Question & Answer

  • خلع

    الاستفتاء

    کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ

    میری بیوی مسماۃ ناہید مجھ سے خلع چاہتی ہے اس لئے کہ میں چھوڑنا نہیں چاہتا اور وہ رہنا نہیں چاہتی لہذا خلع کے شرعی طریقہ کار سے آگاہ فرمائے نیز میرا یک بچہ(بیٹا)بھی ہے جسکی عمردس سال ہے وہ ماں باپ میں کس کی کفالت اورپرورش میں رہیگا اور ماں کے پاس رہنے کی صورت میں کیاباپ کوخرچہ دینا ہوگا؟ آگاہ فرمائیں۔شکریہ

    السائل

    عبدالسمیع

    محلہ ٹکرسکھر

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    الجواب بعون الملک الوھاب

    اگرآپ سمجھتے ہیں کہ نکاح برقرار رکھتے ہوئے آپ دونوں ایک دوسرے کے حقوق ادا نہیں کرپائیں گے توخلع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔اور خلع یہ ہے کہ مال کے بدلے میں رشتہ نکاح کوختم کردیا جائے مثلا شوہرکہے کہ میں نے آپ سے آپ کے حق مہریا فلاں چیز یا اتنی رقم پرخلع کیا اور عورت کہے کہ میں نے قبول کیا۔یہ خلع ہے ایسا کرنے سے عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور نکاح کا رشتہ ختم ہوجائے گا۔اور عورت پر مال کی ادائیگی (جومال بھی طے ہوا) لازم ہوگی۔

    اگراس دوران عدت کے نان ونفقہ کی ذمہ داری سے بھی مرد نے دستبردار ہونے کی شرط عائد کی مثلا کہا کہ میں آپ سے اتنے مال کے بدلے میں خلع کرتا ہوں اور عدت کا نان ونفقہ نہیں دوں گااور عورت نے قبول کیا تو نفقہ کی ذمہ داری سے مرد آزادہوگیا۔اور اگرخلع ہوگیا مگرنا ن نفقہ کا کسی طرح ذکر نہیں آیا توعدت کا خرچ مرد کے ذمے ہے۔آپ نے بتایاکہ لڑکے کی عمردس سال ہے اتنی عمرکا لڑکا ماں سے لے لیا جاتاہے اسکا حق پرورش باپ کو سونپا گیا ہے۔لہذا لڑکا آپ کے پاس رہے گا۔ خلع ہوجانے کے بعد جب عورت کی عدت گذر جائے گی وہ نکاح میں آزاد ہوگی جس مرد سے چاہے شرعی نکاح کرسکتی ہے۔

    تنویر الابصار میں ہے

    ”ھوازالۃ ملک النکاح المتوقفۃ علی قبولھا بلفظ الخلع اوما فی معناہ“

    یعنی خلع یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ذریعے رشتہ نکاح کو زائل کرناجو عورت کے قبول کرنے پر موقوف ہو خلع ہے۔

    تنویرالابصار ودرمختار میں ہے

    ”وحکمہ ان الواقع بہ ولو بلامال ولوبالطلاق الصریح علی مال طلاق بائن“

    تنویر الابصار ودرمختار ص۲۷۔۳۷ ج10

    یعنی خلع کا حکم یہ ہے کہ خلع کے ذریعے اگرچہ اس کے مقابل مال نہ ذکرکیا جائے(اور)اگرچہ مال کے بدلے طلاق صریح دی ہو،طلاق بائن(واقع ہوتی) ہے۔

    اور تنویر میں ہے

    ”ویسقط الخلع والمباراۃ کل حق لکل منھا علی الآخر بما یتعلق بذالک النکاح۔

    یعنی خلع ومبارات میاں بیوی کے حقوق متعلقہ بہ نکاح کوساقط کردیتے ہیں۔

    اس میں ہے

    ”الا نفقۃ العدۃ اذا نص علیھا“

    یعنی حقوق متعلقہ بہ نکاح کو ختم کردیتاہے مگر عدت کا نفقہ شوہر کے ذمہ ہے۔

    ھاں اگر اس کے اسقاط کی صراحت آجائے توعدت کا نفقہ بھی ساقط ہوجائیگا۔اب رہا عدت میں عورت کا حق سکنی یعنی رہائش کا حق اسکے بارے میں درمختار میں ہے

    ”فتسقط النفقۃ لاالسکنی لانھا حق الشرع الااذا ابراتہ عن مؤنۃ السکنی فیصح“فتح۔

    یعنی فتح القدیرمیں ہے کہ نفقہ ساقط ہوگا۔سکنی ساقط نہیں ہوگا۔کیونکہ وہ حق شرع ہے۔ہاں اگر عورت اسے بھی ساقط کردے تو ساقط ہوجائے گا۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری غفرلہ

    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر

    بيس(20) رمضان ۲۳۴۱ھ
     

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری