Question & Answer

  • کرسی پربیٹھ کر نماز ادا کرنا

    الاستفتاء

     کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں

    جو شخص قیام پر قادر ہو لیکن رکوع و سجود پر قادر نہ ہو یا بغیر سہارے کے کھڑا نہ ہوسکتا ہو بلکہ دیوار یا کسی اور چیز کے سہارے سے کھڑا ہو سکتا ہو یا کسی بھی طرح قیام پر قادر نہ ہو لیکن زمین پر بیٹھ کر سجدہ زمین پر کر سکتا ہو یا صرف زمین پر بیٹھ سکتا ہو لیکن سجدہ زمین پر نہ کر سکتا ہو بلکہ زمین سے اُونچی کسی چیز کو سامنے رکھ کر سجدہ کر سکتا ہو یا زمین پر بیٹھ بھی نہ سکتا ہو لیکن کرسی یا اسٹول پر بیٹھ سکتا ہو۔ ان تمام صورتوں میں نماز کس طرح ادا کرے؟ نیز اسکول بینچ (Desk) جس کا نچلا حصہ بیٹھنے کے لیے اور سامنے والا اُونچا حصہ کاپی رکھنے کے لیے ہوتا ہے اس قسم کی بینچ پر بیٹھ کر اگر نماز ادا کرے اور سامنے والے حصہ پر سجدہ کرے تو کیا نماز ہو جائے گی؟ السائل

    حافظ محمد افضل حسینی

    امام وخطیب درگاہ حضرت صدرالدین بادشاہ

     سکھر

    الجواب بعون الملک الوھاب

    جواب سے پہلے مناسب یہ ہو گا کہ چند امورِ تمہیدکے طور پر ذکر کئے جائیں تاکہ زیر بحث مسئلہ سمجھنے میں آسانی ہو۔

    (الف)

    فرض نمازوں میں قیام فرض۔ واجب میں واجب۔ سنن مؤکدہ میں سنت مؤکدہ اور نوافل میں قیام مستحب ہے۔

    (ب)

    بعض صورتوں میں فرائض میں قیام معاف ہو جاتا ہے مثلاً اپاہج شخص جو قیام پر قادر نہیں یا ایک شخص قیام پر قادر ہے مگر قیام کرنے میں سخت دشواری محسوس کرتا ہے یا مرض بڑھ جانے یا دیر سے ٹھیک ہونے کا قوی اندیشہ ہے یا کھڑے ہونے سے سر چکراتا ہے یا کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے پیشاب کے قطرے آتے ہیں اور بیٹھ کر نماز پڑھنے سے نہیں آتے۔ ان تمام صورتوں میں نمازی بیٹھ کر رکوع و سجود کر کے نماز ادا کرے۔

    تنویر الابصار میں ہے

    ”من تعذر علیہ القیام لمرض قبلھا او فیھا او خاف زیادتہ او بطء برۂ بقیامہٖ او دوران راسہ او وجد لقیامہ الماً شدیداً۔ صلی قاعدا کیف شاء برکوع و سجود۔“

    (تنویر الابصار مع درِ مختار ج 4 ص 528 تا 533 مطبوعہ شام)

    ترجمہ: جس شخص پر نماز سے پہلے یا دورانِ نماز کسی مرض کی وجہ سے قیام دشوار ہو جائے یا قیام کی وجہ سے مرض بڑھنے یا دیر سے ٹھیک ہونے یا سر چکرانے کا اندیشہ ہو یا قیام کی وجہ سے شدید درد محسوس کرتا ہو تو یہ شخص رکوع و سجود کے ساتھ جس طرح چاہے بیٹھ کر نماز پڑھے۔

    (ج)

    اسی طرح اگر قیام پر قادر ہے مگر رکوع و سجود نہیں کر سکتا یا رکوع و قیام پر قادر ہے مگر سجود پر قادر نہیں تو اسے اختیار ہے چاہے کھڑے ہو کر نماز پڑھے اور رکوع و سجود کے لیے کھڑے کھڑے اشارہ کرے اور چاہے تو کھڑے ہو کر نماز پڑھے اور رکوع و سجدہ کے وقت بیٹھ جائے اور بیٹھ کر رکوع و سجدہ کا اشارہ کرے اور چاہے تو شروع سے بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع و سجود کے لیے بیٹھے بیٹھے اشارہ کرے اوریہ افضل طریقہ ہے۔

    تنویر الابصار مع درِ مختار میں ہے

    ”(و ان تعذرا) و لیس تعذرھما شرطا بل تعذر السجود کاف لا القیام (او مأ قاعدا)

    و ھو افضل من الایماء قائماً لقربہ من الارض۔

    تنویر الابصار مع درِ مختار

    (ج 4 ص 535-534 مطبوعہ شام)

    ترجمہ: اور اگر رکوع و سجدہ دشوار ہو جائیں اور دونوں کی دشواری شرط نہیں بلکہ قیام پر قدرت ہوتے ہوئے صرف سجدے کی دشواری کافی ہے تو بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھے اور یہ طریقہ کھڑے ہو کر اشارہ کرنے سے افضل ہے کیونکہ اس صورت میں وہ زمین سے قریب ہے۔ اس پر مزید تائیدی حوالے اگلی سطور میں آئیں گے۔

    (د)

    اگر نمازی پوری نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتا مگر نماز کا کچھ حصہ کھڑے ہو کر پڑھ سکتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ تکبیر تحریمہ کھڑے ہو کر کہے پھر جتنی دیر قیام پر قادر ہو کھڑا رہے۔ جب قیام دشوار ہو جائے تو بیٹھ جائے اور رکوع و سجود کر کے نماز مکمل کر لے۔

    ”(و ان قدر علی بعض القیام) و لو متکئا علی عصا او حائط (قام) لزوما بقدر ما یقدر و لو قدر آیۃ او تکبیرۃ علی المذھب

    (تنویر الابصار مع درِ مختارج 4 ص 533 مطبوعہ شام)

    ترجمہ: اور اگر نمازی تھوڑے قیام پر قادر ہو اگرچہ عصا یا دیوار پر ٹیک لگا کر تو بمطابق مذہب اتنی دیر ضرور کھڑا ہو جتنی دیر کھڑے رہنے پر قادر ہے اگرچہ ایک آیت یا اللہ اکبر کہنے کی مقدار کھڑا ہو۔

    پھر اس کی شرح ردِ المحتار میں ہے

    فی شرح الحلوانی نقلاً عن الھندوانی لو قدر علی بعض القیام دون تمامہٖ او کان یقدر علی القیام لبعض القراء ۃ دون تمامھا یؤمر بان یکبر قائما و یقرأ ما قدر علیہ ثم یقعد ان عجز۔ 

    ترجمہ:شرح حلوانی میں امام ہندوانی سے منقول ہے اگر نمازی پورے قیام پر قادر نہ ہو بلکہ تھوڑے قیام پر قادر ہو یا کچھ قرأت میں قیام پر قادر ہو اور پوری قرأت میں قیام پر قادر نہ ہو تو اسے حکم دیا جائے گا کہ وہ تکبیر تحریمہ کھڑے ہو کر کہے اور جتنی دیر کھڑا رہ سکے قرأت کرے پھر اگر عاجز آ جائے تو بیٹھ جائے۔

    مگر یاد رہے کہ تکبیر تحریمہ اور اس کے بعد میں قیام اس وقت فرض ہوگا جب رکوع و سجود پر قدرت ہو اور اگر رکوع و سجود پر قدرت نہ ہو تو شروع سے بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے بلکہ افضل ہے اور اس کی فقہاء نے وجہ یہ تحریر فرمائی کہ قیام و رکوع خود قربت مقصودہ نہیں بلکہ قربت مقصودہ یعنی سجدہ کا وسیلہ ہیں لہٰذا اگر سجدہ پر قدرت ہے تو یہ دونوں فرض ہیں ورنہ فرض نہیں۔

    چنانچہ فتاویٰ شامی میں ذخیرہ سے ہے

    ”رجل بحلقہ خراج ان سجد سال و ھو قادر علی الرکوع والقیام والقرأۃ یصلی قاعدا یومی و لو صلی قائما برکوع و قعد و او مأ بالسجود اجزأ والاول افضل لان القیام والرکوع لم یشرعا قربۃ بنفسھا بل لیکونا وسیلتین الی السجود۔“

    فتاوی شامی ص 534 ج 4

    ترجمہ: ایک شخص کے حلق میں زخم ہے اگر وہ سجدہ کرتا ہے تو زخم جاری ہو جاتا ہے اور یہ رکوع و قیام اور قرأت پر قادر ہے تو یہ بیٹھ کر اشارے سے نماز ادا کرے اور اگر کھڑے ہو کر رکوع کے ساتھ نماز پڑھے اور(پھر) بیٹھ کر سجدے کا اشارہ کرے جب بھی صحیح ہے اور پہلا طریقہ افضل ہے کیونکہ قیام اور رکوع خود قربت کے طور پر مشروع نہیں کئے گئے بلکہ اس لئے مشروع کیے گئے کہ وہ سجدے کے لیے وسیلہ بنیں۔

    الغرض: قیام بقدرِ وسعت اس وقت فرض ہے جب رکوع و سجود دونوں یا صرف سجود پر قدرت ہو اور اگر سجود پر قدرت نہیں تو قیام کسی طور پر فرض نہیں۔ ان تمہیدی مقدمات کے بعد کرسی یا اسٹول یا بینچ پر نماز پڑھنے والے معذور شخص کی چند ممکنہ صورتیں پھر ہر ایک کا حکم شرعی ملاحظہ ہو: (1) کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والا شخص قیام نہیں کر سکتا مگر زمین پر بیٹھ کر رکوع و سجود کر سکتا ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اس شخص پر فرض ہے کہ زمین پر بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز ادا کرے۔ ایسا شخص اگر کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھے گا نماز نہیں ہو گی۔

    ہدایہ میں ہے

    و اذا عجز المریض عن القیام صلی قاعدا یرکع و یسجد لقولہٖ علیہ السلام لعمران بن حصین صل قائماً فان لم تستطع فقاعدا فان لم تستطع فعلی الجنب تؤمی ایماء۔

    ھدایہ ص۱۶۱ ج۱ (باب صلوۃ العریض)مطبوعہ مکتبہ شرکۃ علمیۃ ملتان

    ترجمہ: جب مریض قیام سے عاجز ہو جائے تو بیٹھ کر نماز ادا کرے، رکوع کرے اور سجدہ کرے کیونکہ رسول اللہ نے حضرت عمران بن حصین سے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر تم میں کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر پڑھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر اشارے سے نماز ادا کرو۔

    بدائع صنائع میں ہے

    و ان کان قادرا علی القعود برکوع و سجود فصلی بالایماء لا یجزۂ بالاتفاق لانہ لا عذر

    ترجمہ: ”اگر نمازی بیٹھ کر رکوع و سجود پر قادر ہے پھر اس نے اشارے سے نماز پڑھی تو بالاتفاق نماز نہیں ہو گی۔ اس لئے کہ عذر موجود نہیں ہے۔“

    (2)

    قیام نہیں کر سکتا اور رکوع بہ آسانی کر سکتا ہے مگر کسی تکلیف کی وجہ سے سجدہ کرنے سے معذور ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ شخص اس قدر جھک سکتا ہے کہ زمین پر کوئی ٹھوس چیز جیسے لکڑی یا پتھر وغیرہ رکھی جائے جس کی سطح زمین سے بلند دو اینٹوں سے زائد نہ ہو (اس کی مقدار فقہاء نے 12 اُنگل بلندی تحریر کی ہے) پر بہ آسانی سجدہ کر سکتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ایسا کرے یعنی جائے سجدہ پر کوئی ٹھوس چیز رکھ کر جس کی بلندی 12 اُنگل سے زائد نہ ہو اور اس پر سجدہ کر لیا جائے۔ یہ حقیقی سجدہ ہے اور جو سجدہ پر قادر ہو اس کو اشارے سے سجدہ کرنا جائز نہیں اور اگر یہ شخص اتنا بھی سر نہیں جھکا سکتا تو یہ سجدہ کے معاملہ میں معذور ہے۔ یہ سجدہ کے لیے اشارہ کر کے نماز ادا کرے گا۔

    ردِ المحتار میں ہے

    ان کان الموضوع مما یصح علیہ السجود کحجر مثلاً و لم یزد ارتفاعہ علی قدر لبنۃ او لبنتین فھو سجود حقیقی فیکون راکعاً ساجدا الا مؤمیا

    ردالمحتارص 539 ج 4 مطبوعہ شام)

    ترجمہ: اگر سجدہ گاہ پر رکھی ہوئی چیز ایسی ہے جس پر سجدہ کرنا صحیح ہے جیسے پتھر بشرطیکہ اس کی بلندی ایک دو اینٹ سے زائد نہ ہو تو یہ حقیقی سجدہ ہے اور اب نمازی رکوع اور سجدہ کرنے والا کہلائے گا۔ اشارہ کرنے والا نہیں کہلائے گا۔

    اس کے دو سطر بعد فرمایا

    ”بل یظھر لی انہ لو کان قادرا علی وضع شئی علی الارض مما یصح السجود علیہ ان یلزمہ ذالک لانہ قادر علی الرکوع والسجود حقیقۃً و لا یصح الایماء بھما مع القدرۃ علیھما بل شرطہ تعذرھما کما ھو موضوع المسئلۃ۔“

    ترجمہ: بلکہ مجھ پر یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اگر نمازی (سجدہ گاہ پر) ایسی چیز رکھنے پر قادر ہے جس پر سجدہ کرنا صحیح ہو تو اس پر یہ لازم ہے کیونکہ وہ حقیقی رکوع و سجدہ پر قادر ہے جس پر سجدہ کرنا صحیح ہو تو اس پر لازم ہے کیونکہ وہ حقیقی رکوع و سجدہ پر قادر ہے اور حقیقی رکوع و سجود پر قدرت ہوتے ہوئے اشارہ کرنا صحیح نہیں بلکہ اشارہ کرنے کے لیے رکوع و سجدہ سے معذوری شرط ہے جیسا کہ یہی مسئلہ کا موضوع ہے۔

    (3)

    کھڑا ہو سکتا ہے مگر رکوع سجدہ نہیں کر سکتا۔

    (4)

    کھڑا ہو سکتا ہے اور رکوع بھی کر سکتا ہے مگر سجدہ نہیں کر سکتا۔ ان دونوں صورتوں کا حکم یہ ہے کہ اس شخص سے قیام معاف ہے اور اسے اختیار ہے چاہے تو تمام رکعات کھڑے ہو کر پڑھے اور کھڑے ہو کر اشارے سے رکوع و سجود ادا کرے اور چاہے تو تمام رکعات کھڑے ہو کر ادا کرے اور رکوع و سجدہ بیٹھ کر اشارہ سے ادا کرے اور چاہے تو شروع سے بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع و سجود اشارے سے ادا کرے۔

    اس کی تفصیل تمہیدی سطور میں باحوالہ مذکور ہو چکی ہے۔ ان دونوں صورتوں میں یہ بحث متوجہ ہو گی کہ ایسے معذور شخص کو کرسی کا استعمال جائز ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ اگر یہ شخص زمین پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھ سکتا ہے تو اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ کرسی کے استعمال سے پرہیز کرے مگر کرسی کا استعمال نہ گناہ ہے نہ مفسد نماز۔ ہاں بلاوجہ اس کا استعمال کسل و سہل پسندی کی بنا پر ضرور معیوب ہے اور جواز کی وجہ یہ ہے اس شخص کے لیے قعود متعین ہے اور کرسی پر بیٹھنا بھی قعود ہے کیونکہ قعود کی مختلف شکلیں اور حالتیں ہیں۔ زمین پر بیٹھنا بھی ایک حالت ہے اور کرسی پر بیٹھنا بھی ایک حالت ہے اور شریعت نے قعود کی کسی متعین حالت و کیفیت کو لازم قرار نہیں دیا بلکہ کتب فقہ اس کے عموم پر دال ہیں۔

    چنانچہ تنویر میں فرمایا

    ”تعذر علیہ القیام لمرض…… الی ان قال…… صلی قاعدا کیف شاء علی المذھب۔

    تنویرالابصارص 532 ج 4

    ترجمہ: جس شخص پر بیماری کی وجہ سے قیام دشوار ہو (دو سطر بعد اس کا حکم بیان فرمایا کہ) وہ بمطابق مذہب جس طرح چاہے بیٹھ کر نماز پڑھے۔ کیف شاء کے الفاظ عموم کیفیات پر صریحاً دال ہیں۔ پھر صاحب درِ مختار نے عموم کیفیات پر یہ دلیل قائم فرمائی کہ جب عذر کی بنا پر مریض سے ارکان (رکوع و سجود) ساقط ہیں تو کیفیات بطریق اولیٰ ساقط ہیں۔

    ان کی عبارت یہ ہے

    ”لان المرض اسقط عنہ الارکان فالھیات اولی“ بعض علماء نے حضرت امام زفر کی اس رائے کو کہ ایسے معذور پر بہ حالت تشہد بیٹھنا ضروری ہے۔ قول مفتیٰ بہ قرار دیا تھا۔ان سے علامہ شامی نے اختلاف کرتے ہوئے تحریر فرمایا

    ”و لا یخفی ما فیہ بل الا یسر عدم التقیید بکیفیۃ من الکیفیات فالمذھب الاول۔“

    یعنی اس قول کا ضعف مخفی نہیں ہے بلکہ بیٹھنے کو کسی کیفیت کے ساتھ مقید نہ کرنا (نمازی کے لیے) زیادہ آسان ہے تو مذہب پہلا ہی ہے (کہ جس طرح چاہے بیٹھے) پھر یہاں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ایسے معذور کے لیے قعود اور صحت مند کے لیے قیام کا ایک ہی حکم ہے کہ جس طرح صحت مند کے لیے قیام فرض ہے معذور پر قعود فرض ہے اور قیام کے لیے کوئی خاص کیفیت شرط نہیں لہٰذا قعود کے لیے بھی کوئی خاص کیفیت شرط نہیں چنانچہ اگر قیام پر قادر شخص بلا عذر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر نماز پڑھے تو نماز ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہ ٹیک لگانے سے قیام کی حقیقت فوت نہیں ہوتی تو جس طرح دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہونا ہی ہے اسی طرح کرسی پر بیٹھنے سے بیٹھنے کی حقیقت فوت نہیں ہوتی۔ اب بھی یہ بیٹھا ہی کہلائے گا۔

    چنانچہ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا بریلوی رحمہ اللہ تعالی جد الممتار میں قولِ درِ مختار

    و ان قدر علی بعض القیام و لو متکئا علی عصا او حائط قام لزوماً

    پر اس طرح حاشیہ نگاری فرماتے ہیں

    ”اقول و لا اعلم لا نکارہ وجھا اصلا فان القیام متکئا قیام صحیح حتی لو قام الصحیح من غیر عذر فی الفرائض متکئا صحت صلوتہ قطعاً و ان کرہ ذالک لعدم اتیانہ بالقیام علی الوجہ الاکمل لما فیہ من ترک الادب و اظھار الکسل فاذا کان ھذا قیاما صحیحاً فلا معنی لا جازۃ القعود مع القدرۃ علیہ کما لا یخفی“

    جد الممتارص 472 ج 2 مطبوعہ مجلس المدینہ العلمیہ کراچی

    ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ میں اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں جانتا کیونکہ ٹیک لگا کر کھڑا ہونا صحیح قیام ہے حتیٰ کہ اگر صحت مند آدمی نے فرائض میں بلا عذر ٹیک لگا کر قیام کیا تو بلا شبہ اس کی نماز صحیح ہے اگرچہ یہ عمل کامل قیام نہ کرنے کی وجہ سے مکروہ ہے کیونکہ اس میں ترک ادب اور سستی کا اظہار ہے تو جب یہ قیام قیام صحیح ہے تو اس پر قدرت ہوتے ہوئے بیٹھنے کی اجازت کا کوئی مطلب نہیں جیسا کہ مخفی نہیں۔

    یہاں تک اس پر کلام آیا کہ زمین پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنے پر قادر شخص کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھے تو نماز ہو جاتی ہے اگرچہ افضل یہ ہے کہ زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرے لیکن اگر رکوع و سجود سے معذور انسان زمین سے بیٹھنے سے معذور ہو مثلاً گھٹنے کے درد کا مریض ہے زمین پر بیٹھنے سے اسے سخت تکلیف لاحق ہوتی ہے اور کرسی پر وہ اطمینان سے نماز ادا کرتا ہے یا گھٹنے کا مریض زمین پر بیٹھنے سے درد کی شدت محسوس نہیں کرتا مگر اسے ماہر ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ زمین پر بیٹھنے سے اس کے گھٹنے ناکارہ ہو جائیں گے یا ٹانگوں میں راڈ پڑی ہوئی ہے یا ٹانگوں میں زخم ہے زمین پر بیٹھتا ہے تو زخم جاری ہو جاتا ہے اور کرسی پر بیٹھنے سے یہ شکایت نہیں ہوتی یا کمر کے عارضے میں مبتلا شخص زمین پر بیٹھنے سے شدید تکلیف محسوس کرتا ہے یا مرض بڑھنے کا شدید اندیشہ ہے۔

    ان اعذار اور ان جیسے دیگر موانع کی بنا پر ایسے معذور شخص کا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا فرض ہے۔ اگر ان حالات میں کرسی کے استعمال کی اجازت نہ ہو تو پھر اس کے بعد ایک ہی درجہ باقی ہے اور وہ ہے لیٹ کر نماز پڑھنا حالانکہ قعود پر قدرت ہوتے ہوئے لیٹ کر نماز پڑھنا ناجائز بلکہ مفسد نماز ہے۔

    چنانچہ ہدایہ باب صلوٰۃ المریض میں ہے

     ”فان لم یستطع القعود استلقی علی ظھرہ وجعل رجلیہ الی القبلۃ و او مأ بالرکوع والسجود لقولہ علیہ السلام یصلی المریض قائماً فان لم یستطع فقاعدا فان لم یستطع فعلی قفاہ یؤمی ایماء“

    ھدایہ ۱۶۱ ج۱،مطبوعہ مکتبہ شرکۃ علمیہ ملتان

    ترجمہ: اگر نمازی بیٹھنے پر قادر نہ ہو تو چت لیٹ کر نماز پڑھے اور دونوں پیر قبلہ رخ کر لے اور رکوع و سجود کے لیے اشارہ کرے۔ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ مریض کھڑے ہو کر نماز پڑھے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو چت لیٹ کر اشارے سے پڑھے۔

    (5)

    مریض زمین پر بیٹھ کر کسی بلند چیز جیسے لکڑی، پتھر یا تکیہ پر سر رکھ کر سجدہ کر تا ہے یا کرسی / بینچ پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اپنے آگے نصب تختے یا کسی بلند چیز پر سجدہ کرتا ہے۔ اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر یہ شخص سجدہ پر قادر ہے تو زمین پر سجدہ کرے اور سجدے کے لیے کسی بلند چیز کا سہارا نہ لے۔ ہاں اگر کسی تکلیف کی بنا پر پیشانی زمین سے نہیں لگا سکتا مگر قدرے بلند چیز پر پیشانی لگا سکتا ہے جس کی بلندی 12 اُنگل یا اس سے کم ہے تو ضرور ی ہے کہ وہ اشارے سے اجتناب کرے اور اتنی ہی مقدار بلند کسی ٹھوس چیز پر سجدہ کرے۔ تکیہ اور اس جیسی نرم اشیاء پر سجدہ نہ کرے ورنہ سجدہ نہیں ہو گا اور جب سجدہ نہیں ہو گا تو نماز بھی نہیں ہو گی اور اگر یہ شخص حقیقی سجدہ پر قادر نہیں یعنی زمین پر پیشانی لگا سکتا ہے نہ ہی 12 اُنگل بلند کسی ٹھوس چیز پر پیشانی لگانے کی طاقت رکھتا ہے تو یہ سجدہ سے معذور انسان ہے بہتر یہ ہو گا کہ یہ بغیر کسی سہارے کے محض سجدہ کا اشارہ کرے رکوع میں جھکاؤ کم اور سجدہ میں زیادہ ہوتا ہمیں اگر تکیہ یا لکڑی پرسجدہ کیا جب بھی بلا کراہت نماز جائز ہے اس لیے کہ یہ اشارے سے نماز پڑھنے کا مکلف ہے اور اس حالت میں بھی یہ اشارے ہی سے نماز پڑھ رہا ہے۔

    چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنھا نے آشوبِ چشم کے عارضہ کی بنا پر چمڑے کے ایک تکیہ پر سجدہ کر کے نماز ادا فرمائی۔ ایسے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ آپ مریض کو تکیہ پر سجدہ کرنے کی اجازت دیتے تھے۔ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہسے روایت ہے کہ آپ علالت کے دوران تکیہ پر سجدہ فرماتے تھے۔

    التعلیق الممجد علی المؤطا لامام محمد میں مولانا عبدالحئی فاضل لکھنوی نے تینوں روایات کو نقل فرمایا۔ ان کے الفاظ یہ ہیں: ”روی الحسن عن امہ قالت رأیت ام سلمۃ تسجد علی و سادۃ من اٰدم من رمد بھا اخرجہ البیھقی“ ”و عن ابن عباس انہ رخص فی السجود علی الوسادۃ ذکرہ البیھقی“ ”و ذکر ابن شیبۃ عن انس انہ کان یسجد علی مرفقہ“

    التعلیق الممجد علی المؤطا لامام محمد ص 41 ج ا ول مطبوعہ بیروت 

    ہدایہ میں ہے ”(و لا یرفع الی وجھہٖ شیئا یسجد علیہ) لقولہٖ علیہ السلام ان قدرت ان تسجد علی الارض فاسجد والافاوم برأسک فان فعل ذالک و ھو یخفض رأسہ اجزأہ لوجود الایماء و ان وضع ذالک علی جبھتہ لا یجزیہ لا نعدامہ“

    ھدایہ ۱۶۱ ج۱،مطبوعہ مکتبہ شرکۃ علمیہ ملتان

    ترجمہ: اور سجدہ کرنے کے لیے اپنے چہرے کی طرف کوئی چیز نہ اُٹھائے۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ اگر زمین پر سجدہ کرنے پر قادر ہے تو سجدہ کر ورنہ سر کا اشارہ کر۔ تو اگر نمازی نے سر جھکاتے ہوئے اشارہ کیا تو اس کی نماز درست ہے کیونکہ اشارہ پایا گیا اور اگر نمازی نے چیز اُٹھا کر اپنی پیشانی پر رکھ دی تو نماز نہیں ہو گی۔ کیونکہ اشارہ نہیں پایا گیا۔

    کفایہ شرح ہدایہ میں ہے

    ”ذکر شمس الائمہ الحلوانی ان المؤمی اذا خفض رأسہ للرکوع ثم للسجود جاز و لو وضع بین یدیہ و سائد فالصق جبھتہ علیھا و وجد ادنی الانحناء جاز عن ذالک الایماء و الا فلا“

    کفایہ شرح ہدایہ ص 458 ج 1 مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر 

    ترجمہ: امام شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا کہ اشارہ کرنے والا جب رکوع کے لیے اپنے سر کو جھکائے پھر سجدے کے لیے جھکائے تو جائز ہے اور اگر نمازی اپنے آگے تکیے رکھ لے اور اپنی پیشانی ان سے چپکا لے اور تھوڑا سا جھکاؤ پایا جائے تو اشارہ کی وجہ سے نماز جائز ہے اور اگر سر کا جھکاؤ نہ پایا جائے تو نماز نہیں ہو گی۔

    محرر مذہب سیدنا امام محمد بن حسن شیبانی رحمہ اللہ تعالی مؤطا میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے اثر ”اذا لم یستطع المریض السجود اومیٰ برأسہ“ نقل فرمانے کے بعد فرماتے ہیں۔ ”و بھذا ناخذ و لا ینبغی لہ یسجد علی عود و لا بشیئی یرفع الیہ و یجعل سجودہ اخفض من رکوعہ و ھو قول ابی حنیفۃ“ یعنی یہی ہمارا مسلک ہے اور نمازی کو لائق نہیں کہ وہ لکڑی یا کسی اور چیز پر سجدہ کرے اور سجدہ رکوع سے زیادہ پست کرے اور یہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے۔

    اس عبارت میں ”لا ینبغی“ کا لفظ اس طرف مشیر ہے کہ معذور کا کسی بلند چیز پر سجدہ نامناسب فعل ہے۔ گناہ یا موجب فساد نہیں اور یہ جو بعض احادیث میں وارد ہے کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک مریض کی عیادت فرمائی۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ تکیہ پر نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے تکیہ اُٹھا کر پھینک دیا۔ پھر اس نے ایک لکڑی اُٹھا لی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اسے بھی لے کر پھینک دیا اور فرمایا: ”اگر طاقت ہے تو زمین پر نماز پڑھ ورنہ اشارے سے نماز پڑھ اور اپنے سجدے کو رکوع سے زیادہ پست کر۔“

    اخرجہ البزار و البیھقی فی المعرفۃ عن ابی بکر الحنفی عن سفیان الثوری نا ابو الزبیر عن جابررضی اللہ تعالی عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عاد مریضا فراہ یصلی علی و سادۃ فاخذھا و رمی بھا فاخذ عودا لیصلی علیہ فاخذہ و رمی بہ و قال صلی علی الارض ان استطعت والافاوم ایماء واجعل سجودک اخفض من رکوعک۔“

    (التعلیق الممجد ج 1 ص 41 مطبوعہ بیروت)

    آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ عمل محض بیان افضلیت کے لیے تھا۔ کیونکہ اگر معذور کے لیے تکیہ وغیرہ کا استعمال ممنوع و ناجائز ہوتا تو: اولاً: آپ فقط تکیہ و لکڑی پھینکنے پر قناعت نہ فرماتے بلکہ نمازی کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم فرماتے جیسا کہ آپ نے تعدیل ارکان کے تارک کو اعادہ نماز کا حکم فرمایا اور فرمایا ”صلّ فانک لم تصل“ ثانیاً: ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنھا تکیہ پر سجدہ نہ فرماتیں اور نہ ہی سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یہ عمل دیکھ کر خاموشی اختیار فرماتے۔

    چنانچہ علامہ ابن عابدین شامی ردِ المحتار میں ذخیرہ سے ناقل ہے۔

    ”فان کانت الوسادۃ موضوعۃ علی الارض و کان یسجد علیھا جازت صلوٰتہ فقد صح ان ام سلمۃ کانت تسجد علی ارفقہ موضوعۃ بین یدیھا لعلۃ کانت بھا و لم یمنعھا رسول اللّٰہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من ذالک“۔

    (ردالمحتارص 538 ج 4 مطبوعہ شام)

    ترجمہ: اگر تکیہ زمین پر رکھا ہو اور معذور اس پر سجدہ کرے تو اس کی نماز جائز ہے کیونکہ یہ بات پایہءِ صحت کو پہنچی ہوئی ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنھا کسی عارضہ کی بنا پر اپنے سامنے رکھے ہوئے تکیہ پر سجدہ فرماتی تھیں اور رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے انہیں اس عمل سے نہیں روکا۔

    اس پوری بحث کا خلاصہ یہ امور ہیں۔ ٭ جو شخص کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا وہ بیٹھ کر رکوع و سجود کر کے نماز ادا کرے۔ ٭ جو شخص رکوع و سجود دونوں یا صرف سجود پر قادر نہیں وہ بھی بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع و سجود اشارے سے کرے اور سجدے میں رکوع سے زیادہ جھکے۔ ٭ رکوع و سجود سے قاصر آدمی اگر بلاتکلف زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے تو زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھے اور زمین پر نہیں بیٹھ سکتا تو کرسی یا بینچ پر نماز پڑھے اور کرسی یا بینچ پر نماز پڑھنے کی صورت میں سجدہ کے لیے میز، تختے یا بلند چیز کا سہارا نہ لے اور اگر اس نے ایسا کیا اور سجدہ میں رکوع سے زیادہ جھکا تو نماز درست ہے اگرچہ اس سے بچنا افضل ہے۔

    هذاماعندي والعلم عندالله

    والله تعالي اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    (خادم دارالافتاء جامعہ غوثیہ رضویہ (ٹرسٹ) سکھر( 8 صفر المظفر 1432 ہجری 13 جنوری 2011ء

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری