Question & Answer

  • سودا کرکے بلاعذر اسے ختم کرنا

    الاستفتاء

     میں عبدالقدوس ساکن سکھر نے دو عدد پلاٹ میانی روڈ پر ڈاکٹر عبدالقدیر سے رُوبرو دلال دس لاکھ میں سودا کیا تھا۔ بیعانہ مبلغ 25 ہزار روپے ادا کیا۔ دوسرے دن ایک لاکھ پچیس ہزار دینے کا طے ہوا تھا۔ میں دینے گیا تو اس نے انکار کر دیا اور کہا کہ میں سودا کینسل کرتا ہوں۔سودا نہیں دیا بڑی مشکل سے بیعانہ واپس کیا۔ ایسے جھوٹے شخص کے لیے کتاب اور سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

    شکریہ

    عبدالقدوس

    الجواب بعون الملک الوھاب

    کسی شئی کا سودا کرنا پھر بلا عذر اسے ختم کرنا انسانی مروت کے خلاف ہے اور اخلاقی جرم ہے۔ ایسے شخص کو چاہیے کہ اپنے بھائی کو جسے اس نے مایوس کیا راضی کرے اور منا لے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس پر جبر بھی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ ایسے شخص کو بد اخلاق اور بے مروت کہیں گے۔ اس کی کوئی شرعی سزا نہیں جسے یہاں بیان کیا جائے اور نہ ہی کوئی شرعی سزا دینے والا ہے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    خادم جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 25 ربیع الثانی 1420 ہجری

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری