Question & Answer

  • اسبال

            کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ !

    (1)ٹخنوں سےنیچے شلوار ہونے کی شرعی حیثیت کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    (2)کیا ٹخنوں سے اوپر شلوار کا ہونا نماز کیلیے  لازمی و ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    (3)اگر کوئی امام مسجد اس پر عمل نہیں کرتا تو اسکے پیچھے نماز ہوجاتی ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟

    السائل:محمد اقبال خانپور شکارپور

    03013402862

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    الجواب منہ الھدایۃ والرشاد

     

    (1)۔۔۔۔۔۔ شلوار ٹخنے سے نیچے لٹکانے کو عربی میں اسبال کہتے ہیں اسکی دو صورتیں ہیں۔۱۔ بطور تکبر    ۲۔ بغیر تکبر۔
    پہلی صورت ممنوع و حرام ہےاور  احادیثِ  طیبہ میں اس پر شدید وعید وارد ہے ۔

    جیسا کہ صحیح البخاری میں ہے :

    عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر إزاره بطرا»

     حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالٰی قیامت کے روز اس شخص پر نظر شفقت نہیں فرمائے گا جس نے از راہ تکبر اپنے تہبند کو زمین پر گھسیٹا۔

    ( صحیح البخاری،کتاب اللباس  باب جرثوبہ من  الخیلاء 7:114، رقم الحدیث : 5788 ، مطبوعہ: الناشر: دار طوق النجاة بیروت)

    اصل مسئلہ مذکورہ میں یہ ہے کہ غرور و تکبر سے احتراز لازم ہے جو کہ شریعت کی نگاہ میں معیوب ومردو و مغضوب ہے۔

    جیسا کہ  قرآن مجید میں فرمایا :

    ولا تصعر خدك للناس ولا تمش في الأرض مرحا إن الله لا يحب كل مختال فخور o      (لقمان، 31 : 18)

    اور لوگوں سے (غرور کے ساتھ) اپنا رخ نہ پھیر، اور زمین پر اکڑ کر مت چل، بیشک اﷲ ہر متکبّر، اِترا کر چلنے والے کو ناپسند فرماتا ہے۔

    صحیح البخاری میں ہے:

    عن حارثة بن وهب الخزاعي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ألا أخبركم بأهل الجنة؟ كل ضعيف متضاعف، لو أقسم على الله لأبره. ألا أخبركم بأهل النار؟ كل عتل جواظ مستكبر»

    سیدِ عالم ﷺ نے فرمایا:کیا میں تمہیں اہل جنت کی خبر نہ دوں۔۔۔؟  ہر کمزور ،لوگوں کی نظروں میں گرا ہوا۔ اگر اللہ عز مجدہ کے بھروسہ پر قسم اٹھا لے تو اللہ کریم ضرور اس کی قسم پوری فرمائے، کیا میں تمہیں دوزخی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر درشت رو، سخت مزاج، مغرور و متکبر۔

    (صحیح البخاری ،كتاب الأدب ، باب الكبر 8:20،رقم الحدیث :6071، الناشر: دار طوق النجاة بیروت)

                    صحیح مسلم میں ہے:

    عن عبد الله بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر» قال رجل: إن الرجل يحب أن يكون ثوبه حسنا ونعله حسنة، قال: «إن الله جميل يحب الجمال، الكبر بطر الحق، وغمط الناس

    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کے دل میں ذرہ بھر تکبر ہوا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ایک شخص نے عرض کی، ہر آدمی اچھا کپڑا اور اچھا جوتا پسند کرتا ہے (تو کیا یہ تکبر ہے؟) فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے، خوبصورتی  کو پسند فرماتا ہے۔ تکبر اللہ کے حضور اکڑنا اور اس کے حکم کو رد کرنا اور دوسروں کو حقیر سمجھنا ہے۔

    (الصحیح المسلم، كتاب الإيمان ، باب تحريم الكبر وبيانه ،1:93، رقم الحدیث:91 الناشر: دار إحياء التراث العربي،بيروت)

    مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر اسلام غرور و تکبر اور اس کی علامات سے منع کرتا ہے اور آدمی میں توضع و انکساری پیدا کرتا ہے

     شعب الایمان میں ہے:

    من تواضع لله رفعه الله، فهو في نفسه صغير، وفي أعين الناس عظيم، ومن تكبر وضعه الله، فهو في أعين الناس صغير، وفي نفسه كبير، حتى لهو أهون عليهم من كلب أو خنزير

           جو اللہ کے آگے جھکتا ہے، اللہ اس کو بلند کرتا ہے، وہ اپنے خیال میں چھوٹا اور لوگوں کی نظر میں بڑا ہوتا ہے اور جو غرور کرتا ہے، اللہ اسے نیچا کر دیتا ہے۔ وہ لوگوں کی نظروں میں چھوٹا اور اپنی نگاہ میں کتے اور خنزیر سے بھی ذلیل ہوتا ہے۔

    (شعب الإيمان،حسن الخلق، فصل فی التواضع،10:455،رقم الحدیث:7790، الناشر: مكتبة الرشد للنشر والتوزيع بالرياض)

                    الغرض اصل مذمت تکبر و غرور کی ہے جس کا سد باب کے لیے حکمِ مذکورہے

    اور اگر شلوار ٹخنے سے نیچے لٹکانا بغیر تکبر ہو تو اس میں حرج نہیں،بحکم ظاہر احادیث جائز ہےجیساکہ حدیث مذکوربالا میں بطراکی قید مفید ہے۔

    نیز صحیح البخاری میں ہے:

    عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من جر ثوبه خيلاء، لم ينظر الله إليه يوم القيامة» فقال أبو بكر: إن أحد شقي ثوبي يسترخي، إلا أن أتعاهد ذلك منه؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنك لست تصنع ذلك خيلاء»

    عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ حضور نے فرمایا : جس شخص نے ازاراہ تکبر کپڑا لٹکایا اور نیچے گھسیٹا تو اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہ فرمائے گا۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ! میرا تہبند ایک طرف نیچے لٹک جاتاہے مگریہ کہ میں اس کی پوری حفاظت کرتاہوں (یعنی حفاظت میں ذرا سی کوتاہی یا لاپروائی ہوجائے تو تہبند ایک طرف لٹک جاتاہے) آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو طرز تکبر سے ایسا کرتے ہیں (یعنی علت تکبر نہ ہونے کی وجہ سے تمھارے ازار کے لٹک جانے سے کوئی حرج نہیں ۔

               ( صحیح البخاری،كتاب أصحاب النبي,باب قول النبي صلى الله عليه وسلم: «لو كنت متخذا خليلا»5:6، رقم الحدیث : 3665 ، مطبوعہ: الناشر: دار طوق النجاة بیروت)

    واضح رہے بایں صورت جو کراہت محکوم ہے وہ کراہت تنزیہی،خلاف اولیٰ ہے، نہ کہ تحریمی ،جس سے صورت مذکورہ کا جواز مستفاد ہے ۔

    جیسا کہ فتاوٰی العالمگیری میں ہے :

     اسبال الرجل ازارہ اسفل من الکعبین ان لم یکن للخیلا ءففیہ کراھۃ تنزیہ کذافی الغرائب

    فتاوٰی عالمگیری میں ہے :مرد کا اپنے ازار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا اگر بوجہ تکبر نہ ہو تو مکروہ تنزیہی ہے اسی طرح غرائب میں ہے۔

     ( فتاوٰی ہندیہ، کتا ب الکراھیۃ الباب السابع ،نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۳۳)

    نیز واضح رہے جن احادیث میں علی الاطلاق وارد ہوا اس سے مراد یہ صورت ہے کہ بتکبر اسبال کرتا ہو ورنہ مذکور وعیدشدید اس پر وارد نہیں۔

    جیسا کہ صحیح البخاری میں ہے :

    عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما أسفل من الكعبين من الإزار ففي النار»

    سید عالم ﷺ نے فرمایا : ازار کا جو حصہ لٹک کر ٹخنوں سے نیچے ہوگیا وہ آگ میں ہوگا۔

    ( صحیح البخاری،کتاب اللباس ،باب ما أسفل من الكعبين فهو في النار 7:141، رقم الحدیث : 5787 ، مطبوعہ: الناشر: دار طوق النجاة بیروت)

    الغرض  اسبال (شلوار ٹخنے سے نیچے لٹکانا)اگر تکبر کیوجہ سے ہے تو حرام ،ورنہ مکروہ اور خلاف اولٰی ہے ، نہ حرام اور نہ ہی مستحق وعید۔

    واضح رہے  کہ حکم مذکور اسوقت ہے جب شلوار پشت کیجانب ٹخنوں سے  نیچے ہو،  اگرپشت کیجانب سے ٹخنوں سے بلندہے اگرچہ پنجہ کی جانب پاؤں کی پشت  پر ہو ہر گز کچھ مضائقہ نہیں۔

    کہ بایں طرح کا لٹکانا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بلکہ خود حضور سیدِعالم ﷺسے ثابت ہے۔

                عن محمد بن أبي يحيى، قال: حدثني عكرمة، أنه رأى ابن عباس يأتزر، فيضع حاشية إزاره من مقدمه على ظهر قدميه، ويرفع من مؤخره، قلت: لم تأتزر هذه الإزرة؟ قال: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يأتزرها»

    محمدبن ابی یحیٰی کہتے ہیں  مجھے عکرمہ تابعی نے بیان فرمایا کہ :اس نے ابن عباس کو دیکھا کہ جب ازار باندھتے تو اپنی ازار کی اگلی جانب کو اپنے قدم کی پشت پر رکھتے اور پچھلے حصہ کو اونچااور بلند رکھتے۔ میں نے عرض کی آپ اس طرح تہبند کیوں باندھتے ہیں۔۔۔؟ ارشاد فرمایا : میں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اسی طرح ازار باندھتے دیکھا ہے۔

     (سنن ابی داؤد    کتاب اللباس،باب في قدر موضع الإزار 4:60 ، رقم الحدیث:4096، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت)ٍ

    شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں رقم طراز ہیں :

    ازیں جامعلوم شود کہ بلند داشتن ازار از جانب پس کافی ست در عدم اسبال ۔

    اس سے معلوم ہوتاہے کہ ازا ر کوپچھلی جانب یعنی ٹخنوں کی طرف سے اونچااور بلند رکھنا عدم اسبال (یعنی نہ لٹکانا) میں کافی ہے۔

            ( اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ، کتاب اللباس فصل ۳  ،۳ /۵۵۶، مکتبہ نوری رضویہ سکھر پاکستان)

     (2) ۔۔۔۔۔۔شلوار کا ٹخنوں کے نیچے ہونا اگراز راہِ تکبر ہو تو حرام ہے اور بایں صورت نماز مکروہ تحریمی ، واجب الاعادہ ہوگی ، لھذا شلوار اگر ازراہِ تکبر ٹخنوں سے نیچے ہو تو  نماز اور نماز کے علاوہ ٹخنوں سے اوپر کرنا لازم  وضروری ہے ۔۔۔۔اور اگر از راہِ تکبر نہیں تو مستحق عذاب و عتاب نہیں اور بایں صورت نماز مکروہ تنزیہی ، محض  خلاف اولیٰ ہے۔

    (3)۔۔۔۔۔اگر امام شلوار ٹخنوں سے نیچے ازراہ تکبر نہیں کرتا  تو اس کے پیچھے نماز درست ہے اور زیادہ سے زیادہ خلافِ اولٰی ۔اور اگر امام شلوار ٹخنوں سے نیچے ازراہ تکبر  کرتا  تو اس کے پیچھے نماز کراہۃ تحریمی کے ساتھ درست ہے جس کا اعادہ لازم ہے۔

       تصحیح وتصدیق                                                            واللہ تعالی اعلم بالصواب

      مفتی اعظم شیخ الحدیث                                                  حررہ:جمیل احمدچنہ (عفی عنہ)

    مفتی محمد ابراہیم القادری                                              المتخصص فی الفقہ الاسلامی

          رئیس دارالافتاء                                                 فی الجامعۃ الغوثیۃ الرضویۃ بسکھر

        فی الجامعۃ الغوثیۃ الرضویۃ بسکھر             14جمادی الاخریٰ 1435ھ ،بمطابق15 اپریل، 2014 ع

     

     

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری