Question & Answer

  • پہلے شوہر کے فارغ کئے بغیر نکاح ثانی

    الاستفتاء

    میری عورت سلطانہ دختر سلیم الدین ١٩٥١ میں انڈیا سے اپنے تایا زاد بھائی کیساتھ پاکستان مع زیورات پیسہ کوڑی کے بھاگ کر آئی۔میں برابر انڈیا میں تلاش کرتا رہا لیکن مجھے نہیں ملی ۔اتفاق سے میں اب ١٩٨٧ میں بذریعہ پاسپورٹ اپنے عزیزوں سے ملنے آیا تب مجھے پتہ چلا کہ میری بیوی نے نکاح ثانی اس دوران شکار پور میں کر لیا ہے اور اس دوران اس نئے شوہر سے اولاد بھی ہوئی ۔اب میں اپنی عورت لینا چاہتا ہوں مجھے اس کا شرعی فتوی دیا جائے۔

    السائل

    نذیر الدین ولد قطب الدین

    گنگا پور سٹی

    ضلع سورتی مادھوپور

    راجھستان انڈیا

    الجواب بعون الملک الوھاب

    صورت مسؤلہ میں برتقدیر صدق سائل جب آپ نے اپنی منکوحہ سلطانہ دختر سلیم الدین کو نکاح سے آزاد نہیں کیا تو وہ بدستور آپکی بیوی ہے۔ نکاحِ ثانی باطل وناقابل اعتبار ہے نکاحِ ثانی کی بنیاد پر جومجامعت ہوئی زنا ہوئی اور اولاد ولد الزنااس پر اور اس کے نام نہاد شوہر ثانی پر فرض ہے کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔

    قال اللہ تعالی والمحصنٰت من النساء الایۃ

    یعنی تم پر شادی شدہ عورتیں حرام دی گئی ہیں۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی

    خادم دارالافتاء جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر ٢١ محرم الحرام ١٤٠٨ھ مطابق ٨٧/٩/١٥

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری