سکتا ہوں یا نہیں؟

    دعاء و ں کاطالب

    محمد عابد میمن بن عبدالرشید سوریہ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    الجواب بعون الملک الوھاب

    آپ کے والد صاحب بقید حیات ہیں جب تک وہ زندہ ہیں وہ اپنی جائیداد کے خود مالک ہیں۔ وہ چاہیں تو آپ کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے آپ کو کچھ دے دیں اور چاہیں تو انکار کردیں۔ہاں انکی وفات کے بعد آپ ان کے وارث متصور ہونگے اور اپنا حصہ وصول کرنے کے حقدار ہونگے۔انکی زندگی میں ان کی جائیداد میں کسی عزیز کا کو ئی حصہ نہیں ہے ہاں آپکی والدہ مرحومہ نے اگر ترکہ چھوڑا ہے تو آپ ان کے وارث ہونے کے ناطے اپنا حصہ وصول کرسکتے ہیں۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری غفر لہ

    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 2004/03/09

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری