Question & Answer

  • کیا لفظ تلاق سے طلاق واقع ہوتی ہے؟؟؟

            کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان دو سوالوں کے بارے میں کہ:

    ماجد علی ولد معشوق علی بھٹو نے بہ ہوش و حواس اپنی بیوی کی طرف نسبت کرتے ہوئے اسکو  ان الفاظوں کے ساتھ تین طلاقیں دی کہ میں اسکو تلاق ،تلاق ، تلاق دیتا ہوں اب میرا اسکے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ۔

    طلاق نامہ سوال کے ساتھ لف ہے

    شرعی حکم سے آگا ہ فرمائیں۔

    السائل: سیدضمیر حسین شاہ

    گاؤں نصیر آباد بس اسٹینڈ سکھر

    03003110166

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    الجواب بعون الملک الوھاب

     

        صورت مسؤلہ میں برتقدیر صدقِ سائل ،ماجد علی کا اپنی بیوی کی طرف نسبت کرتے ہوئے تین مرتبہ کہنا کہ'' میں اسکو  تلاق، تلاق ،تلاق دیتا ہوں ''(جیسا کہ طلاق نامہ میں مذکور ہے ) سے انکی زوجہ پرتین طلاقیں مغلظہ واقع ہوگئیں جن کا حکم یہ ہے کہ ماجد علی کی بیوی  بنت ولی محمد بھٹی اپنے شوہر پر حرام ہوگئیں ۔ عدتِ طلاق مکمل کرنے کے بعد ماجد علی کے علاوہ جس سے چاہے  نکاح کرسکتی ہیں،اور ماجد علی سے حلالہ کے بعد نکاح  کرنا چاہیں تو نئے مہر  کیساتھ کرسکتی ہیں۔

    قرآنِ کریم میں ہے:

    فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فإن طلقها فلا جناح عليهما أن يتراجعا إن ظنا أن يقيما حدود الله وتلك حدود الله يبينها لقوم يعلمون

    پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں اگر سمجھتے ہوں کہ اللّٰہ کی حدیں نباہیں گے اوریہ اللّٰہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے ۔(البقرۃ ۲۳۰)

    فتاوی ہندیہ میں ہے:

    ان کان الطلاق ثلاثا ۔۔۔۔۔۔لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا

    (کتاب الطلاق الباب السادس،فصل فیما تحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ۱:۴۷۳،دارالفکر بیروت)

    فتاوی شامی میں ہے:

    (ویقع بہا) أی بہذہ الألفاظ وما بمعناہا من الصریح،ویدخل نحو طلاغ وتلاغ وطلاک وتلاک،ومنہ الألفاظ المصحفۃ وہی خمسۃ فزاد علی ما ہنا(تلاق)

    (رد المحتار، کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق ،ج:٩،ص:١٥٨،١٥٩،مطبوعہ ،شام)
     

          تصحیح وتصدیق                                                 واللہ تعالی اعلم بالصواب

    مفتی اعظم شیخ الحدیث                                                         کتبہ:جمیل احمدچنہ

    مفتی محمد ابراہیم القادری                         (عفی عنہ بمحمد ن  المصطفی ﷺ)

                رئیس دارالافتاء                                  الجامعۃ الغوثیۃ الرضویۃ بسکھر

    فی الجامعۃ الغوثیۃ الرضویۃ بسکھر    4/10/2015                              

     

     

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری