Question & Answer

  • جادو

    الاستفتاء

    میری زوجہ کو ہر روز جادو (سفلی عمل)کروا دیا گیا ہے ایسا یقین کرنے کے لئے بہت سی شہادتیں بذریعہ روحانی علاج مجھے ملی ہیں۔یہ شہادتیں دورانِ علاج مختلف دینی وروحانی شخصیتوں سے مجھے ملی ہیں۔اس کے علاوہ ڈاکٹری وہومیو پیتھی علاج بھی تسلسل سے جاری رہا۔مگر میری زوجہ صحت یاب نہ ہو سکیں اور ایک ماہ پندرہ دن بیشتر انتقال فرما گئیں۔بوجہ مندرجہ بالا مسئلہ میں مجھے اسلامی و شرعی حدود کی روشنی میں درجہ بدرجہ جواب سے نصیحتیں فرمائیں تا کہ مجھے رہنمائی مل سکے۔

    (1)

    جادو کرنے اور کروانے والے کی دین ِاسلام میں حیثیت کا تعین قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں حوالہ جات کے ساتھ کر دیجئے۔

    (2)

    یہ جادو کرنے والی ایک رشتہ دار خاتون ہے۔اُسکا یہ عمل دین اسلام سے اخراج اور نکاح کے خاتمے کا موجب ہے یا نہیں۔

    (3)

    اس خاتون کا اپنی بہن کے ساتھ جادوگر کے پاس جانااکثر وبیشتر ہوتا رہتا ہے اُس نے اپنے شوہر کو بھی اندھا اور گمراہ کیا ہوا ہے گھر کے تمام افراد اُس عو رت کے شر سے محفوظ نہیں ہیں شوہر سے بھی جھوٹ بولتی ہے مکاری اور عیاری میں ملکہ حاصل ہے اُس کا یہ عمل کس زمرے میں آتا ہے۔

    (4)

    مجھے اس عور ت کے شر سے بچنے کے لئے کیا تدابیر اختیار کرنی چاہیے اور اُس عورت کا سدِّ باب کس طرح کیا جائے۔

    السائل

    محمدبلال

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    الجواب بعون الملک الوھاب

    جادو کا وجود قرآن و حدیث سے مبرہن ہے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا

    واتبعوا ما تتلو الشیطین علی ملک سلیمٰن وما کفر سلیمٰن ولکن الشیطین کفروا یعلّمون الناس السحر وما انزل علی الملکین ببابل ھاروت وماروت وما یعلّمٰن من احد حتی یقولا انما نحن فتنۃ فلا تکفر، فیتعلّمون منھما ما یفرّقون بہ بین المرء وزوجہ وما ھم بضارّین بہ من احد الا باذن اللہ ویتعلمون ما یضرّھم ولا ینفعھم لقد علموا لمن اشترٰہ ما لہ فی الآخرۃ من خلاق ولبئس ما شروا بہ انفسھم لو کانوایعلمون

    (سورہ بقرہ:۲۰۱)

    ترجمہ:انہوں نے (اس جادو کے کفریہ کلمات)کی پیروی کی جس کو سلیمان کے دور حکومت میں شیطان پڑھاکرتے تھے اورسلیمان نے کوئی کفرنہیں کیا البتہ شیاطین نے کفر کیا اور وہ لوگوں کو جادو (کے کفریہ کلمات)سکھاتے تھے۔اورانہوں نے اس جادو کی پیروی کی جو شہر بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتارا گیا۔اور وہ فرشتے اس وقت تک کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک کہ یہ نہ کہتے:ہم تو صرف آزمائش ہیں تم کفر نہ کرواور وہ ان سے وہ چیز سیکھتے جس کے ذریعے وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیا ن علیحدگی کر دیتے۔اوراللہ تعالی کے اذن کے بغیروہ کسی کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔اور وہ ان سے وہ چیز سیکھتے جو انہیں ضرر پہنچائے اور نفع نہ دے اور بے شک وہ خوب جانتے تھے کہ جس نے اس(جادو) کوخرید لیا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور وہ کیسی بری چیز تھی جس کے بدلے میں انہوں نے اپنے آپ کو فروخت کر دیا۔کاش کہ وہ جان لیتے۔

    علامہ بیضاوی لکھتے ہیں

    والمراد بالسحر ما یستعان فی تحصیلہ بالتقرب الی الشیطان مما لا یستقل بہ الانسان وذلک لایستتب الا لمن یناسبہ فی الشرارۃ وخبث النفس۔

    ترجمہ:جس کام کو انسان خود نہ کر سکے اور وہ شیطان کی مدد اور اس کے تقرب کے بغیر پورا نہ ہو اور اس کام کیلئے شیطان کے شر اور خبث نفس کیساتھ مناسبت ضروری ہواس کو سحرکہتے ہیں۔

    (انوار التنزیل:ص۱۷۳۔مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی کراچی)

    (۱)

    جا دو کرنا فی نفسہ حرام اور گناہ کبیرہ ہے صحیح بخاری میں ہے 

    عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال اجتنبو سبع الموبقات۔ قالوا: یا رسول اللہ ماھنّ؟قال الشرک باللہ والسحروقتل النفس التی حرم اللہ الابالحق واکل الربا واکل مال الیتیم والتولی یوم الزحف وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات

    (صحیح بخاری:۶۶۷۲)

    ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سات ہلاک کرنے والے کاموں سے بچو۔صحابہ نے پوچھا: یارسول اللہ!وہ کونسے کام ہیں؟آپ نے فرمایا:اللہ تعالی کیساتھ شریک ٹھہرانا،جادوکرنا،جس کو قتل کرنے سے اللہ تعالی نے منع کیا انہیں نا حق قتل کرنا،سود کھانا،یتیم کا مال کھانا،میدان جہاد سے پیتھ پھیر کر بھاگنا،مسلمان پاک دامن عورت کو زنا کی تہمت لگانا۔

    اور اگر جادو کے عمل (منتروں وغیرہ)میں شرکیہ اقوال وافعال ہوں توجا دو کرنا کفرہے جیسا کہ قرآن عظیم میں ہے

    ولکن الشیطین کفروا یعلمون السحر

    ۔لیکن شیطان کافرہوئے کہ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اگر جادو کفر کی حد تک پہنچا ہوتودنیامیں اس کی حد یہ ہے کہ بادشاہ اسلام اسے قتل کرا دے۔

    رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرمایا:”حد الساحر ضربۃ بالسیف“یعنی جادو گر کی سزا اسے تلوار سے قتل کر دینا ہے۔

    (سنن ترمذی:۰۶۴۱)

    اور آخرت میں اس کی سزا جہنم کا عذاب ہے۔ امام ابن ہمام حنفی فرماتے ہیں

    قال اصحابنا:للسحر حقیقۃ وتاثیر فی ایلام الاجسام خلافا لمن منع ذلک وقال انما ھی تخییل،وتعلیم السحر حرام بلا خلاف بین اہل العلم واعتقاد اباحتہ کفر۔

    سحر کی حقیقت ہے اور جسم کو تکلیف پہنچانے میں اس کی تاثیرہے،جادو کو سکھانابالاتفاق حرام ہے اس کی اباحت کا اعتقاد رکھنا کفرہے۔(فتح القدیر:ج۳۱ص۷۹۲،باب احکام المرتدین) علامہ شامی لکھتے ہیں 

    وَحَاصِلُہُ أَنَّہُ اخْتَارَ أَنَّہُ لَا یَکْفُرُ إلَّا إذَا اعْتَقَدَ مُکَفِّرًا، وَبِہِ جَزَمَ فِی النَّہْرِ، وَتَبِعَہُ الشَّارِحُ، وَأَنَّہُ یُقْتَلُ مُطْلَقًا إنْ عُرِفَ تَعَاطِیہِ لَہُ، وَیُؤَیِّدُہُ مَا فِی الْخَانِیَّۃِ: اتَّخَذَ لُعْبَۃً لِیُفَرِّقَ بَیْنَ الْمَرْء ِ وَزَوْجِہِ .قَالُوا: ہُوَ مُرْتَدٌّ وَیُقْتَلُ إنْ کَانَ یَعْتَقِدُ لَہَا أَثَرًا وَیَعْتَقِدُ التَّفْرِیقَ مِنْ اللُّعْبَۃِ لِأَنَّہُ کَافِرٌ . مِنْہُ وَیُقْتَلُ إذَا ثَبَتَ سِحْرُہُ دَفْعًا لِلضَّرَرِ عَنْ النَّاسِ .وَسَاحِرٌ یُسْحِرُ تَجْرِبَۃً وَلَا یَعْتَقِدُ بِہِ لَا یَکْفُرُ .قَالَ أَبُو حَنِیفَۃَ: السَّاحِرُ إذَا أَقَرَّ بِسِحْرِہِ أَوْ ثَبَتَ بِالْبَیِّنَۃِ یُقْتَلُ وَلَا یُسْتَتَابُ مِنْہُ، وَالْمُسْلِمُ وَالذِّمِّیُّ وَالْحُرُّ وَالْعَبْدُ فِیہِ سَوَاء ٌ . ترجمہ:خلاصہ یہ ہے کہ ساحر جب تک کسی کفریہ امر کا اعتقاد نہ کرے اس کی تکفیرنہیں کی جائے گی ”النہر الفائق“میں اسی پر اعتمادکیاہے اور علامہ حصکفی نے بھی اسی کی اتباع کی ہے اور ساحر کو مطلقا قتل کر دیا جائے گا۔فتاوی قاضی خاں میں ذکر کیا گیاہے کہ جو شخص کسی آدمی یا اس کی بیوی کے درمیان تفریق کیلئے کوئی عمل کرے وہ مرتدہے اسے قتل کر دیا جائے گا بشرطیکہ وہ تفریق میں اس عمل کی تا ثیر کا اعتقاد رکھتاہو،اور جو شخص لوگوں کو ضرر پہنچانے کیلئے سحر(جادو)کرتا ہو اسے قتل کر دیا جائے گا،اور جو جادوگر تجربہ کیلئے جادو کرتاہواور اس پر اعتقاد نہ رکھتاہو اسکی تکفیر نہیں کی جائے گی۔امام ابو حنیفہ نے فرمایا: جس شخص کا سحر کرنا اس کے اقرار یا گواہی سے ثابت ہو اس کو قتل کر دیا جائے گااور اس سے توبہ طلب نہیں کی جائے گی اس میں مسلمان ذمی آزاد،غلام سب برابر ہیں۔(حاشیہ ردالمحتار:جز۴ص:۶۲۴)

    (۲)

    جادو کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے بعض حد کفر تک پہنچی ہوتی ہیں اور بعض حد کفر تک نہیں پہنچی ہوتیں تو جب تک اس عورت کے جادو کی کیفیت معلوم نہ ہو جائے اس وقت تک وقوع طلاق کا کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

    (۳)

    اس خاتون کا جادو گر کے پاس جانا اور اہل خانہ کو ضرر پہنچاناحرام وناجائزہے وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے والی ہے۔اسے اپنے اس عمل سے توبہ کرنی چاہئے۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے آیات بینات اورکبیرہ گناہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا”لا تسحروا“ جادو نہ کرو۔

    (سنن ترمذی:۳۳۷۲)

    (۴)

    آپ نماز کی پابندی کریں اور بیری کے سات پتے جن میں سوراخ نہ ہوں لے کران میں سے ہر پتے پر تین باریہ آیت پڑھیں

    واتبعوا ما تتلو الشیطین علی ملک سلیمٰن وما کفر سلیمٰن ولکن الشیطین کفروا یعلمون الناس السحر وما یعلمٰن من احد حتی یقولا انما نحن فتنۃ فلا تکفر،فیتعلمون منھما ما یفرّقون بہ بین المرء وزوجہ وما ھم بضارّین بہ من احد الا باذن اللہ ویتعلمون ما یضرّھم ولا ینفعھم لقد علموا لمن اشتراہ ما لہ فی الآخرۃ من خلاق ولبئس ما شروا بہ انفسھم لو کانوایعلمون۔ ہر بار پڑھ کر دم کریں۔ اس طرح سات پتوں پر کل اکیس بار یہ آیت پڑھی جائے گی۔ ان پتوں کو پاک ہاتھوں سے توڑ کر پانی میں ڈالیں اور سات دن تک وہ پانی پیتے رہیں۔پانی کم ہونے پر اور پانی ملاتے رہیں۔یہ پانی مکان اور دکان پر بھی چھڑکیں انشاء اللہ شفاء ہوگی۔ یایہ آیت:فلما القواقال موسی ما جئتم بہ السحر،ان اللہ سیبطلہ ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین ویحق اللہ الحق بکلمٰتہ ولو کرہ المجرمون۔اول آخر درود شریف پڑھ کرسات مرتبہ اس آیت کو پڑھ کر چھری پر دم کرے اور چھری سے پانی کوتین بار کاٹ کر پی لیں۔اور اپنے اوپراوبستر اور گھر کو کونوں میں اس پانی کا چھڑکاؤ کریں انشاء اللہ فائدہ ہوگا۔

    ھذا ماعندی العلم عنداللہ

     محمد شہزاد خان

    جامعہ ربانیہ غوثیہ ماڈل کانی کراچی ۴۱۰۲/۲۱/ ۲۲بمطابق ۹۲ صفر ۷۳۴۱ھ

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری