Question & Answer

  • رؤیۃ ہلال

    الاستفتاء

     کیا فرماتے ہیں علماء کرام فقہاء عظام اس مسئلہ میں کہ چاند دیکھنے کے بارہ میں ہلال کمیٹی اعلان کرتی ہے کہ چاند فلاں جگہ میں دیکھا گیا ہے لہٰذا عید منائی جائے یا روزہ رکھا جائے حالانکہ شرائط چاند دیکھنے کے بارے میں دو ہیں ایک شہادت رُوبرو اور دوسرا خبر مستفیض حالانکہ ریڈیو سے شہادت لینا قابل قبول نہیں کہ شہادت رُوبرو ہوتی ہے باقی خبر مستفیض وہ ہوتی ہے کہ دوسرے شہروں سے لوگوں کی زبان سے سنا جاوے کہ فلاں شہر میں چاند دیکھا گیا ہے یہ بھی ریڈیو کے ذریعے معلوم ہوتا ہے جو وہ آدمی ریڈیو کے ذریعہ فرماتا ہے دوسرے لوگوں نے جو چاند نہیں دیکھا تو اس خبر ریڈیو پر روزہ رکھیں یا عید کر دیں۔ بحکم کتاب اللہ و فقہ حنفی پر مع عبارات فتویٰ عنایت فرمائیں کہ آئندہ ہم لوگ اس فتویٰ پر عید منائیں یا روزہ رکھیں۔ عنداللہ ماجور ہوں گے۔

    الجواب بعون الملک الوھاب

    چیئرمین ہلال کمیٹی کا ریڈیو۔ ٹی وی اعلان شرعاً معتبر ہے جبکہ شرعی گواہوں نے اس کے حضور پیش ہو کر گواہی دی ہو ایسے اعلان پر روزہ رکھا جائے گا اور عید کی جائے گی۔ علما ء نے ثبوتِ رؤیت کے صاف طریقے بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک طریقہ لوگوں کا گولوں اور ڈھنڈروں کی آواز سننا بیان فرمایا ہے اور ظاہر ہے کہ ریڈیو۔ ٹی وی کے ذریعہ ثبوتِ رؤیت بہ نسبت گولوں کے زیادہ واضح ہے کہ وہاں تو محض مہمل آواز ہے صرف سے معلوم کیا جاتا ہے کہ چاند ہو گیا اور یہاں اعلان میں چاند ہونے پر صریح الدلالۃ الفاظ ہوتے ہیں بلکہ عالمگیری میں تصریح فرمائی کہ جو اعلان حکم حاکم سے ہو اس پر عمل کیا جائے گا جیسا کہ آگے فتاویٰ رضویہ سے آئے گا۔

    خبر منادی السلطان مقبول عدلا کان او فاسقا کذا فی جواھر الاخلاطی۔

    ترجمہ:بادشاہ کے منادی کی خبرمقبو ل ہے عادل ہو یا فاسق جواہر الاخلاطی میں یونہی ہے۔ رد المحتار میں ہے

    قلت والظاھر انہ یلزم اھل القری الصوم بسماع المدافع او رؤیۃ القنادیل من المصر لانہ علامۃ ظاہرۃ تفید غلبۃ الظن و غلبۃ الظن حجۃ موجبۃ للعمل کما صرحوا بہ و احتمال کون ذالک لغیر رمضان بعید اذلا یفعل مثل ذالک عادۃ فی لیلۃ الا لثبوت رمضان۔

    ردالمحتارص 125 ج 2) 

    ثبوتِ رؤیت کے اس طریقہ کو حضور سیدی اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز نے بھی ذکر فرمایا۔ ان کی عبارت ملخصاً یہ ہے۔ علامہ شامی نے توپیں سننے کو بھی حوالی شہر کے دیہات والوں کے واسطے دلائل ثبوت ہلال سے گنا…… پھر جہاں کی توپیں شرعاً قابل اعتماد ہوں ان پر عمل اہل دیہات ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ عند التحقیق خاص اس شہر والوں کو بھی ان پر اعتماد سے مضر نہیں کہ حاکم شرع کے حضور شہادتیں گزرنا اس کا ان پر حکم نافذ کرنا ہر شخص کہاں دیکھتا سنتا ہے۔ بحکم حاکم اسلام اعلانِ عام کے لیے ایسی ہی کوئی علامت معہودہ معروفہ قائم کی جاتی ہے جیسے توپوں کے فیر یا ڈھنڈورا وغیرہ۔ اقول یہیں سے ظاہر ہوا کہ ایسے اسلامی شہر میں منادی پر بھی عمل ہو گا حتیٰ کہ اس کی عدالت بھی شرط نہیں جبکہ معلوم ہو کہ بے حکم سلطانی ایسا اعلان نہیں ہو سکتا۔ عالمگیریہ میں ہے۔

    خیر منادی السلطان مقبول عدلا کان او فاسقاً۔ انتھی۔

    (فتاویٰ رضویہ ص 554 ج 4 مطبوعہ دارالعلوم امجدیہ مکتتبہ رضویہ کراچی)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    مفتی محمد ابراہیم القادری الرضوی غفرلہ

    صدر مدرس جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر 26 صفر المظفر 1404 ہجری جمعۃ المبارک

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری