Question & Answer

  • عاق

       عاق کی شرعی حیثیت

                کیا فرماتے ہیں مفتیان شرعِ متین ان مسائل کے بارے میں کہ!
        
    عاق کی شرعی حیثیت کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟،کیا باپ کی حیاتی میں اسکی اولاد اسکی ملکیت کی وارث ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    السائل : پیر حکیم علی الدین نقشبندی،D-22غریب آباد سکھر

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    الجواب

    ہر شخص اپنی زندگی میں اپنے مال کا مالک ہے جو چاہے تصرف کرے لھذا آپ جب تک بقیدِ حیات ہیں آپکی جائیداد میں بشمول آپکے مذکور بیٹے کے کسی کا کوئی حصہ نہیں ۔
        عاق دو معانی میں مستعمل ہے(١)شرعی (٢)عرفی

        شرعی معنی یہ ہیں کہ اولاد والدین کی نافرمانی کرے ۔اور اس معنی کے تحقق میں والد ین کے عاق کرنے یا نہ کرنے کا کوئی دخل نہیں کہ جو بھی والدین کا نافرمان ہے وہ عنداللہ عاق ہے یعنی عاصی و مرتکبِ گناہِ کبیرہ ہے۔
        الغرض :۔۔۔۔۔۔باپ کے اولاد کو عاق کرنے سے اولاد وراثت سے محروم نہ ہوگی۔
    عرفی معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص اپنی اولاد کو بوجہ نافرمانی واثت سے محروم کردے جسکا کوئی اعتبار نہیں نہ ہی اس سے اولاد کا حقِ ارث باطل ہوگا بوجہ وراثت کے حقِ شرع ہونے کے جیساکہ اللہ عزاسمہ کا فرمان ہے:    یوصیکم اللہ فی اولادکم (سورۃ النساء :١١)
        
    نیز موانعِ ارث میں عاق مذکور نہیں کہ جسے شریعتِ مطہرہ نے بیان فرمایا ہو۔ البتہ اگر اولاد میں سے کوئی واقعی فاسق و نافرمان ہے اور والد اُسے میراث سے محروم کرنا چاہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ زندگی میں مرض الموت سے پہلے اپنی جائیداد کسی کہ ہبہ کرکے یا مصارفِ خیر میں وقف کرکے مکمل قبضہ دلاکر اپنی ملک سے خارج کردے ۔
         جیسا کہ بحرالرائق میں ہے:
        
    التسویۃ بین الذکر والأنثی فی الہبۃ ولو کان ولدہ فاسقا فأراد أن یصرف مالہ إلی وجوہ الخیر ویحرمہ عن المیراث ہذا خیر من ترکہ لأن فیہ إعانۃ علی المعصیۃ

    )البحرائق ،کتاب الھبۃ،ھبۃ الاب لطفلہ ،٧:٢٨٨، دارالکتاب الاسلامی(
        
    نیز باپ کی حیاتی میں اسکی اولاد اسکی ملکیت کی وارث نہیں ہوسکتی لھذا ۤپکے مذکور بیٹے کا آپ پر کیس کرنا شرعاً ناجائز ہے اور یہ آپکے مذکور بیٹے کی نالائقی ہے ۔نیز واضح رہے کہ وراثت کی تقسیم مرنے کے بعد ہے جسمیں اولاًتجہیز و تکفین ازان بعد قرض "اگر ہو"ازاں بعد ثُلث مابقی سے وصیت "اگر ہو" تو نافذ ہوتی ہے ازاں بعدترکہ کی تقسیم ہے جو کہ تمام ورثہ میں انکے حصص کے مطابق ہوگی۔
        جیساکہ فتاوی ھندیہ میں ہے:
        
    الترکۃ تتعلق بہا حقوق أربعۃ: جہاز المیت ودفنہ والدین والوصیۃ والمیراث۔فیبدأ أولا بجہازہ وکفنہ وما یحتاج إلیہ فی دفنہ بالمعروف،۔۔۔۔۔۔ ثم بالدین۔۔۔۔۔۔ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما یبقی بعد الکفن والدین۔۔۔۔۔۔ثم یقسم الباقی بین الورثۃ علی سہام المیراث۔
    (فتاوی ھندیہ ،کتاب الفرائض جلد#٦،صفحہ#٤٤٧،مطبوعہ :نورانی کتب خانہ پاکستان)

                 تصحیح وتصدیق                             واللہ تعالی اعلم بالصواب                     
         
    مفتی اعظم شیخ الحدیث                              حررہ:جمیل احمدچنہ (عفی عنہ)
        مفتی محمد ابراہیم القادری                            المتخصص فی الفقہ الاسلامی
           رئیس دارالافتاء                                  فی الجامعۃ الغوثیۃ الرضویۃ بسکھر   

    فی الجامعۃ الغوثیۃ الرضویۃ بسکھر  

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری