Question & Answer

  • مالکِ نصاب کی صرف اپنی اور بیوی کی طرف سے قربانی

          ایک شخص کی مالی حالت بہت اچھی ہے ، پراپرٹی ہے اور اچھا خاصا گولڈ بھی ہے ، اور کسی طرح کا قرض بھی ذمے نہیں۔ لیکن وہ صرف اپنی اور اپنی بیوی کی طرف سے قربانی کرتا ہے اور اولاد کی طرف سے قربانی نہیں کرتا۔ اولاد کے لیے کہتا ہے کہ وہ مالکِ نصاب نہیں۔ کیا اس کا ایسا کرنا درست ہے؟

    محمد نعمان قادری

    سوفٹ زون کمپیوٹر

    فیرئر روڈ سکھر

    الــــــــــــــــــــــــــجـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

          مالکِ نصاب پر قربانی اپنی طرف سے لازم ہے ، نہ تو بیوی کی طرف سے لازم ہے اور نہ ہی بالغ اولاد کی طرف سے۔ اور نہ ہی نابالغ اولاد کی طرف سے۔

          کنز الدقائق اور اس کے علاوہ متعدد متون وشروح میں ہے:

         تجب على حر مسلم موسر مقيم على نفسه لا عن طفله شاة أو سبع بدنة فجر يوم النحر إلى آخر أيامه ۔

          البتہ اگر نابالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرے تو درست ہے۔ اور بالغ اولاد اور بیوی کی طرف سے قربانی کے درست ہونے میں تفصیل ہے جو اس سے پہلے گزر چکی۔

          تفصیل ملاحظہ کریں۔

    واللہ عز اسمہ اعلم

    انا العبد الفقیر الی مولای الغنی

    ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری

    خطیب مکرانی مسجد سکھر

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری