Question & Answer

  • والد کیساتھ مکان میں شراکت

     الاستفتاء

    محترم جناب مفتی ابراہیم صاحب

    میرانام یحییٰ ہے آج سے 12سال پہلے میں نے اور میرے والدصاحب نے ایک پلاٹ خریداجس میں میں نے 50ہزار اور میر ے والد صاحب نے 70ہزار دے کر ایک لاکھ بیس ہزار کا خریدا اس وقت ہو سب ساتھ رہتے تھے ہم سات بھائی اور دو بہنیں ہیں جس میں ہم تین بھائی اور ایک بہن شادی شدہ تھے تین بھائی چھوٹے ہیں ابھی پڑھ رہے تھے اولد صاحب کے ساتھ پاٹنر کی حیثیت سے کام کرتاتھا اور میں اپنے کام کا خود مختار تھا ۔ پلاٹ کی خریداری کے وقت والد صاحب نے مجھ سے کہا تھا کہ رجسٹری میں ہم دونوں کے نام لکھوالوں گا مگر ہم کو جب بینک سے لون لینے کی ضرورت تھی تو بینک والوں نے کہا کہ رجسڑی میں جتنے زیادہ نام ہونگے اتنی بینک سے زیادہ لون ملے گی اس وجہ سے ہم نے تین بھائی اور والدہ صاحبہ کا نام جنکا پلاٹ کی خریداری میں کوئی حصہ نہیں تھا بعد میں بینک انٹرسٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے لون نہ لیا گیا ۔

    اور میں نے اور میر ے والد صاحب مکان تعمیر ہونے تک تقریباً آدھاآدھا پیسہ ڈالا اب جب کہ سب بھائیوں نے والد صاحب کے ساتھ رہتے ہوئے اپنی اپنی جائیداد یں اور پیسہ بنایا اور اپنے پاس رکھاہے تو میں نے اپنی جائیداد یعنی میرااور والد صاحب کامشترکہ مکا ن اس میں سے اپنا آدھا حصہ مانگا ہو تووالد صاحب اور سب بھائیوں کیا یہ ماننا ہے کہ مکان کی رجسٹری میں سب کے نام ہونے کی وجہ سے یہ سب کا ہے جبکہ وہ اور والدہ صاحبہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس مکان میں میرا آدھا پیسہ ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہم دیں گے نہیں کیو نکہ رجسٹری میں سب کا نام ہے اور یہ برابرتقسیم ہو گا تو مجھے آپ سے قرآن و سنت کی روشنی میںیہ فتویٰ لیناہے کہ ان لوگوں کو مجھ میراحق دینا چا ہیے یا نہیں۔

    شکریہ

    فقط  والسلام

    محمد یحیٰی 

    الجواب بعون الملک الوھاب

    صورت مسؤلہ میں اگر بیان کردہ حقائق درست ہیں تو مکان کی زمین اور عمارت میں آپ اور آپکے والد دونوں شریک ہیں ۔ آپ نے جس قدر پیسہ لگایا آپ اس حساب سے اپنے والد کے ساتھ مکان میں پارٹنر ہیں ۔چونکہ آپ کے بقول آپ کا کاروبار والد سے جدا ہے اور والد نے روپے لیتے وقت کہاتھا کہ رجسٹر ی میں ہم دونوں کانام ہوگا لہٰذا یہ مکان صرف آپ دونو ں کا ہے والدہ اور دوسرے بھائی بہنوں کے نام حصولِ قرض کے لیے محض فرضی طور پر دیئے گئے ہیں لہٰذا یہ لوگ اس مکان میں حصہ دار نہیں ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری عفی عنہ

    دارالافتاء جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر ١٠شعبان ١٤٢٤ ؁ھ

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری