Question & Answer

  • مسجد کی بالائی منزل پر اعتکاف کرنا

    الاستفتاء

    محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مؤدبانہ گزارش ہے کہ ہم چند مسائل سے دوچار ہیں ہمیں مندرجہ ذیل مسائل میں قرآن و حدیث کی روشنی میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔ 

     

     

     

     

     

     

     

     

     

     

     

     

     

    سوال1۔ ہم اس گلی میں جہاں پر کسی قسم کی بھی نماز نہیں ہوتی نہ ہو سکتی ہے، ایک چھت ڈال کر جو کہ مسجد کے ورانڈے کی چھت ہے مل جائے گی کیونکہ ورانڈے کا باہری پلر استعمال ہوگا اور ایک نیا پلر گلی میں تعمیر ہوگا اس پر نئی چھت ڈالی جائے۔ اس پر ہم معتکف حضرات کے لئے واش روم تعمیر کرنا چاہتے ہیں اس واش روم میں مسجد کی کوئی جگہ استعمال نہیں ہوگی نہ نچلی منزل کی اورنہ ہی بالائی منزل کی۔نچلی منزل میں بہت زیادہ حبس اور گرمی ہوتی ہے اور ہمارا علاقہ لوڈشیڈنگ سے بھی بہت زیادہ متاثر ہے اس لئے اس سال سے اعتکاف کیلئے بالائی منزل پر انتظام کرنے کا ارادہ ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں کیا ہمیں شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ہم اس نئی تعمیر شدہ چھت پر واش روم تعمیر کروالیں ؟

    السائل

    قاری محمد مجاہد اقبال

    امام وخطیب جامع مسجد رحمانیہ

    باؤٹ گوٹھ ملیر کراچی

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    اللھم اجعل لی النور والھدایہ

    جواب (۱):اگر گلی میں پلربنانے سے گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہواور واش روم کی صفائی کا خاص رکھا جائے تاکہ مسجد میں بدبو نہ آئے تو یہ واش روم بنانا جائز ہے۔ معتکفین کو مسجد کی بالائی منزل پر اعتکاف کرنا جائز ہے کیونکہ مسجد کی بالائی منزل کا حکم بھی مسجدہی کا ہے۔

    بحر الرائق میں ہے 

    وکرہ الوطء فوق المسجد وکذا البول التغوّط لانّ سطح المسجد لہ حکم المسجد

    (البحر الرائق جزء ۴/ص۶۷۱۔ عنایہ شرح ھدایہ جزء ۲/ ص۷۷۱)

    ترجمہ:مسجد (کی بالائی سطح)پروطی کرنا اور بول براز کرنا مکروہ ہے کیونکہ مسجد کی چھت کا حکم مسجد ہی کاحکم ہے۔ جب مسجدکی بالائی منزل کا حکم مسجد والا ہے تو بالائی منزل میں اعتکاف کرنا جائز ہوگا۔

    بحر الرائق میں ہے 

    الا تری انّ المعتکف لا یفسد اعتکافہ بالخروج الی سطح المسجد

    (البحر الرائق جز ۲۱/ص۲۲۲۔عنایہ شرح ھدایہ جزء ۷/ص۱۔درر الحکام شرح غر ر الاحکام۵/۲۰۲)

    ترجمہ: کیا تم نہیں دیکھتے کہ معتکف کے مسجد کی چھت کی طرف جانے سے اس کا اعتکاف نہیں ٹوٹتا۔

    فتاوی شيخ عبد الرزاق العفیفی میں ہے

    سئل الشیخ:ھل یصح الاعتکاف علی سطح المسجد ومنارتہ؟قال الشیخ رحمہ ا للہ تعالی یصح الاعتکاف فیہ وفی منارتہ اذا کان بابھا یفتح علی داخل المسجد۔

    (فتاوی شیخ عبد الرزاق العفیفی جزء ۱ ص۳۷۱)

    ترجمہ:شیخ عبد الرزاق عفیفی سیے سوال کیا گیا:کیامسجد کی چھت اور منارہ پر اعتکاف جائز ہے؟ آپ نے فرمایا:چھت پر اعتکاف جائز ہے اور منارہ میں (اعتکاف)اس وقت جائز ہو گا جب اس کا دروازہ مسجد کے اندر کھلتا ہو۔

    احکام المساجد فی الشریعۃ الاسلامیہ میں ہے

    اتفق العلماء رحمھم اللہ علی انّ سطح المسجد من المسجد یجوزالاعتکاف فیہ

    (احکام المساجد فی الشریعۃ الاسلامیہ جز۱ ص۷۵)

    ترجمہ: علماء رحمھم اللہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسجد کی چھت مسجد سے ہے اس میں اعتکاف جائز ہے۔

    المحیط البرھانی فی الفقہ میں ہے

    والمعتکف اذا صعد سطح المسجدلاینتقض اعتکافہ

    (المحیط البرھانی فی الفقہ جزء۰۱ ص ۵۱۱)

    ھذا ما عندی والعلم عند اللہ

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    محمد شہزاد خان

    جامعہ ربانیہ غوثیہ ماڈل کالونی

    اصحابی ٹاؤن ملیر کراچی

    ۴۱۰۲۔۵۔۴۲

     

     

     

     

     

Ask a Question

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری