Question & Answer

  • کئی افراد کا مل کر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرنا

          السلام علیکم مفتی صاحب

          ہم تین بھائی اور ان کی بیگمات کے کل چھ حصے بنتے ہیں ، ہم تین بھائی اپنی رقم سے اپنی اور اپنی بیویوں کی طرف سے اور ایک حصہ جو اضافی ہے وہ سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے ملا کر قربانی کر رہے ہیں۔ جائز ہے یا نہیں؟ واضح رہے کہ سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے کئے جانے والے حصے میں ہم تینوں بھائی شریک ہیں۔

    محمد زبیر عطاری

    سکھر

    الـــــــــــــــــــــــــــــــجـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

           جائز ہے۔ البتہ اگر آپ لوگ ہر سال اپنی اہلیہ کی طرف سے قربانی کرتے ہیں جب تو صراحۃ اجازت کی ضرورت نہیں۔ ورنہ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنی اہلیہ سے اجازت لے لے ورنہ اہلیہ کا واجب اداء نہ ہو گا۔

           رد المحتار میں ہے:

           ولو ضحى عن أولاده الكبار وزوجته لا يجوز إلا بإذنهم .وعن الثاني أنه يجوز استحسانا بلا إذنهم بزازية .قال في الذخيرة : ولعله ذهب إلى أن العادة إذا جرت من الأب في كل سنة صار كالإذن منهم ، فإن كان على هذا الوجه فما استحسنه أبو يوسف مستحسن

           (رد المحتار ج۲۶ص۲۲۰)

           جد الممتار میں فرمایا:

           قولہ: فما استحسنہ اقول: بل ہو اذن توفیق وباللہ التوفیق۔

            (جد الممتار ج۶ص۴۴۸)

           نیز رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے قربانی بھی جائز ہے۔ حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجھہ الکریم دو مینڈھے ذبح کیا کرتے تھے ، ایک اپنی طرف سے اور دوسرا حضور سیدِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے ، جب حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجھہ سے اس بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

           أمرني به يعني النبي صلى الله عليه و سلم فلا أدعه أبدا

           مجھے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس کا حکم فرمایا ہے تو میں اس کو کبھی بھی ترک نہ کروں گا۔

           (جامع ترمذی حدیث 1495 ، سنن ابی داود حدیث 2792 ، مسند احمد بن حنبل حدیث 1278 ، 1285 ، مستدرک علی الصحیحین حدیث 7556 ، مسند ابی یعلی حدیث 459 ، فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل حدیث 1200 ، الکنی والاسماء للدولابی حدیث 1345)

           اور بعض روایات میں یوں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جوابا فرمایا:

           أمرنى أن أضحى عنه أبدا فأنا أضحى عنه أبدا

           یعنی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں ہمیشہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرتا رہوں تو میں ہمیشہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرتا رہوں گا۔

           (السنن الکبری للبیہقی حدیث 19661)

           واضح رہے کہ امام حاکم رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا اور امام ذہبی نے تلخٰص میں امام حاکم کی موافقت فرمائی۔

           رہی یہ بات کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے کیے جانے والے حصے میں آپ تین افراد شریک ہیں ، تو اس میں بھی کچھ حرج نہیں ۔ کیونکہ ایک سے زیادہ افراد مل کر کسی وصال شدہ کی طرف سے قربانی کر سکتے ہیں۔

           جامع صغیر اور اس کے بعد اکثر متون وشروح میں یہ جزئیہ موجود ہے:

           سبعة اشتروا بقرة ليضحوا بها فمات أحدهم قبل يوم النحر فقالت الورثة اذبحوها عنه وعنكم أجزاهم

           (جامع صغیر ص149)

           اور امام محمد رحمہ اللہ تعالی کا ’’الورثۃ‘‘ فرمانا صریح ہے کہ ایک سے زیادہ لوگ مل کر وصال شدہ کی طرف سے قربانی کر سکتے ہیں۔

    ھذا ما عندہ واللہ عز اسمہ اعلم

    وانا العبد الفقیر الی مولای الغنی

    ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری

    خطیب مکرانی مسجد سکھر

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری