Question & Answer

  • کیا نمازِ جنازہ کے بعد دعا کرنا حدیث سے ثابت ہے؟

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
            سوال:کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ نمازجنازہ کے بعد دعاء کرناحدیث سے ثابت ہے یانہیں؟؟؟

    الجـــــــوابـــــــــــ

            اللہ سبحانہ وتعالی نے جن وانس کواپنی عبادت کے لیے پیدافرمایا……قرآن عظیم میں فرمایا:
            وماخلقت الجن والانس الالیعبدون۔
            (الذاریات ۵۶)
            اورمیں نے جن وانس کوتواپنی عبادت کے لیے بنایا۔
            اوراللہ تعالی کی عبادت کے طریقوں میں سے ایک محبوب ترین طریقہ ”دعا“ہے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
            الدعاء مخ العبادۃ۔
            دعاعبادت کامغزہے۔
            (جامع الترمذی ۳۹۲۳، المعجم الاوسط للطبرانی رقم الحدیث ۴۲۳۳، الدعاء للطبرانی رقم الحدیث۵)
            بلکہ بعض احادیث طیبہ میں تویہاں تک فرمایاکہ:عبادت تودعاہی ہے……جیساکہ جناب نعمان بن بشیر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
            الدعاء ھوالعبادۃ۔
            دعاء ہی عبادت ہے۔
            (سنن ابی داودرقم الحدیث۴۶۲۱، جامع الترمذی رقم الحدیث ۵۹۸۲، ۰۷۱۳، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ۸۱۸۳، الدعاء للطبرانی رقم الحدیث ۱، ۲، ۳، ۴)
            (امام ترمذی نے اس حدیث سے متعلق فرمایا:حسن صحیح۔)
            یوں ہی جناب براء رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
            ان الدعاء ھوالعبادۃ۔
            بے شک دعاء ہی عبادت ہے۔
            (تاریخ بغدادج۵ص۶۵۳)
            اوراللہ سبحانہ وتعالی نے حضرت سیدناابراہیم خلیل اللہ علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلام کی، دعامیں کثرت کرنے پرمدح فرمائی، قرآن عظیم میں ہے:
            ان ابراہیم لاواہ حلیم۔
            بے شک ابراہیم ”اواہ“اورحلم والے ہیں۔
            (التوبۃ۴۱۱)
            اورحضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
            الاواہ الدعاء۔
            ”اواہ“کے معنی ہیں:دعاکی کثرت کرنے والا۔
            (جامع البیان للطبری ج۴۱ص۳۲۵)
            اورشایدیہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کے محبوب جناب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کثرت سے دعاکرنے کاحکم ارشاد فرمایا……حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
            اکثرواالدعاء۔
            دعاء کثرت سے کرو۔
            (صحیح مسلم رقم الحدیث۴۴۷، سنن ابی داود رقم الحدیث۱۴۷، سنن النسائی ۵۲۱۱، مسنداحمد۳۸۰۹)
            ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہافرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
            ان اللہ یحب الملحین فی الدعاء۔
            (نوادرالاصول ج۲ص۲۸۲)
            بے شک اللہ تعالی باربار دعاء کرنے والوں کومحبوب رکھتاہے۔
            لیکن نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج، بعض مسلمان کہلانے والے لوگ……جہاں اہلِ اسلام کو دیگر نیک کاموں سے منع کرتے، اوربدعت، گمراہی وغیرہ کا راگ الاپ کے اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کاقرب حاصل کرنے سے روکتے ہیں ……وہاں دعاء ایسی عبادت پربھی پابندی لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔فلاں وقت دعاکرناناجائزہے، نمازکے بعد اللہ تعالی سے مانگنابدعت ہے، نمازِجنازہ کے بعد اللہ سے سوال کرناگمراہی ہے……سبحنک ھذابھتان عظیم۔
    وہ کریم تواپنی کتاب میں بغیرکسی قید کے فرمائے:
            وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔
            اورتمہارے رب نے فرمایا:مجھ سے دعاکرومیں تمہاری دعاقبول کروں گا۔
            (غافر۶۰)
            اوراس کے حبیب کریم رؤف رحیم فرمائیں:
            اذاسأل احدکم فلیکثر فانہ یسأل ربہ۔
            جب تم میں سے کوئی دعاکرے توکثرت سے مانگے……کیونکہ وہ اپنے رب سے مانگ رہاہے۔
            (صحیح ابن حبان رقم الحدیث۰۹۸)
            لیکن یہ لوگ ہیں کہ سارے دلائل وبراہین سے آنکھیں میچ کرصرف ایک عذر لنگ پیش کرتے ہیں:نمازجنازہ بھی تودعاہے، پھربعد میں دعاکیوں مانگیں؟؟؟
            حیرت کی بات ہے……کیاایک بار جوعبادت کرلی جائے، اس کے بعد دوبارہ وہ عبادت کرناممنوع ہوجاتاہے؟؟؟حضرت عبداللہ بن مسعودفرماتے ہیں:
            وکان اذادعادعاثلاثا۔
            رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب دعافرماتے توتین باردعافرماتے تھے۔
            (صحیح مسلم رقم الحدیث۹۴۳۳)
            رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم توبارباردعاکریں، لیکن یہ دوبارہ دعاء سے بھی منع کریں ……اوراس کے باوجود اپنے آپ کوسنت کامتبع اورشریعت مطہرہ کا پابند بتائیں ……!!!
            مالکم کیف تحکمون؟؟؟
            نمازجنازہ کے بعددعاکرناقرآن، حدیث اورعملِ صحابہ، سب سے ثابت ہے۔قرآن عظیم میں فرمایا:
            فاذافرغت فانصب۔
            (الشرح۷)
            اورصحابیٔ رسول حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمااس کی تفسیرمیں فرماتے ہیں:
            اذافرغت من الصلاۃ فانصب فی الدعاء واسأل اللہ وارغب الیہ۔
            یعنی جب آپ نمازسے فارغ ہوجائیں تودعاء میں کوشش کریں اوراللہ تعالی سے مانگیں اوراس کی طرف متوجہ ہوں۔
            (جامع البیان للطبری ج۴۲ص۶۹۴، تفسیرابن ابی حاتم الرازی ج۲۱ص۷۲۴)
            اورجناب قتادۃ اس آیہئ مقدسہ کی تفسیرمیں فرماتے ہیں:
            امرہ اذافرغ من صلاتہ ان یبالغ فی الدعاء۔
            یعنی اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کوحکم دیاہے کہ:جب اپنی نمازسے فارغ ہوجائیں تودعاء میں مبالغہ کریں۔
            (جامع البیان للطبری ج۴۲ص۶۹۴)
            اس آیۂ مقدسہ سے ہرنمازکے بعد دعاء کاجائزہونا، بلکہ شرعامندوب ومطلوب ہوناثابت ہوتاہے۔اورواضح بات ہے کہ نمازجنازہ بھی تونمازہے، پھراس کے بعد دعاء ناجائزکیسے ہوجائے گی؟؟؟
            اوراگرکوئی کہے کہ نمازجنازہ نمازنہیں، یااس آیۂ مقدسہ سے نمازجنازہ مرادنہیں توہم اسے کہں گے:ھاتوابرھانکم ان کنتم صادقین۔فاذلم یأتوابالشھداء فاولئک عنداللہ ھم الکاذبون۔
            اللہ سبحانہ وتعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
            اذاصلیتم علی المیت فاخلصوالہ الدعاء۔
            جب میت پرنمازپڑھ چکوتواخلاص کے ساتھ اس کے لیے دعاء کرو۔
            (سنن ابی داودرقم الحدیث۴۸۷۲، سنن ابن ماجہ۶۸۴۱، السنن الکبری للبیہقی ج۴ص۰۴، صحیح ابن حبان رقم الحدیث۱۴۱۳، الدعاء للبطرانی رقم الحدیث ۷۰۱۱)
            اس حدیث میں ”فاخلصوا“ فرمایا……یعنی”فاء“لائی گئی……اورامام رازی”المحصول“میں اورامام عبیداللہ بن مسعودرحمہ اللہ تعالی ”التوضیح“میں رقمطرازہیں:
            الفاء للتعقیب۔
            فاء تعقیب کے لیے آتی ہے۔
            (المحصول ج۱ص۳۷۳، التوضیح ج۱ص۰۹۳)
            اور امام بدرالدین زرکشی ذکرفرماہیں:
            الاجماع علی ان الفاء للتعقیب۔
            (البحرالمحیط ج۳ص۷۹۱)
            یعنی فاء کے تعقیب کے لیے ہونے پراجماع ہے۔
            لہذاحدیث کاحاصل یہ ہوگاکہ:نمازجنازہ سے فارغ ہوکر میت کے لیے اخلاص سے دعاکرو۔
            مالکم لاتنطقون؟؟؟فلیأتوابحدیث مثلہ ان کانواصادقین!!!
            اورنہ صرف یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے نمازجنازہ کے بعددعاء کرنے کاحکم فرمایا……بلکہ نمازجنازہ کے بعد خود دعاء فرماتے بھی رہے۔امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
            کان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اذافرغ من دفن المیت وقف علیہ فقال استغفروالاخیکم وسلوالہ بالتثبیت فانہ الآن یسأل۔
            نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب میت کے دفن سے فارغ ہوجاتے تواس کی قبرپہ کھڑے ہوکرفرماتے:اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعاء کرو، اوراس کے لیے ثابت قدمی کاسوال کرو……کیونکہ اس سے اس وقت سوال کیاجارہاہے۔
            (سنن ابی داود رقم الحدیث ۴۰۸۲)
            اوردفن کے بعددعاء کرنا، نمازجنازہ کے بعد ہی ہوتاہے……پس نمازجنازہ کے بعدخودرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دعافرمائی۔بلکہ تدفین کی تکمیل سے پہلے……یعنی دوران تدفین دعاکرنابھی واردہواہے……جیساکہ مستدرک علی الصحیحین وغیرہ کی روایت کے کلمات ہیں:
            مررسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بجنازۃ عندقبروصاحبہ یدفن فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم استغفروالاخیکم سلوااللہ لہ التثبیب فانہ الآن یسأل۔
            جناب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قبرکے پاس رکھے ایک جِنازہ کے پاس سے گزرے جبکہ قبروالے کودفن کیاجارہاتھا……تورسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
            اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعاء مانگواوراللہ تعالی سے اس کے لیے ثابت قدمی کاسوال کروکیونکہ وہ ابھی سوال کیاجائے گا۔
            (مستدرک علی الصحیحین رقم الحدیث۰۲۳۱)
            امام حاکم نے اس حدیث کوصحیح قراردیاہے۔
            اورنمازجنازہ کے بعد، دفن کرنے سے پہلے بھی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دعاء فرمائی ہے……واقدی رحمہ اللہ تعالی نے جنگ مؤتۃ کے بیان میں روایت کیاہے:
            لماالتقی الناس بمؤتۃ جلس رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم علی المنبر وکشف لہ مابینہ وبین الشام فھوینظر الی معترکھم فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اخذ الرأیۃ زیدبن حارثۃ…………حتی استشھد فصلی علیہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فقال استغفروالہ فقد دخل الجنۃ وھویسعی۔ثم اخذ الرایۃ جعفر بن ابی طالب…………حتی استشھد فصلی علیہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ودعالہ ثم قال استغفروالاخیکم فانہ شھید، دخل الجنۃ فھویطیرفی الجنۃ بجناحین من یاقوت حیث یشاء من الجنۃ۔
            جب مؤتۃ میں جنگ شروع ہوئی تورسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم منبر اقدس پرجلوہ فرماہوئے اورآپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اورشام کے درمیان سے پردے ہٹا دئیے گئے……پس آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ان کے معرکہ کودیکھ رہے تھے۔پس رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:زیدبن حارثۃ نے جھنڈاپکڑا……یہاں تک کہ وہ شہیدکردئیے گئے تورسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان پرنمازپڑہی، پھر فرمایا:ان کے لیے مغفرت کی دعاکرو، پس تحقیق وہ جنت میں دوڑتے ہوئے داخل ہوئے۔ پھر جناب جعفر بن ابی طالب نے جھنڈاپکڑا…………یہاں تک کہ وہ شھیدکردئیے گئے تورسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان پرنمازپڑھی اوران کے لیے دعافرمائی۔ پھرفرمایا:اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعاکرو، کیونکہ وہ شھید ہیں، جنت میں داخل ہوگئے۔پس وہ جنت میں یاقوت کے دوپروں کے ساتھ جنت میں جہاں چاہتے ہیں اڑرہے ہیں۔
            (المغازی للواقدی ص۲۶۷)
            یہ حدیث واضح طورپرفرمارہی ہے کہ حضورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جناب زیدبن حارثہ کی نمازجنازہ اداء کرنے کے بعداپنے صحابہ کوان کے لیے دعائے مغفرت کاحکم فرمایا……یونہی جناب جعفربن ابی طالب کی نمازجنازہ کے بعد خودبھی دعاء فرمائی اورپھراپنے صحابہ کوان کے لیے مغفرت کی دعاکاحکم فرمایا۔وللہ الحمد۔
            جس طرح رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے نمازجنازہ کے بعددعاء فرمائی، یونہی صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے بھی نمازجنازہ کے بعددعاء کرنا مروی ہے……جناب سعیدبن مسیب رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
            حضرت ابن عمرفی جنازۃ فلماوضعھافی اللحد قال:بسم اللہ وفی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ، فلمااخذ فی تسویۃ اللبن علی اللحد قال اللھم اجرھامن الشیطان ومن عذاب القبراللھم جاف الارض عن جنبیہاوصعدروحھاولقھامنک رضوانا۔قلت:یاابن عمر اشئ سمعتہ من رسول اللہ ام قلتہ برأیک؟قال انی اذالقادرعلی القول بل شیئ سمعتہ من رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
            میں حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہماکے ساتھ ایک جنازہ میں حاضر ہوا۔پس جب آپ نے اسے لحدمیں رکھاتوآپ نے کہا:اللہ کے نام سے اوراللہ کی راہ میں اوررسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ملت پر۔پس جب لحدپرکچی اینٹیں برابرکرنے لگے توکہا:اے اللہ!اسے شیطان سے اورقبرکے عذاب سے پناہ عطافرما۔
            اے اللہ!زمین کواس کی دونوں کروٹوں سے جدافرما اوراس کی روح کواوپرپہنچااوراسے تیری خوشنودی عطافرما۔
            میں نے کہا:اے ابن عمر!یہ بات آپ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سنی ہے یاآپ نے اپنی رائے سے کہاہے؟
            آپ نے فرمایا:تب تومیں بہت کچھ کہہ سکتاہوں ……بلکہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سنا۔
            (ابن ماجہ رقم الحدیث۲۴۵۱)
            اس حدیث سے جہاں حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہ کاعمل معلوم ہوتاہے کہ آپ نے نمازجنازہ کے بعد، تدفین کی تکمیل سے پہلے میت کے لیے دعاء کی……وہاں یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ یہ عمل جناب عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہمانے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سیکھا……اوررسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے بھی نمازجنازہ کے بعد، اس کی تدفین کی تکمیل سے پہلے اس کے لیے دعافرمائی۔
            ابراہیم ہجری بتاتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی نے اپنی بیٹی کی نمازِ جنازہ کیسے اداء کی ، فرمایا:
            ثم کبر علیھا اربعا ثم قام بعد الرابعۃ قدر ما بین التکبیرتین یدعو۔
            یعنی حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی نے اپنی بیٹی کی نماز اداء کرتے ہوئے چار تکبیرات کہیں۔ پھر چوتھی تکبیر کے بعد اتنی دیر کھڑے ہو کر دعا میں مصروف رہے جتنا وقت دو تکبیروں کے درمیان ہوتا ہے۔
            یہ فعل کرنے کے بعد حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی نے فرمایا:
            کان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یصنع فی الجنازۃ ھکذا۔
            یعنی حضور سیدِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جنازہ میں یونہی کیا کرتے تھے۔۔۔۔۔!!!!
            (مسند احمد بن حنبل حدیث 19447)
            حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی کے کلمات تو استمرار پر دلالت کر رہے ہیں ، لیکن نہ جانے پھر کیوں بعض احباب کو اصرار ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کبھی بھی ایسا نہ کیا۔۔۔۔!!!!
            حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے……فرمایا:
            وضع عمربن الخطاب علی سریرہ فتکنفہ الناس یدعون ویثنون ویصلون علیہ قبل ان یرفع وانا فیھم۔
            جناب عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ کوآپ کی چارپائی پررکھاگیا تولوگ آپ کوگھیرے میں لے کر، چارپائی اٹھانے سے پہلے آپ کے لیے دعاء اورثناء کرنے لگ گئے اورمیں بھی ان دعاء کرنے والوں میں تھا۔
            (صحیح البخاری رقم الحدیث ۹۰۴۳، صحیح مسلم رقم الحدیث ۲۰۴۴)
            یہ حدیث توصاف دلالت کررہی ہے کہ صحابہئ کرام میں نمازجنازہ کے بعد……چارپائی اٹھانے سے پہلے دعاء کرنابھی رائج تھا، اوراسی لیے  وہ لوگ حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی چارپائی اٹھانے سے پہلے ان کے لیے دعاء وثناء میں مصروف رہے۔
            عمیربن سعید کہتے ہیں:
            صلیت مع علی علی یزید بن المکفف فکبرعلیہ اربعاثم مشی حتی اتاہ فقال:اللہم عبدک وابن عبدک نزل بک الیوم فاغفرلہ ذنبہ ووسع علیہ مدخلہ فانالانعلم منہ الاخیراوانت اعلم بہ۔
            میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی معیت میں یزید بن المکفف کی نمازجنازہ اداء کی توآپ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان پرچار تکبیریں کہیں، پھرچل کر ان کے قریب آئے اورکہا:اے اللہ!تیرابندہ اورتیرے بندے کابیٹاآج تیرے پاس حاضر ہواہے۔پس تواس کے گناہ کوبخش دے اوراس پراس کے مدخل کوکشادہ فرما، پس بے شک ہم اس سے بھلائی ہی جانتے ہیں اورتواسے زیادہ بہتر جاننے والاہے۔
            (المصنف لابن ابی شیبۃ ج۳ص۲۱۲)
            ابراہیم ہجری بتاتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی نے اپنی بیٹی کی نمازِ جنازہ کیسے اداء کی ، فرمایا:
            ثم کبر علیھا اربعا ثم قام بعد الرابعۃ قدر ما بین التکبیرتین یدعو۔
            یعنی حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی نے اپنی بیٹی کی نماز اداء کرتے ہوئے چار تکبیرات کہیں۔ پھر چوتھی تکبیر کے بعد اتنی دیر کھڑے ہو کر دعا میں مصروف رہے جتنا وقت دو تکبیروں کے درمیان ہوتا ہے۔
            یہ فعل کرنے کے بعد حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی نے فرمایا:
            کان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یصنع فی الجنازۃ ھکذا۔
            یعنی حضور سیدِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جنازہ میں یونہی کیا کرتے تھے۔۔۔۔۔!!!!
            (مسند احمد بن حنبل حدیث ۱۹۴۴۷)
            حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی کے کلمات تو استمرار پر دلالت کر رہے ہیں ، لیکن نہ جانے پھر کیوں بعض احباب کو اصرار ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کبھی بھی ایسا نہ کیا۔۔۔۔!!!!
            حضرت عبداللہ بن سلام سے متعلق مروی ہے کہ ان سے حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی نمازجنازہ فوت ہوگئی……پس جب وہ پہنچے توفرمایا:
            ان سبقتمونی بالصلاۃ علیہ فلاتسبقونی بالدعاء لہ۔
            (المبسوط ج۲ص۷۴۴، بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ج۳ص۶۸۲)
            اگرتم ان پرنمازمیں مجھ سے سبقت کرگئے ہوتوان کے لیے دعاء میں مجھ سے پہل مت کرو۔
            بلکہ بدائع الصنائع میں یہ روایت بھی موجود ہے کہ:
            رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک جنازہ پرنمازاداء فرمائی۔پس جب فارغ ہوئے توحضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ حاضر ہوئے اوران کے ساتھ کچھ اورلوگ بھی تھے توآپ نے دوبارہ نمازاداء کرنے کاارادہ کیاتونبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے نے ان سے فرمایا:
            الصلاۃ علی الجنازۃ لاتعاد ولکن ادع للمیت واستغفرلہ۔
            جنازہ پرنمازدہرائی نہیں جاتی……لیکن تم میت کے لیے دعااوراستغفارکرو۔
            (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع  ج۳ص۵۸۲)
            الحاصل:نمازجنازہ کے بعد میت کودفن کرنے کے بعد، تدفین کے دوران، اورتدفین سے پہلے……ہروقت دعاء کرنا قرآن، حدیث نبوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے فعلِ شریف، صحابہ کرام کے اقوال وافعال سے ثابت ہے……بلکہ تدفین کے بعد دعاء، جونمازجنازہ کے بعد ہی ہوتی ہے، سے متعلق توکثیراحادیث موجود ہیں۔اورامام ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں اس سے متعلق ایک مستقل باب باندھاہے۔لیکن اگراس کے باوجود کوئی یہی رٹ لگائے جائے کہ نمازجنازہ کے بعد دعاء کرناجائزنہیں، بدعت ہے، گمراہی ہے، اورلوگوں کواس سے روکنے کی کوشش میں لگارہے تواس کے لیے ہدایت کی دعاء ہی کی جاسکتی ہے……فان اللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔
    فقط۔
    واللہ تعالی اعلم۔
    مدرس:جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر۔
    ۱۹مارچ۲۰۰۹ ،  ۲۱ربیع الاول ۱۴۳۰ھ

    تنظیم الارشاد

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری