Question & Answer

  • بیمہ

    الاستفتاء

        کیافرماتے ہیں علماء دین شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کیا بیمہ پالیسی کرانا درست ہے اور بیمہ پالیسی کی اصل حقیقت کیا ہے از راہ ِ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرماکر مشکور فرمائیں ۔۔۔۔۔۔!!!
                                            والسلام : عبدالغنی کراچی

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    الجواب

        بیمہ پالیسی عام ازیں زندگی کا متعلق ہو یا شئی آخر کے متعلق ہوناجائز ہے کہ بیمہ پالیسی جوا، سوداور دیگر مفاسد شرعیہ پر مبنی ہے
        اور سود کی قرآن وسنت میںمذمت وارد ہے :
        جیسا کہ قرآن کریم سورۃ البقرۃ #٢٧٥میں ہے:
        وأحل اللہ البیع وحرم الربا۔۔۔۔۔۔    اﷲعز اسمہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا ہے۔
         نیز مذکورہ آیۃ میں ہے: ۔۔۔۔۔۔الذین یأکلون الربا لا یقومون إلا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطان من المس ۔۔۔جولوگ سود کہاتے ہیں،وہ قیامت کے دن اُس شخص کی طرح کہڑے ہوں گے جس کو شیطان نے چہوکرمجنون بنا دیا ہو۔
         ََْ سورہ آل عمران#١٣٠میں ہے:
        یا أیہا الذین آمنوا لا تأکلوا الربا أضعافا مضاعفۃ واتقوا اللہ لعلکم تفلحون۔۔۔۔۔۔۔اے ایمان والو سود در سود کرکے نہ کہاؤ اور اﷲعز اسمہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
         نیزامام مسلم بن حجاج اپنی صحیح میں رقمطراز ہیں:
        عن جابر قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا، ومؤکلہ، وکاتبہ، وشاہدیہ ، وقال ہم سواء
        رسول اﷲ ؐنے سود کہانے والے، سود دینے والے، سودی دستاویز لکہنے والے اور سود کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے،نیز فرمایا یہ سب لوگ گناہ میں برابر ہیں۔
        (صحیح مسلم شریف، کتاب المساقاۃ ، باب لعن آکل الربا ومؤکلہ،٣:١٢١٩،الحدیث :١٥٩٨،مطبوعہ :دار احیاء التراث العربی ،بیروت)
        محمد بن عبد اﷲ الخطیب التبریزی،مشکاۃ المصابیح میں رقمطراز ہیں:     
        قال رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم :الربا سبعون جزء ا أیسرہا أن ینکح الرجل امہ۔۔۔۔جناب رسول اﷲؐنے ارشاد فرمایا کہ سود کے ستر درجے ہیں، اور ان میں سب سے ہلکا اپنی ماں کے ساتہ بدکاری کرنے کے برابر ہے۔
        (مشکوۃ المصابیح ، کتاب البیوع،باب الربوا ،الفصل الثالث٢:٨٥٩،الحدیث:٢٨٢٦،المکتب الاسلامی ،بیروت)
        بیمہ پالیسی جوا ''قمار ''یوں ہے کہ اگر پالیسی لینے والا شخص پالیسی کی تکمیل سے پہلے فوت ہوجائے تو اسکے ورثاء کو پھر بھی پوری رقم ملتی ہے حالانکہ اس نے بیمہ کمپنی کو جو رقم جمع کرائی، وہ ملنے والی رقم سے کم تھی یہ اضافہ اس کی موت پرمشروط تھااس لئے جواہے۔
        نیز واضح رہے بیمہ کی مد میں دی جانے والی رقم میں چارصورتیں متصور ہوسکتی ہیں:۔۔۔۔۔۔ ١)گفٹ،٢) شرکت ،٣) قرض ،٤)عاریۃ
        ١)گفٹ:۔۔۔۔۔۔بیمہ میں اپنی رقم کے علاوہ نفع کا حصول مقصود ہوتاہے جبکہ گفٹ میں دوبا رہ لینے کا ارادہ نہیں ہو تا،اور لینے کی صورت میں حدیث پاک میں مذمت وارد ہے۔
        جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے:۔۔۔۔۔۔عن ابن عباس، عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: العائدفی ہبتہ کالعائد فی قیئہ
        حضور ؐ نے فرمایا گفٹ میں رجوع کرنے والا ایسا ہے جیسے قئی میں رجوع کرنے والا۔
        (صحیح مسلم ، کتاب الھبات،باب تحریم الرجوع فی الصدقۃ ،٣:١٢٤١،الحدیث:١٦٢٢،مطبوعہ:دار احیاء التراث العربی ،بیروت)
        لھذابیمہ کی مد میں دی جانے والی رقم گفٹ نہیں ہوسکتی۔
        ٢) شرکت:
        کاروباری شراکت میں شریعت مطہرہ کے حکم کے مطابق شراکت دار نفع ونقصان اوراصل سرمائے میں شریک ہوتے ہیں
         جیسا کہ در مختار میں ہے :
         ھی ''الشرکۃ''(عبارۃ عن عقد بین المتشارکین فی الاصل والربح)۔۔۔۔۔۔ شرکت ایسے عقدسے عبارت ہے جو اصل اور نفع میں شریک ہو نے والوں کے درمیان ہو     (درمختار،کتاب الشرکۃ،٤:٢٩٩،مطبوعہ : بیروت)
        نیز شرکت کے لئے شرط ہے کہ کوئی ایسی شرط نہ پائی جائے جو شرکت کو قطع کرنے والی ہو مثلاً :دونوں میں سے کسی ایک کے لئے مقرر مقدار میں نفع طے کر لینا ،بایں صورت شرکت فاسدہوجاتی ہے کہ ہو سکتا ہے کاروبار میں اتنی ہی مقدار میں نفع ہو جتنا ایک کے لئے مقرر کیا یا اس سے بھی کم ،بایں صورت نفع تو وہی لے لے گا جس کے لئے طے ہو چکا دوسرے شریک کے لیے کیا بچا ۔۔۔۔۔۔!نیز یہ بھی ممکن ہے کہ سرے سے نفع حاصل ہی نہ ہوتوبایں صورت کمپنی کو اپنے گھر سے دینے پڑیں گے اور یوں نفع میں شرکت نہ ہوگی بلکہ یک طرفہ نفع ہو جائے گا ،جوکہ شرکت کے معنی کے خلاف ہے ۔
        جیسا کہ تنویر الابصار مع درمختارمیں ہے:
         وشرطھا عدم مایقطعھا کشرط دراھم مسماۃ من الربح لاحدھما لا نہ قد لا یربح غیر المسمی وحکمھا الشرکۃ فی الربح
        عقد شرکت کی شرط یہ ہے کہ اس چیز کا نہ ہو نا جو اسے ختم کردے جیسا کہ دونوں میں کسی ایک کے لئے منافع میں متعین درھموں کی شرط طے کرلینا کیونکہ کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ طے شدہ منافع کے علاوہ کو ئی منافع ہی نہ ہو حالانکہ عقد شرکت کا حکم نفع میں شرکت ہے۔(درمختار،کتاب الشرکۃ،٤:٣٠٥،مطبوعہ :دار الفکر بیروت)
        لھذابیمہ کی مد میں دی جانے والی رقم میں شراکت بھی نہیں ہوسکتی۔
        ٣،٤) قرض ، عاریۃ: ۔۔۔۔۔۔عاریۃ بھی قرض ہے کہ پیسے کو استعمال کرکے نفع حاصل ہو گا اور یوں پیسے قائم نہ رہیں گے جب کہ عاریت میں شے بعینہ قائم رہتی ہے اورمحض نفع اٹھایا جاتا ہے۔
        جیسا کہ تنویرالابصار ودرمختارمیں ہے :
        (عاریۃ الثمنین)۔۔۔۔۔۔ (قرض) ضرورۃ استھلاک عینھا۔۔۔۔۔۔ سونا چاندی نقدی کی عاریت قرض ہی ہے کیونکہ اس میں اصل چیزکو ہلاک کرنا لازمی ہے۔
        (درمختار،کتاب العاریہ،٥:٦٨١،مطبوعہ :دار الفکر بیروت)
        لھذابیمہ کی مد میںعاریۃً دی جانے والی رقم بھی قرض ہے ا ور بایں صورت بھی بیمہ کرانا جائز نہیں کہ اس پر ملنے والا مقرر نفع بغیر کسی عوض کے ہے ۔
        اور حدیث پاک میں ایسے قرض کو سود قرار دیا گیا جو مفضی الی المنفعۃ ہو۔
        جیسا کہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے :۔۔۔۔۔۔کل قرض جر منفعۃ فھو ربوٰ۔۔۔۔۔۔ ہر وہ قرض جس میں نفع حاصل ہو وہ سود ہے ۔
        (مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب البیوع والاقضیہ ،٤:٣٢٧،الحدیث:٢٠٦٩٠،مطبوعہ :مکتبۃ الرشد ،الریاض)
        اس کے علا وہ بھی بیمہ پالیسی میں دوسرے کئی مفاسد ہیں، مثلا :بیمہ کمپنی اپنے جمع شدہ سرمایہ کو گردش میں رکھنے کے لیے دوسرے صنعتی اور تجارتی اداروں کو سود پر قرض فراہم کرتی ہے اور سود حرام قطعی ہے جیسا کہ مذکور ہوا۔
        بیمہ کرانے والے کواگر قرض لیناہو تو بیمہ کمپنی اس کو بھی سود پر قرض دیتی ہے حالانکہ وہ رقم اس کی اپنی ہے۔
        بیمہ کمپنی مدت پوری ہونے کے بعد بیمہ کرانے والے کو اس کی اصل رقم مع سود کے لو ٹاتی ہے اور سود لینا دینا دونوں حرام ہیں جیسا کہ مذکور ہوا۔
        الغرض: مروجہ بیمہ پالیسی محرمات کا مجموعہ ہیں لھذابیمہ کے لئے ادا کی جانے والی رقم کے ذریعے نفع کا حصول کسی طرح بھی جائز نہیں ۔


                  تصحیح وتصدیق                        واللہ عزاسمہ، اعلم بالصواب    
    مفتی اعظم شیخ الحدیث                   جمیل احمد چنہ ( غفرلہ)
            مفتی محمد ابراہیم القادری                     المتخصص فی الفقہ           

           رئیس دارالافتاء                              فی الجامعۃ الـغوثیۃ الرضویۃ بسکھر
      فی الجامعۃ الـغوثیۃ الرضویۃ بسکھر                        2013/10/10

     

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری