Question & Answer

  • فون پر سودا کرانا

    الاستفتاء

    کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ

    میں موٹر سائیکل کو خرید و فروخت کا کام کرتا ہوں کچھ گاہک ایسے ہوتے ہیں کہ وہ خود ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم اُن کو شو روم لے جا کر موٹر سائیکل خرید کر دیتے ہیں اور کچھ گاہک ہمیں فون کرتے ہیں کہ ہمیں موٹر سائیکل چاہیے اور فون پر سودا طے کر تے ہیں اور موٹر سائیکل گاہک کو پہنچا دیتے ہیں۔ شریعت کی رُو سے یہ کاروبار حلال ہے یا حرام تفصیل کے ساتھ جواب تحریر فرمائیں۔ شکریہ

    السائل

    یار علی مائیکرو ٹاور سکھر

    الجواب بعون الملک الوھاب

    جو گاہک خود آتے ہیں اور آپ سے سودا کرتے ہیں اور سودا میں کوئی خلافِ شرع بات طے نہیں ہوتی تو اس کے جواز میں کلام نہیں۔ لیکن محض فون پر سودا شرعاً سودا نہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فون پر سودا کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تو آپ صرف انہیں فون پر مال کی قیمت بتا دیں پھر اپنے وکیل کے ذریعہ موٹر سائیکل بھیج دیں اور خود وکیل ان سے سودا کرے لیکن اس صورت میں یہ خیال ہے کہ اگلا شخص اگر سودا کرنے سے انکار کر دے تو وہ اس کا مجاز ہو گا۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    مفتی جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 20 اکتوبر 2005ء

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری