Question & Answer

  • مرض موت میں ورثاء سے بیع

    الاستفتاء 

    کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ

    ایک شخص محمد حسن کا انتقال ہو گیا ہے جس نے اپنے پیچھے دو اہلیہ اور چھ بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑی ہیں اب اُن میں سے ایک بیٹا محمد حنیف یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ میرے والد نے اپنی زندگی میں اپنی ملکیت جو کہ ایک کارخانہ اور اُوپر گھر کی جگہ مجھے فروخت کر کے دے گیا ہے اور اس قسم کی دستاویز وغیرہ ظاہر کر رہا ہے۔ (1) حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ محمد حنیف جو دستاویز دکھا رہا ہے اُس میں فروخت والد صاحب کے انتقال کے تقریباً ڈیڑھ ماہ پہلے ظاہر ہو رہی ہے جبکہ اُس کا والد محمد حسن تین ماہ سے اتنا سخت بیمار تھا کہ وہ بستر سے اُٹھ بھی نہیں سکتا تھا اور نہ کسی سے بات کر سکتا تھا۔ (2) دوسرا یہ کہ دستاویز میں خریداری کی جو رقم دکھائی گئی ہے وہ ایک لاکھ دس ہزار روپیہ ہے جبکہ اس کارخانہ اور مکان کی قیمت موجودہ دور میں تقریباً چودہ یا پندرہ لاکھ روپیہ ہے۔ (3) اور یہ کہ خود خریدار محمد حنیف نے اپنے والد محمد حسن کو رقم کی ادائیگی بھی نہیں کی جس سے ظاہر ہے کہ یہ دستاویز شکوک و شبہات سے خالی نہیں ہے۔ (4) اور نہ ہی گھر کے باقی افراد میں سے کسی کو اس خرید و فرخت کے بارے میں کوئی علم ہے تو کیا ایسی صورت میں اس دستاویزی خریداری کو صحیح سمجھا جائے گا یا کہ نہیں۔ (5) اور اُس دستاویز پر دو آدمیوں کی گواہی دکھائی گئی ہے جس میں ایک کا دستخط ہے اور ایک کا انگوٹھا لگا ہوا ہے جس کے انگوٹھے کا نشان ہے اُس سے معلوم ہوا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے محمد حسن کے بیٹے محمد حنیف نے یہ کہہ کر انگوٹھا لیا تھا کہ ہمارے والد صاحب نے اپنی ملکیت اپنی اولاد میں تقسیم کی ہے باقی خرید و فروخت کا مجھے کوئی علم ہی نہیں ہے اور دوسرے گواہ سے ابھی تک ہم نے کوئی معلومات نہیں کی ہے۔

    الجواب بعون الملک الوھاب

    صورتِ مسؤلہ میں برتقدیر صدق سائل جائیدادِ مذکور کی خرید و فروخت کا دعویٰ شرعاً باطل و ناقابل اعتبار ہے۔ اولاً

    اس لیے کہ بیع مذکور کا ثبوت شرعی گواہوں سے نہیں مدعی جن دو گواہوں کو پیش کر رہا ہے ان میں سے ایک موقع کا گواہ نہیں اور دوسرے کا حال معلوم نہیں اور اگر بالفرض دوسرا گواہ موقع کا گواہ ہو اور اس میں عدالت شرعیہ بھی پائی گئی ہو جب بھی اس ایک کی گواہی پر بیع کو ثابت نہیں مانا جائے گا کہ ایسے معاملات کے لیے دو گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

    ثانیاً

    اس لیے کہ جیسا کہ سائل مظہر ہے کہ یہ بیع اگر ہوئی ہے تو مرضِ موت میں ہوئی ہے اور کم قیمت پر ہوئی ہے ایسی بیع ہمارے امام سیدنا امام اعظم اور ان کے صاحبین کریمین کے نزدیک اجازتِ ورثہ پر موقوف ہے چونکہ میت کے دوسرے وارث اس بیع کو جائز نہیں رکھتے اس لیے یہ بیع باطل ہو گئی۔

    فتاویٰ قاضی خان میں ہے

    و من البیع الموقوف اذا باع المریض من مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جاز بیعہ و ان مات من ذالک المرض و لم یجز الورثۃ یبطل البیع۔

    ص 177 علیٰ ھامش الھندیہ۔

    جب بیع مذکور باطل و کالعدم ہوئی تو محمد حسن مرحوم کی کل جائیداد منقولہ غیر منقولہ اس تفصیل سے تقسیم کی جائے گی۔  

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمدابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم دارالافتاء جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 19 رجب المرجب 1408 ہجری 9 مارچ 1988

    الجواب صحیح

    واللہ تعالیٰ و رسولہ الاعلیٰ اعلم

    فقیر ابو الخیر محمد حسین قادری رضوی غفرلہ

     خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 12 مارچ 1988

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری