Question & Answer

  • تین بیٹیاں اور چچا زاد کی اولاد میں ترکہ کی تقسیم

    الاستفتاء 

    کیا فرماتے ہیں علماء دین متین اس مسئلے میں کہ

    ایک شخص بنام مہر انتقال کرگیا جس نے ورثاء میں ایک بیوی چھوڑی جس سے تین بیٹیاں بالترتیب جتن ،بیگم، اور رحمت ہیں جبکہ اسکی چار بیویاں اسکی زندگی میں ہی بے اولاد مرگئیں اور ایک چچا زاد بھائی بنام صفر(جومہر کے بعد مرگیا )چھوڑے ۔ صفرنے ایک بیٹا بنام چھٹل اور تین یا چار بیٹیاں (زندہ یا مردہ معلوم نہیں )چھوڑیں ۔چھٹل بھی اب انتقال کرگیا ہے ۔جس نے چھ بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑیں ہیں ۔واضح رہے کہ مہر کی ملکیت پہ صفرنے قبضہ کررکھا تھا اسکے بعد اس کے بیٹے چھٹل نے قبضہ قائم رکھا۔ اب چھٹل کا بھی انتقال ہوگیا ہے ملکیت اب اسکی اولاد کے قبضہ میں ہے۔ برائے مہر بانی شریعت مطہر کے مطابق بتائیں کہ مہر کی ملکیت اسکے وارثوں میں کیسے تقسیم کی جائے گئی ۔

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    الجواب بعون الملک الوھاب

    صورت مسؤلہ میں مہر کی ہر بیٹی کو 26/38پیسے ملیں گے اور صفر کی زندہ اولاد در اولاد کو 20/38پیسے تقسیم کر دئےے جائیں گے۔ اگر صفر کی اولاد کی تفصیل بتا دی جاتی تو صفر کا حصہ بھی تقسیم کر دیا جاتا ۔بہر حال مہر کی ملکیت میں ان تےنوں بہنوں کا تقریباً ٨٠پیسے حق بنتا ہے۔ جن لوگوں نے مہر کی جائیداد پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے وہ اللہ تعالی سے ڈریں اور حق والے کو اس کا حق ادا کریں ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری غفرلہ

    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر ٢٥ صفر المظفر ١٤٢٠؁ھ

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری