Question & Answer

  • وصیت

    الاستفتاء

     جناب عالیٰ گزارش ہے کہ میرے شوہر کے تین لڑکے تھے اور ایک لڑکی۔ باپ کے مرنے کے بعد تینوں بیٹوں اور ایک بیٹی نے اپنا اپنا حصہ متروکہ ملکیت میں سے لے لیا تھا اور تینوں بیٹوں نے الگ الگ مکان بنا لیے تھے۔ میرا شوہر عبدالرحمن اچانک فالج گرنے سے فوت ہو گیا زندگی میں وہ کہا کرتے تھے کہ ہمارے اولاد نہیں ہے اگر میں پہلے مر گیا تو مکان دوکان مسجد کے نام کر دینا تو مر گئی تو میں کر دوں گا۔ لہٰذا متوفی شوہر کی وصیت کے مطابق مکان دوکان مسجد کے نام کرنا چاہتی ہوں۔ لہٰذا فتویٰ صادر فرمایا جائے۔ نوازش ہو گی۔

    عرضدار

    بیوہ عبدالرحمن

    الجواب بعون الملک الوھاب 

    اگر یہ مکان و دوکان کل ترکہءِ میت کا ایک تہائی یا کم ہیں تو وصیت نافذ ہے اور حسب وصیت مکان و دوکان مسجد کو دے دیں اور اگر تہائی سے زائد ہیں تو وصیت صرف تہائی میں نافذ ہے اور زائد میں وارثوں سے اجازت لینی ہو گی جو وارث اجازت دے دے اس کا حصہ شامل وصیت کیا جائے اور جو اجازت نہ دے اسے اس کا حصہ دیا جائے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    صدر مدرس جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 7 ربیع الاول 1404 ہجری

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری